سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں صدر پزشکیان نے کہا کہ ایرانی قوم اپنے قومی مفادات اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے اور بیرونی دباؤ سے مرعوب نہیں ہوگی۔
انہوں نے ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں کی بھی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ٹرانسپورٹ نیٹ ورکس، بجلی اور پانی کے نظام سمیت اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کی بات کرنا طاقت کا مظاہرہ نہیں بلکہ ایک قوم کے عزم کے سامنے بے بسی اور مایوسی کی علامت ہے۔
خیال رہے کہ صدر پزشکیان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایران کے خلاف مزید سخت کارروائیوں کا عندیہ دیا۔
ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران پر بہت سخت حملے کرے گا اور اگر ضرورت پڑی تو کارروائیاں دوبارہ شروع کی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے ایران پر آبنائے ہرمز کے قریب ایک امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر کو مار گرانے کا الزام بھی عائد کیا۔
امریکی صدر نے ایک بار پھر ایران پر زور دیا کہ وہ واشنگٹن کے ساتھ جوہری معاہدہ کر لے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا ایک بامعنی اور مؤثر معاہدہ چاہتا ہے جو اس بات کو یقینی بنائے کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔
President Trump Wednesday pledged to strike Iran again "very hard" after accusing the country of delaying talks on an interim peace deal, putting further stress on a fragile two-month truce https://t.co/1VawvSxAyv pic.twitter.com/Jq2YNLHZNK
— Bloomberg (@business) June 10, 2026
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا اور ایران ایک معاہدے کے قریب پہنچ چکے تھے، تاہم ایرانی قیادت مسلسل تاخیر سے کام لے رہی ہے۔
دوسری جانب ایرانی قیادت نے واضح کیا ہے کہ دھمکیوں اور فوجی دباؤ کے ذریعے تہران کو اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔







