سنگاپور میں ایشیا کے دفاعی رہنماؤں، سفارت کاروں اور عسکری حکام کے بڑے فورم “شانگری لا ڈائیلاگ” سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ کے پاس ایسے فوجی وسائل اور صلاحیت موجود ہے جو ضرورت پڑنے پر کسی بھی وقت استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ ان کے مطابق “اگر ضرورت پڑی تو ہم کارروائی دوبارہ شروع کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں”۔
پیٹ ہیگستھ نے دعویٰ کیا کہ امریکہ نہ صرف ایران کے معاملے میں بلکہ عالمی سطح پر بھی بیک وقت کئی محاذوں پر کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس کے لیے دفاعی صنعتی پیداوار کو تیزی سے بڑھایا جا رہا ہے۔
انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایک ایسا معاہدہ چاہتے ہیں جو ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکے، اور اس مقصد کے لیے مذاکرات کو موقع دیا جا رہا ہے۔
ان کے مطابق امریکہ اپریل میں ہونے والی جنگ بندی کو مزید 60 دن تک بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ مستقل حل تک پہنچا جا سکے، تاہم اگر معاہدہ ناکام ہوا تو فوجی آپشن میز پر موجود ہے۔
ہیگستھ نے خطے میں چین کے کردار پر بھی سخت مؤقف اختیار کیا اور ایشیائی اتحادیوں کو خبردار کیا کہ انہیں اپنے دفاعی اخراجات بڑھانے ہوں گے تاکہ چین کی بڑھتی ہوئی عسکری طاقت کا مقابلہ کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ “بحرالکاہل میں طاقت کا توازن کسی ایک ملک کے حق میں نہیں جھکنا چاہیے”۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مضبوط تعلقات چاہتا ہے، لیکن اب یہ پالیسی ختم ہو چکی ہے کہ امریکہ دوسروں کے دفاع کا مکمل بوجھ اٹھائے۔ ان کے مطابق ہر ملک کو اپنی سلامتی میں برابر کا حصہ ڈالنا ہوگا۔






