اپریل 6, 2025 4:50 صبح

English / Urdu

Follw Us on:

ایف آئی اے کا بڑا آپریشن: شہریوں کو دھوکہ دینے والے 3 انسانی اسمگلرز گرفتار

نیوز ڈیسک
نیوز ڈیسک
ایف آئی اے کا بڑا آپریشن (فائل فوٹؤ)

پاکستان کی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے اپنی تازہ ترین کارروائی میں گوجر انوالا، لاہور اور قصور میں انسانی اسمگلنگ کے حوالے سے اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

ایف آئی اے حکام نے مختلف علاقوں میں چھاپے مار کر 3 بڑے انسانی اسمگلرز کو گرفتار کیا ہے۔

یہ گرفتاریاں ایک طویل تحقیقات کے نتیجے میں ہوئیں جن میں ملزمان کی گرفتاری کے ساتھ ساتھ شہریوں کو بیرون ملک بھیجنے کے جھوٹے وعدوں سے دھوکہ دینے کی کوششیں بھی بے نقاب ہوئیں۔

گوجر انوالا سے گرفتار ہونے والے ملزم آصف نے ایف آئی اے کے حکام کو بتایا کہ اُس نے ایک شہری کو جرمنی بھجوانے کے لئے 15 لاکھ روپے وصول کیے تھے۔ جبکہ لاہور کے علاقے میں ملزم فیضان نے ایک شہری کو ملائیشیا بھیجنے کے عوض 6 لاکھ روپے وصول کیے تھے۔

ان کارروائیوں کا ایک اور اہم پہلو یہ تھا کہ ملزم طیب سہیل نے برطانیہ بھیجنے کے وعدے کے بدلے ایک شہری سے 45 لاکھ روپے بٹورے۔

لازمی پڑھیں:پنجاب دھی رانی پروگرام: دوسرے مرحلے میں 1500 شادیوں کے لیے درخواستوں کا آغاز

ایف آئی اے حکام کے مطابق یہ گرفتاریاں اسی سلسلے کی ایک کڑی ہیں جس میں پہلے بھی انسانی اسمگلنگ کے کئی واقعات سامنے آچکے ہیں۔

گرفتار ملزمان کے خلاف ایف آئی اے تھانہ میں مقدمات درج ہیں، اور تفتیش کا عمل جاری ہے۔

ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ وہ اس قسم کی کارروائیاں جاری رکھے گا تاکہ شہریوں کو ان دھوکہ دہی کے معاملات سے بچایا جا سکے۔

یاد رہے کہ چند روز قبل 5 فروری کو ایف آئی اے لاہور زون نے انسانی سمگلنگ اور ویزا فراڈ کے خلاف بھی بڑی کارروائیاں کی تھیں۔

لاہور اور قصور میں کیے گئے ٹارگٹڈ آپریشنز میں دو اہم ملزمان، زاہد مصطفیٰ اور امجد بھٹی کو گرفتار کیا گیا۔

زاہد مصطفیٰ کو کینیڈا کی جعلی نوکری کے جھانسے میں 3.99 ملین روپے کا غبن کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ جبکہ وہ 2024 سے مفرور تھا اور ایف آئی اے کے انسداد انسانی اسمگلنگ سرکل میں اس کے خلاف مقدمہ درج تھا۔

دوسری جانب امجد بھٹی نے ایک جعلی روزگار سکیم شروع کی تھی اور متعدد شہریوں کو بیرون ملک ملازمت کے جھوٹے وعدوں سے دھوکہ دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: صرف دو دنوں میں 100 سے زائد پاکستانی ڈی پورٹ کر دیے گئے

تفتیش کے دوران دونوں ملزمان نے یہ انکشاف کیا کہ انہوں نے شہریوں سے غیر قانونی طور پر پاسپورٹ حاصل کیے تاہم بیرون ملک بھیجنے میں ناکام رہے اور بڑی رقم وصول کرنے کے بعد روپوش ہو گئے۔

انسانی اسمگلنگ ایک غیر قانونی عمل ہے جس میں افراد کو ان کی مرضی کے خلاف یا دھوکہ دہی سے غیر قانونی طور پر ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جاتا ہے۔

یہ اسمگلنگ مختلف مقاصد کے لئے کی جاتی ہے جن میں ورک فورس، جنسی استحصال، جبری مشقت، یا دیگر بدترین حالات میں انسانوں کا استحصال شامل ہوتا ہے۔

انسانی اسمگلنگ کے کیسز میں اکثر افراد کو بہکایا جاتا ہے اور انہیں بیرون ملک کام کی جھوٹی امیدیں دے کر بڑی رقم وصول کی جاتی ہے لیکن جب یہ افراد وہاں پہنچتے ہیں تو انہیں نہ صرف دھوکہ دہی کا سامنا ہوتا ہے بلکہ ان کی زندگی بھی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔

ایف آئی اے کی ان کارروائیوں نے انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیا ہے اور یہ ملزمان اب قانون کے شکنجے میں آ چکے ہیں۔

شہریوں کو آگاہی دینے کے ساتھ ساتھ ان کارروائیوں سے یہ پیغام بھی دیا جا رہا ہے کہ ایسے دھوکہ دہی کے جال میں نہ پھنسیں اور اپنے حقوق کا دفاع کریں۔

ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا تاکہ ملک میں انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کی جا سکے۔

مزید پڑھیں: پشاور میں اسکول ٹیچر نے طلباء کے تنگ کرنے پر پولیس کو درخواست دے دی

یہ پاکستان میٹرز نیوز ڈیسک کی پروفائل ہے۔

نیوز ڈیسک

نیوز ڈیسک

Share This Post:

متعلقہ پوسٹس