ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق صدر پیزشکیان نے اپنے پیغام میں پوپ لیو کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں پر جس انداز میں آواز اٹھائی، وہ بین الاقوامی انصاف اور انسانی اقدار کے مطابق ہے۔

ایرانی صدر نے کہا کہ امریکا نے جھوٹے جواز اور اسرائیل کی حمایت میں ایران کے خلاف کارروائیاں کیں، جو بین الاقوامی قوانین اور سفارتی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ ان کے مطابق یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے جب ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات جاری تھے، جس سے امن عمل کو شدید نقصان پہنچا۔

مسعود پیزشکیان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر بھی سخت ردعمل دیا جس میں ایران کی تہذیب کو “پتھر کے زمانے میں واپس بھیجنے” کی بات کی گئی تھی۔ ایرانی صدر نے اس بیان کو “انتہائی خطرناک، اشتعال انگیز اور غیر ذمہ دارانہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس قسم کی زبان عالمی امن کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی پالیسیاں صرف ایران ہی نہیں بلکہ عالمی انسانی اقدار، بین الاقوامی قانون اور مذہبی تعلیمات کے لیے بھی خطرہ بنتی جا رہی ہیں،طاقت کے استعمال اور دھمکیوں کے ذریعے مسائل حل کرنے کی سوچ دنیا کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیل رہی ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان کو دنیا میں تنہا کرنے کی کوشش میں انڈیا خود اکیلا ہو رہا ہے : سابق سربراہ  را 

ایرانی صدر نے زور دیا کہ عالمی برادری کو جنگی پالیسیوں کے بجائے سفارت کاری، مذاکرات اور انصاف کے اصولوں کو فروغ دینا چاہیے، پوپ لیو کی جانب سے سامنے آنے والا بیان اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا میں اب بھی ایسی آوازیں موجود ہیں جو طاقت کے بجائے انسانیت اور انصاف کی بات کرتی ہیں۔

واضح رہے کہ  ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے بعد عالمی مذہبی و سیاسی شخصیات کے بیانات خطے کی صورتحال پر اثرانداز ہو سکتے ہیں، جبکہ پوپ لیو کا مؤقف مغربی دنیا میں بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔