نیویارک میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو سے  بہت اچھی بات چیت  ہوئی ہے، جس کے بعد صورتحال نسبتاً پرسکون ہونے کی توقع ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیتن یاہو پر حملہ ہوا، انہوں نے جواب دیا اور میں اس پر انہیں موردِ الزام نہیں ٹھہرا سکتا۔ لیکن اب دونوں جانب سے کارروائیاں رک گئی ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ وہ کم از کم ایک ہفتے تک ایک دوسرے کو تنہا چھوڑ دیں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کے حوالے سے بھی اہم اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن ایک ایسے معاہدے کے بہت قریب پہنچ چکا ہے جو ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر معاہدہ طے پا جاتا ہے تو آبنائے ہرمز فوری طور پر کھول دی جائے گی اور یہ پیش رفت آئندہ دو سے تین دنوں میں بھی ممکن ہو سکتی ہے۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا کے پاس ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی مکمل صلاحیت موجود ہے، تاہم وہ جنگ کے بجائے سفارتی حل کو ترجیح دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہم بمباری کریں تو چند ہفتوں میں ایران کے پاس کچھ نہیں بچے گا، لیکن اس کی قیمت انسانی جانوں کی صورت میں ادا کرنا پڑے گی اور میں ایسا نہیں چاہتا۔

مزید پڑھیں: نیتن یاہو کو خبردار کیا تھا کہ ایران کے خلاف کارروائی کی تو اسرائیل خود کو تنہا پائے گا، ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر نے واضح کیا کہ ایران پر عائد اقتصادی پابندیوں اور ناکہ بندی نے فوجی حملوں سے زیادہ مؤثر نتائج دیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ناکہ بندی بمباری سے زیادہ طاقتور ثابت ہوئی ہے۔ ایران کی معیشت شدید دباؤ میں ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ معاہدے کی طرف بڑھ رہا ہے۔

خیال رہے کہ ٹرمپ کے ان بیانات کے بعد مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر عالمی توجہ ایک بار پھر مرکوز ہوگئی ہے، جب کہ خطے میں ممکنہ جنگ بندی اور ایران-امریکا معاہدے کے امکانات پر بھی بحث تیز ہو گئی ہے۔