مختلف اضلاع میں ووٹرز کی بڑی تعداد پولنگ اسٹیشنز کا رخ کر رہی ہے اور انتخابی عمل کے حوالے سے عوام میں جوش و خروش دیکھنے میں آ رہا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق گلگت بلتستان بھر میں 1389 پولنگ اسٹیشنز اور 2450 پولنگ بوتھ قائم کیے گئے ہیں، جب کہ 9 لاکھ 58 ہزار 480 سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے۔ مجموعی طور پر 404 امیدوار میدان میں ہیں جن میں 396 مرد اور 8 خواتین شامل ہیں۔
پیپلز پارٹی کے 23، مسلم لیگ (ن) کے 22، استحکامِ پاکستان پارٹی کے 15، پاکستان مسلم لیگ کے 11 اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے 9 امیدوار انتخابی دوڑ میں شامل ہیں، جب کہ 266 آزاد امیدوار بھی قسمت آزما رہے ہیں۔
الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ 349 پولنگ اسٹیشنز حساس اور 551 انتہائی حساس قرار دیے گئے ہیں۔
انتخابات کے پرامن انعقاد کے لیے سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں، مقامی پولیس، گلگت بلتستان اسکاؤٹس اور پنجاب پولیس کی نفری تعینات ہے، جب کہ مختلف حلقوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فلیگ مارچ بھی کیا۔
انتخابی میدان میں کئی حلقوں میں سخت مقابلوں کی توقع کی جا رہی ہے۔ جی بی اے-1 گلگت میں پیپلز پارٹی کے امجد حسین، مسلم لیگ (ن) کے شفیق الدین، استحکامِ پاکستان پارٹی کے سلطان رئیس اور آزاد امیدوار آصف عثمانی کے درمیان کانٹے دار مقابلہ متوقع ہے۔
جی بی اے-2 گلگت میں مسلم لیگ (ن) کے حافظ حفیظ الرحمٰن، پیپلز پارٹی کے جمیل احمد، آئی پی پی کے فتح اللہ اور آزاد امیدوار عتیق پیرزادہ اہم امیدواروں میں شامل ہیں۔
اسی طرح جی بی اے-18 دیامر میں سابق وزیراعلیٰ گلگت بلتستان اور آئی پی پی کے امیدوار گلبر خان کا مقابلہ مسلم لیگ (ن) کے کفایت الرحمٰن سے متوقع ہے۔
مزید پڑھیں: کاکروچ جنتا پارٹی کا جنتا منتر پر احتجاج، وزیر تعلیم کے استعفے کا مطالبہ
جی بی اے-19 غذر میں آزاد امیدوار نواز خان ناجی، پیپلز پارٹی کے جلال شاہ اور مسلم لیگ (ن) کے ظفر محمد کے درمیان سخت مقابلے کی توقع ہے۔
جی بی اے-13 استور میں آزاد امیدوار شاہدہ خورشید، مسلم لیگ (ن) کے رانا فرمان علی اور پیپلز پارٹی کے فہد حنیف اہم امیدواروں میں شامل ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور آزاد امیدواروں کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے، جب کہ پولنگ کے اختتام کے بعد غیر سرکاری نتائج کا سلسلہ شروع ہوگا اور گلگت بلتستان میں آئندہ حکومت کی تشکیل کی تصویر واضح ہونا شروع ہو جائے گی۔






