چینی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران تنازع کا جلد اور سفارتی حل نہ صرف امریکا اور ایران بلکہ پورے خطے اور عالمی برادری کے مفاد میں ہے۔ بیجنگ نے اس بات پر زور دیا کہ تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں اور مذاکرات و سفارت کاری کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوششیں تیز کی جائیں۔

چینی وزارتِ خارجہ کے مطابق موجودہ صورتحال عالمی امن، توانائی کی ترسیل اور خطے کے استحکام کے لیے خطرہ بن سکتی ہے، اسی لیے جلد از جلد ایک ایسی جنگ بندی ضروری ہے جو صرف عارضی نہ ہو بلکہ دیرپا اور مؤثر ثابت ہو۔

بیان میں کہا گیا کہ چین ہمیشہ سے تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات، سفارت کاری اور سیاسی بات چیت کی حمایت کرتا آیا ہے اور بیجنگ خطے میں استحکام کے قیام کے لیے تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔

وزارتِ خارجہ نے بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان بیجنگ میں ہونے والی اعلیٰ سطحی ملاقات میں ایران، عالمی سلامتی، تجارت اور علاقائی تنازعات سمیت کئی اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

دونوں رہنماؤں کے درمیان متعدد معاملات پر نئے اتفاقِ رائے طے پائے، جبکہ دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے تحفظات کو مناسب انداز میں حل کرنے اور بین الاقوامی و علاقائی امور پر رابطے اور تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔

چینی حکام کے مطابق اس ملاقات سے امریکا اور چین کے درمیان باہمی اعتماد، سفارتی رابطوں اور تفہیم میں مزید اضافہ ہوا ہے، جو مستقبل میں دوطرفہ تعلقات کے لیے مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ اپنی ملاقات کو انتہائی کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں رہنما اس بات پر متفق ہیں کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے چاہئیں۔

بیجنگ کے ژونگ نان ہائی کمپلیکس میں ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے اور شی جن پنگ نے ایران کی صورتحال، خطے کے امن اور آبنائے ہرمز کی اہمیت پر تفصیلی گفتگو کی۔

امریکی صدر کے مطابق دونوں ممالک اس بات پر یکساں سوچ رکھتے ہیں کہ آبنائے ہرمز کھلی رہنی چاہیے کیونکہ یہ عالمی معیشت اور توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم بحری راستہ ہے۔

مزید پڑھیں: امریکا اور چین کے تعلقات دنیا کے سب سے اہم دوطرفہ روابط ہیں: صدر ڈونلڈ ٹرمپ

صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا اور چین نے ایسے کئی پیچیدہ مسائل پر پیش رفت کی ہے جنہیں شاید دیگر عالمی طاقتیں حل نہ کر سکتیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے معاملے پر دونوں ممالک کے درمیان بہتر ہم آہنگی پیدا ہوئی ہے اور مستقبل میں بھی اہم عالمی معاملات پر تعاون جاری رکھا جائے گا۔

امریکی صدر نے اس موقع پر چین کے ساتھ ہونے والے تجارتی معاہدوں کو بھی “شاندار” قرار دیا اور کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعاون مزید مضبوط ہوگا۔

ٹرمپ کے مطابق امریکا اور چین عالمی معیشت میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے دونوں طاقتوں کے درمیان مثبت تعلقات دنیا کے استحکام کے لیے ضروری ہیں۔

مزید پڑھیں: امریکی حملوں نے ایران کے دفاعی نظام کو مفلوج کردیا، بڑے حملے کی صلاحیت بھی نہیں رہی: امریکی سینٹرل کمانڈ

یاد رہے کہ  ایران، آبنائے ہرمز اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر ٹرمپ اور شی جن پنگ کے بیانات انتہائی اہمیت رکھتے ہیں، کیونکہ حالیہ ہفتوں میں خطے میں کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

واضح رہے  کہ اگر امریکا اور چین ایران کے معاملے پر مشترکہ سفارتی حکمت عملی اختیار کرتے ہیں تو اس سے خطے میں ممکنہ تصادم کے خطرات کم ہو سکتے ہیں، جبکہ عالمی سطح پر بھی اس پیش رفت کو مثبت اشارہ تصور کیا جا رہا ہے۔