درخواست ایڈووکیٹ عمران شفیق کے ذریعے دائر کی گئی ہے، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پیٹرولیم لیوی موجودہ شکل میں آئینِ پاکستان، پارلیمانی بالادستی، وفاقی نظام، بنیادی حقوق اور قانون کی حکمرانی کے اصولوں سے متصادم ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ پیٹرولیم لیوی اب محض ایک ریگولیٹری سرچارج نہیں رہی بلکہ یہ وفاقی حکومت کے لیے آمدن کا سب سے بڑا ذریعہ بن چکی ہے، جسے پارلیمانی منظوری کے بجائے مسلسل ایگزیکٹو نوٹیفکیشنز اور ایس آر اوز کے ذریعے چلایا جا رہا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان کی جانب سے دائر درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ پیٹرول پر لیوی کی موجودہ سطح تقریباً 117.41 روپے فی لیٹر تک پہنچ چکی ہے، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح قرار دی جا رہی ہے۔ درخواست کے مطابق یہ رقم پیٹرول کی بنیادی قیمت کا تقریباً 42 سے 43 فیصد بنتی ہے، جبکہ اس کے علاوہ دیگر ٹیکسز بھی عوام سے وصول کیے جا رہے ہیں۔
درخواست میں مزید بتایا گیا ہے کہ مالی سال 2025-26 میں صرف پیٹرولیم لیوی کی مد میں تقریباً 1.47 ٹریلین روپے وصول کیے جانے کا تخمینہ ہے، جو وفاقی بجٹ کا تقریباً 8.3 فیصد بنتا ہے۔ دستاویز کے مطابق اب تک مجموعی وصولیاں 6.3 ٹریلین روپے سے تجاوز کر چکی ہیں۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس بھاری مالی بوجھ کے باعث ٹرانسپورٹ، زراعت، صنعت، بجلی کی پیداوار، خوراک اور روزمرہ زندگی کی لاگت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کا براہ راست اثر عام شہری کی زندگی پر پڑ رہا ہے۔
درخواست میں فنانس ایکٹ 2025 پر بھی اعتراض اٹھایا گیا ہے، جس کے تحت حکومت نے پیٹرولیم لیوی کی قانونی حد ختم کر دی ہے۔ مؤقف کے مطابق ماضی میں اس لیوی کی حد پارلیمنٹ سالانہ بنیادوں پر طے کرتی تھی، تاہم اب یہ اختیار عملاً ایگزیکٹو کو منتقل ہو چکا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے اپنی درخواست میں مؤقف اپنایا ہے کہ حکومت اس وصولی کو ’’لیوی‘‘ کا نام دے رہی ہے، تاہم عملی طور پر یہ ایک مکمل ٹیکس کی شکل اختیار کر چکی ہے، جو عوام سے جبری طور پر وصول کیا جا رہا ہے جبکہ اس کے بدلے میں کوئی براہِ راست سہولت فراہم نہیں کی جا رہی۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد میں امریکا ایران مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے کوششیں جاری ہیں، وزیراعظم شہباز شریف
درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حکومت نے ’’ٹیکس‘‘ کو ’’پیٹرولیم لیوی‘‘ کا نام دے کر آئینی تقاضوں اور پارلیمانی نگرانی سے بچنے کی کوشش کی ہے، جس کے نتیجے میں وفاقی و صوبائی مالیاتی توازن متاثر ہو رہا ہے۔
عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ پیٹرولیم لیوی کو آئین سے متصادم قرار دیتے ہوئے کالعدم کیا جائے، فنانس ایکٹ 2025 کی متعلقہ شقوں کو بھی غیر قانونی قرار دیا جائے، اور حکومت کو لیوی کی وصولی و استعمال کی مکمل تفصیلات عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا جائے۔
مزید استدعا کی گئی ہے کہ وفاقی حکومت کو ایگزیکٹو نوٹیفکیشنز اور ایس آر اوز کے ذریعے عوام پر غیر محدود مالی بوجھ ڈالنے سے روکا جائے، جبکہ پیٹرولیم لیوی پر پارلیمانی نگرانی اور قانونی حدود کو دوبارہ بحال کیا جائے۔
واضح رہے کہ یہ کیس حکومت کی مالی پالیسیوں اور ٹیکس نظام پر ایک اہم قانونی امتحان ثابت ہو سکتا ہے، جس کے اثرات مستقبل کی معاشی حکمت عملی پر بھی مرتب ہونے کا امکان ہے۔







