اسلام آباد میں منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس ’’گرین جرنلزم‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ صحافیوں اور میڈیا اداروں نے ماحولیاتی مسائل کو اجاگر کرنے اور عوام تک درست معلومات پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، اس حوالے سے مختلف پلیٹ فارمز اور تنظیموں کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ماحول دوست صحافت معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی محض سائنسی تحقیق یا حکومتی پالیسیوں کا موضوع نہیں بلکہ ایک ایسا انسانی مسئلہ ہے جو دنیا بھر میں کروڑوں افراد کی زندگیوں کو متاثر کر رہا ہ،  شدید گرمی کی لہریں، غیر معمولی بارشیں، تباہ کن سیلاب، خشک سالی اور دیگر موسمیاتی آفات انسانی زندگی، معیشت اور ماحول کے لیے سنگین خطرات پیدا کر رہی ہیں۔

عطا تارڑ نے کہا کہ دنیا کو ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے اجتماعی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق ماحولیات کا تحفظ صرف حکومتوں کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر فرد، ادارے اور معاشرے کا مشترکہ فریضہ ہے،  اگر آج مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والی نسلوں کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلام نے صدیوں پہلے انسانی جان، قدرتی وسائل اور ماحول کے تحفظ کی تعلیم دی تھی۔ قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں انسانیت کی بھلائی، درخت لگانے، پانی کے ضیاع سے بچنے اور زمین کی حفاظت پر زور دیا گیا ہے، جو آج کے دور میں بھی مکمل رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی سے متاثر ہونے والے ممالک میں شامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک نے حالیہ برسوں میں کئی بڑے قدرتی سانحات کا سامنا کیا ہے۔ انہوں نے 2010 اور 2022 کے تباہ کن سیلابوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان آفات نے لاکھوں افراد کو متاثر کیا جبکہ انفراسٹرکچر، زراعت اور معیشت کو بھی بھاری نقصان پہنچا۔

مزید پڑھیں: کالعدم ایکشن کمیٹی کا مطالبہ تھا کہ حلف نامے سے کشمیر کے پاکستان سے الحاق کی شق نکالی جائے، رانا ثنااللہ

ان کا کہنا تھا کہ ماحولیاتی خطرات کے اثرات صرف قدرتی آفات تک محدود نہیں بلکہ فضائی آلودگی، پینے کے صاف پانی کی کمی اور مختلف بیماریوں میں اضافے کی صورت میں بھی سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خصوصاً نشیبی علاقوں اور دریاؤں کے اطراف آباد آبادیوں کو موسمیاتی تبدیلی کے باعث زیادہ خطرات لاحق ہیں۔

عطا تارڑ نے تجویز دی کہ ماحولیاتی موضوعات پر ہونے والی کانفرنسوں کے اختتام پر خصوصی اعلامیہ جاری کیا جانا چاہیے جس میں میڈیا، سرکاری اداروں، تعلیمی مراکز اور سماجی تنظیموں کی ذمہ داریوں کا واضح تعین کیا جائے تاکہ ماحولیات کے حوالے سے مؤثر حکمت عملی مرتب کی جا سکے۔

انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار بھی کیا کہ سوشل میڈیا پر اکثر منفی اور سنسنی خیز مواد زیادہ توجہ حاصل کر لیتا ہے جبکہ مثبت اور تعمیری موضوعات پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ میڈیا ہاؤسز اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر زور دیا کہ وہ ماحولیات، صحت عامہ اور عوامی فلاح سے متعلق معلومات کو زیادہ نمایاں کریں تاکہ معاشرے میں مثبت سوچ اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کو فروغ مل سکے۔

وفاقی وزیر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت ماحولیاتی تحفظ، عوامی آگاہی اور گرین جرنلزم کے فروغ کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک محفوظ اور پائیدار مستقبل یقینی بنایا جا سکے۔