ایرانی میڈیا کے مطابق پارلیمنٹ کی اقتصادی کمیٹی کے اراکین سے ملاقات کے بعد گفتگو کرتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ ایران مذاکرات اور معاہدے پر عمل درآمد کے پورے عمل کو ماضی کے تجربات، وعدہ خلافیوں اور اعتماد کی کمی کو مدنظر رکھتے ہوئے ترتیب دے رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم مذاکراتی عمل اور معاہدے پر عمل درآمد کو اعتماد کے بجائے عدم اعتماد اور سابقہ تجربات کی بنیاد پر منظم کر رہے ہیں، جب کہ اس معاہدے کے ذریعے ملک کے لیے زیادہ سے زیادہ معاشی مواقع اور ترقی کے امکانات پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے مذاکرات کو ایران کی فتح قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت خطے اور ایران کی مزاحمتی قوتوں کے لیے ایک اعزازی دستاویز ہے۔

ایک قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسعود پزیشکیان نے کہا کہ معاہدے کے ایک محدود حصے میں معمولی اختلافات موجود تھے، تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

ادھر ایرانی پارلیمان کے اسپیکر اور اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران نے اسرائیل اور امریکا کے خلاف اپنی تاریخی مزاحمت کے بعد حتمی فتح کی جانب ایک بڑا قدم اٹھایا ہے۔

انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ایرانی مسلح افواج اور عوام کی مزاحمت نے ملک کو تباہی اور شکست کی طرف لے جانے کی کوششوں کو ناکام بنایا۔

محمد باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ عوام کی تاریخی مزاحمت اور مسلح افواج کی جرات کے نتیجے میں ایران نے حتمی فتح کی جانب ایک اہم پیش رفت کی ہے، اور ایران اپنے مؤقف پر قائم رہے گا اور کسی دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا۔

واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان معاہدہ طے پا چکا ہے، جس پر دستخط کی تقریب سوئٹزرلینڈ میں جمعے کے روز متوقع ہے۔