خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی حکومت نے تصدیق کی ہے کہ حماس نے دو مغویوں کی لاشیں حوالے کیں، جنہیں ریڈ کراس نے وصول کر کے شناخت کے لیے اسرائیلی افواج کے حوالے کر دیا۔ رپورٹ کے مطابق غزہ کے ملبے تلے دبے اجساد کی تلاش میں تاخیر سے نازک جنگ بندی کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔
حماس نے اپنے بیان میں کہا کہ مصر اور غزہ کے درمیان رفح کراسنگ کی مسلسل بندش مغویوں کی لاشوں کی حوالگی میں سنگین تاخیر پیدا کر رہی ہے۔ تنظیم کے مطابق یہ بندش ان خصوصی آلات اور فرانزک ٹیموں کی آمد میں رکاوٹ بن رہی ہے جو ملبے تلے دبے افراد کی تلاش اور شناخت کے لیے ضروری ہیں، جس کے باعث لاشوں کی بازیابی اور منتقلی میں نمایاں تاخیر ہو رہی ہے۔
دوسری جانب، رائٹرز کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ اس نے غزہ جنگ بندی کے ضامن ممالک کو ’قابلِ اعتماد اطلاعات‘ سے آگاہ کیا ہے جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ حماس معاہدے کی خلاف ورزی کر سکتی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ اگر حماس نے کوئی نیا حملہ کیا تو امریکا جنگ بندی کے تسلسل اور غزہ کے عوام کے تحفظ کے لیے اقدامات کرے گا۔
قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق حماس نے امریکی الزامات کو رد کرتے ہوئے کہا کہ اس نے کسی شہری پر حملے کی منصوبہ بندی نہیں کی۔ گزشتہ ہفتے سامنے آنے والی ایک ویڈیو میں کچھ افراد کو گھٹنوں کے بل بٹھا کر گولی مارنے کی کارروائی دکھائی گئی تھی، جس کا الزام حماس پر عائد کیا گیا۔
تنظیم نے وضاحت کی کہ کارروائی کا نشانہ وہ گروہ تھے جو اسرائیلی حمایت یافتہ جرائم پیشہ گینگ ہیں، جو فلسطینی شہریوں کے قتل، اغوا، امدادی سامان کی چوری اور حملوں میں ملوث تھے۔ حماس کے مطابق یہ کارروائیاں غزہ میں امن و امان قائم رکھنے کے لیے کی گئیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے جب ان واقعات کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ یہ چند برے گینگ تھے، اس سے انہیں زیادہ فرق نہیں پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ حماس نے ان گروہوں کے بارے میں کھل کر بات کی ہے اور انہیں کچھ عرصے کے لیے کارروائی کی اجازت دی گئی تھی۔







