برطانوی میڈیا  کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی رابطے نہ صرف کامیاب ہوں گے بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں مستقل امن کی راہ بھی ہموار کریں گے،  پاکستان نے ہمیشہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی پالیسی اپنائی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ عالمی برادری پاکستان کو ایک ذمہ دار اور قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر دیکھ رہی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ “یہ پاکستان کی سفارتی تاریخ کا ایک اہم اور قابلِ فخر لمحہ ہے۔ دنیا آج پاکستان کی بات سن رہی ہے اور عالمی قیادت کو پاکستان کی نیت، کردار اور سفارتی صلاحیت پر مکمل اعتماد حاصل ہے۔”

انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی جغرافیائی اہمیت، متوازن خارجہ پالیسی اور خطے کے ممالک کے ساتھ مضبوط تعلقات کی وجہ سے عالمی سطح پر منفرد حیثیت رکھتا ہے، ایران، امریکا اور خلیجی ممالک پاکستان کو ایک ایسے ملک کے طور پر دیکھتے ہیں جو کشیدگی کم کرنے اور اعتماد سازی میں مثبت کردار ادا کرسکتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی ایران کے ساتھ طویل سرحد اور آبنائے ہرمز کے قریب واقع بندرگاہیں عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہیں۔ اگر خطے میں کشیدگی بڑھتی ہے تو اس کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت پر بھی مرتب ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ اسلام آباد میں ممکنہ مذاکراتی دور کے لیے سفارتی سطح پر رابطے جاری ہیں اور پاکستان پوری دیانت داری کے ساتھ امن کی کوششوں میں مصروف ہے،“امن کا قیام آسان کام نہیں، اس کے لیے تحمل، بردباری، دانشمندانہ فیصلوں اور مستقل مزاجی کی ضرورت ہوتی ہے، تاہم ہم پرامید ہیں کہ مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔”

شہباز شریف نے مذاکراتی عمل میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کردار کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پسِ پردہ اہم سفارتی کاوشیں کیں اور ان کی خدمات کو تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔ وزیراعظم نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی سفارتی سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مختلف عالمی دارالحکومتوں میں مسلسل رابطے کیے تاکہ خطے میں امن کی فضا قائم رہے۔

وزیراعظم نے گزشتہ برس پاک بھارت کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جنوبی ایشیا ایک خطرناک صورتحال سے دوچار تھا اور اگر عالمی طاقتوں، خصوصاً امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بروقت مداخلت نہ کی ہوتی تو حالات مزید سنگین ہوسکتے تھے۔

مزید پڑھیں: لوئر دیر: حافظ نعیم الرحمان کا جلسہ عام سے خطاب، عید کے بعد اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان

دوسری جانب وزیراعظم نے دہشتگردی کے خلاف جنگ پر بھی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک مرتبہ پھر دہشتگردی کی نئی لہر کا سامنا کر رہا ہے، کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بی ایل اے اور دیگر شدت پسند تنظیمیں ملک میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان کی عبوری حکومت کو بارہا یہ پیغام دیا ہے کہ دونوں ممالک کو اچھے ہمسایوں کی طرح امن اور تعاون کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے، تاہم افغان سرزمین کا دہشتگرد تنظیموں کے لیے استعمال کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے حالیہ واقعات میں معصوم شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کی شہادتیں پوری قوم کے لیے باعثِ افسوس ہیں، لیکن پاکستان دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے اپنے عزم پر قائم ہے اور ریاست دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم نے ماضی میں بھی دہشتگردی کے خلاف بے مثال قربانیاں دی ہیں اور اب بھی ملک کے امن و استحکام کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔