وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہاؤسنگ سیکٹر میں اصلاحات اور شہری منصوبہ بندی سے متعلق اعلیٰ سطح کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں وفاقی وزراء، اعلیٰ حکام اور متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی اور تیزی سے پھیلتے شہری علاقوں کے باعث ہاؤسنگ کا مسئلہ سنگین ہوتا جا رہا ہے، اس لیے وقت کا تقاضا ہے کہ جدید اور مؤثر پالیسیوں کے ذریعے رہائشی شعبے کو منظم کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ کم آمدن والے خاندانوں کے لیے  سستے گھروں کے منصوبے متعارف کرائے جائیں تاکہ عام آدمی بھی اپنی ذاتی رہائش کا خواب پورا کر سکے۔ وزیراعظم نے کہا کہ نجی شعبے کی حوصلہ افزائی اور سرمایہ کاری کے فروغ سے ہاؤسنگ سیکٹر کو مزید فعال بنایا جائے گا۔

شہباز شریف نے کہا کہ بے ہنگم شہری پھیلاؤ کے باعث زرعی زمینوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے، اس لیے بڑے شہروں میں جدید ماسٹر پلاننگ اور ورٹیکل ایکسپینشن یعنی بلند عمارتوں کے رجحان کو فروغ دینا ضروری ہے تاکہ شہروں کو منظم انداز میں ترقی دی جا سکے۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ہاؤسنگ سیکٹر کے تمام معاملات کو ڈیجیٹل اور آٹومیٹڈ نظام کے تحت لایا جائے تاکہ شفافیت یقینی بنائی جا سکے اور عوام کو بہتر سہولیات فراہم ہوں۔

اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے حکام نے بتایا کہ ہاؤسنگ سیکٹر میں سرمایہ کاری بڑھانے کیلئے ریگولیٹری فریم ورک کو آسان اور مؤثر بنانے کی تجاویز زیر غور ہیں تاکہ معتبر سرمایہ کاروں اور ڈویلپرز کو سہولت فراہم کی جا سکے۔

بریفنگ میں یہ تجویز بھی پیش کی گئی کہ ہاؤسنگ اور ڈیولپمنٹ کے شعبے میں کام کرنے والی کمپنیوں اور افراد کی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) میں رجسٹریشن لازمی قرار دی جائے تاکہ شعبے کو مزید منظم اور شفاف بنایا جا سکے۔

مزید پڑھیں: ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی اور ممکنہ مذاکرات کے تناظر میں پاکستان کا کردار مسلسل متحرک ہے، دفتر خارجہ

اجلاس میں بڑے شہروں میں ماسٹر ٹاؤن پلاننگ، جدید انفراسٹرکچر، ٹریفک مینجمنٹ اور رہائشی منصوبوں کیلئے جامع حکمت عملی مرتب کرنے پر بھی غور کیا گیا۔

اس کے علاوہ ڈویلپرز، خریداروں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے حقوق کے تحفظ کیلئے ون ونڈو آپریشن متعارف کرانے کی تجویز بھی پیش کی گئی تاکہ تمام متعلقہ امور ایک ہی پلیٹ فارم سے انجام دیے جا سکیں۔

وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ان تمام تجاویز پر صوبائی حکومتوں سے مشاورت مکمل کی جائے تاکہ ملک بھر میں یکساں اور مؤثر ہاؤسنگ پالیسی نافذ کی جا سکے۔

اجلاس میں وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر ہاؤسنگ اینڈ ورکس میاں ریاض حسین پیرزادہ، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ، وزیر مملکت طلال چوہدری، بلال اظہر کیانی، چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نذیر احمد بٹ، اٹارنی جنرل منصور اعوان اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

واضح رہے کہ اگر حکومت ہاؤسنگ سیکٹر میں مجوزہ اصلاحات پر مؤثر انداز میں عملدرآمد کرتی ہے تو اس سے نہ صرف تعمیراتی صنعت کو فروغ ملے گا بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے اور کم آمدن والے طبقات کو بہتر رہائشی سہولیات میسر آسکیں گی۔