سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں اسحاق ڈار نے بتایا کہ ان 30 ایرانی شہریوں میں 8 ایرانی ماہی گیر شامل ہیں جنہیں برطانوی بحری جہاز  ایم ایم اے والر  نے اس وقت سمندر سے بچایا تھا جب ان کی کشتی حادثے کا شکار ہو گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ باقی 22 ایرانی شہری جہاز لینور/ڈیوینا کے عملے کے ارکان ہیں، جنہیں حال ہی میں امریکی حکام نے تحویل میں لیا تھا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ دونوں گروپ آئندہ چند روز کے دوران کراچی کے راستے ایران روانہ ہوں گے۔ پاکستان ایرانی، امریکی اور برطانوی حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ ان ایرانی شہریوں کی محفوظ منتقلی اور جلد از جلد وطن واپسی یقینی بنائی جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان انسانی ہمدردی پر مبنی تعاون کے لیے پرعزم ہے اور اپنے ایرانی بھائیوں کی ہر ممکن مدد جاری رکھے گا۔

واضح رہے کہ رواں ماہ امریکی افواج نے بحرِ ہند میں ایرانی تیل بردار جہاز لینور/ڈیوینا کو روک لیا تھا۔ یہ سپر ٹینکر، جو تقریباً 20 لاکھ بیرل خام تیل لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے، اکتوبر 2024 میں ایرانی تیل کی تجارت کے الزام میں امریکی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔

اس سے قبل مئی میں بھی پاکستان نے امریکا کی تحویل سے رہائی پانے والے ایک ایرانی جہاز کے عملے کی وطن واپسی میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

مزید پڑھیں: امریکا ایران امن معاہدہ یمن میں قیام امن کا موقع فراہم کرسکتا ہے، پاکستا ن

اس وقت 22 رکنی عملے کو پاکستان منتقل کیا گیا تھا، جسے دفتر خارجہ نے ایران اور امریکا کے درمیان اعتماد سازی کے اقدامات کا حصہ قرار دیا تھا۔

پاکستان حالیہ مہینوں میں خطے میں سفارتی رابطوں اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تعاون کو فروغ دینے کے لیے فعال کردار ادا کر رہا ہے، جب کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری رابطوں میں بھی سہولت کار کے طور پر اس کا کردار نمایاں قرار دیا جا رہا ہے۔