ایرانی میڈیا کے مطابق صدر پزشکیان نے امیر حاتمی سے ملاقات کے دوران ایران کی مسلح افواج، بالخصوص ایرانی فوج کی حالیہ کشیدگی کے دوران کارکردگی، بہادری اور قربانیوں کو سراہا۔
صدر پزشکیان نے کہا کہ امریکی اور اسرائیلی اتحاد کی جانب سے ایران کے خلاف کی گئی جارحیت کے دوران ایرانی افواج نے فیصلہ کن، ذہین اور دشمن کو روکنے والی حکمت عملی کا مظاہرہ کیا، جس کے باعث دشمن اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی مسلح افواج، خصوصاً عوامی اور انقلابی فوج، نے اعلیٰ آپریشنل تیاری، انٹیلی جنس برتری، مؤثر کمانڈ اور جنگی صلاحیتوں کے ذریعے ملکی دفاعی طاقت کا بھرپور مظاہرہ کیا۔
ایرانی صدر نے قومی اتحاد، دفاعی تیاری اور فوجی طاقت کو ملک کے امن و استحکام کے لیے بنیادی ستون قرار دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ علاقائی صورتحال میں مسلح افواج کا کردار انتہائی اہم اور اسٹریٹجک حیثیت رکھتا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت دفاعی انفراسٹرکچر، جدید آلات، لاجسٹک سپورٹ اور جنگی تیاریوں کو مزید بہتر بنانے کے تمام منصوبوں کی مکمل پشت پناہی کرے گی تاکہ ایران کی دفاعی صلاحیت اور روک تھام کی طاقت میں اضافہ کیا جاسکے۔
اس موقع پر میجر جنرل امیر حاتمی نے صدر کو فوج کی تازہ آپریشنل صورتحال، دفاعی اقدامات اور دشمن کی نقل و حرکت کے خلاف کارروائیوں پر بریفنگ دی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کی فوج مختلف محاذوں پر مکمل طور پر ہائی الرٹ ہے اور کسی بھی خطرے، جارحیت یا مہم جوئی کا فیصلہ کن اور پشیمان کن جواب دینے کے لیے تیار ہے۔
مزید پڑھیں: غزہ فلوٹیلا کارکنوں کی تذلیل پر اٹلی کا اسرائیلی وزیر ایتامار بن گویر پر یورپی پابندیوں کا مطالبہ
میجر جنرل حاتمی نے مزید کہا کہ جنگ بندی کے دوران فوجی یونٹس کی تنظیمِ نو، جنگی صلاحیتوں میں اضافے اور مختلف افواج کے درمیان رابطوں کو مزید مضبوط بنایا گیا ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایرانی افواج ملکی سلامتی، خودمختاری، قومی وقار اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گی۔







