رپورٹس کے مطابق دہلی پولیس نے احتجاج کی اجازت دے دی تھی، جس کے بعد مظاہرین جنتا منتر پر جمع ہونا شروع ہوئے۔ تحریک کے بانی ابھیجیت دیپکے امریکا سے نئی دہلی کے اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ ٹرمینل 3 پہنچنے کے بعد احتجاج میں شریک ہوئے۔
پولیس نے احتجاج کے پیش نظر اہم شخصیات کی رہائش گاہوں کے باہر سیکیورٹی میں اضافہ کر دیا، جن میں وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ اور وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان شامل ہیں۔
دہلی ہائی کورٹ نے ایک مفاد عامہ کی درخواست پر فوری سماعت سے انکار کرتے ہوئے احتجاج کے حوالے سے حفاظتی اقدامات کی استدعا مسترد کر دی تھی۔
کاکروچ جنتا پارٹی ایک طنزیہ آن لائن تحریک کے طور پر سامنے آئی تھی، جو انڈیا کے چیف جسٹس سوریا کانت کے ایک ریمارک کے بعد شروع ہوئی، جس میں انہوں نے بے روزگار نوجوانوں کے ایک طبقے کو کاکروچ سے تشبیہ دی تھی۔
اس بیان کے بعد یہ آن لائن تحریک تیزی سے مقبول ہوئی اور ایک غیر رسمی سیاسی تحریک کی شکل اختیار کر گئی۔
You can hack and withhold the accounts but you cannot hack this movement.
— Abhijeet Dipke (@abhijeet_dipke) May 23, 2026
We are not going to stop and we will keep raising our voice against this autocracy. Every attack makes cockroaches stronger.
We are working on a plan to get this movement to continue sustainably and take… pic.twitter.com/35mJ3hCBQo
تحریک کے بانی ابھیجیت دیپکے نے انسٹاگرام لائیو کے دوران اپنے حامیوں سے پرامن رہنے کی اپیل کی اور کہا کہ وہ احتجاج میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کریں اور کسی بھی غلطی سے گریز کریں۔
دیپکے نے یہ بھی کہا کہ مظاہرین اپنی خدمات کے اعتراف میں پولیس اہلکاروں کو پھول پیش کریں اور احتجاج پرامن انداز میں کیا جائے، کیونکہ یہ ان کی پہلی بڑی عوامی سرگرمی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دیپکے کو اندرا گاندھی ایئرپورٹ سے باہر آتے ہوئے ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کی کتاب مائی آٹوبائیوگرافی کے ساتھ دیکھا گیا۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا کہ حکومت ان کی تنظیم کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے، جب کہ آن لائن تحریک نے لاکھوں افراد کی حمایت حاصل کی ہے۔
سی جے پی کی ویب سائٹ بھی حال ہی میں بند کر دی گئی، جس پر تنظیم نے الزام عائد کیا کہ یہ حکومتی کارروائی ہے۔ تحریک کے مطابق ان کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی رکاوٹیں ڈالی گئیں، جب کہ بانی کو دھمکیوں کا سامنا بھی رہا۔
ابھیجیت دیپکے کا کہنا ہے کہ یہ تحریک طنز کے طور پر شروع ہوئی تھی لیکن اب یہ نوجوانوں کے مسائل کو اجاگر کرنے کی ایک بڑی آواز بنتی جا رہی ہے۔
خیال رہے کہ حکومتی سطح پر ان الزامات اور دعوؤں کی تاحال تصدیق نہیں ہو سکی۔






