یہ کیفیت صرف ایک خاندان کی نہیں تھی۔ پنجاب کے طول و عرض میں ہزاروں مسلمان، سکھ اور ہندو خاندان اپنے گھروں میں بیٹھے سرحد کے حتمی فیصلے کے منتظر تھے۔ منٹگمری، ملتان، لاہور، لائل پور، سرگودھا، فیروزپور، پٹھان کوٹ، چندی گڑھ اور پٹیالہ سمیت بے شمار علاقوں کے لوگ نہیں جانتے تھے کہ اگلے دن ان کی زندگی کس ملک میں ہوگی۔
ریاست پٹیالہ کے نواح میں واقع گاؤں اپلی میں بھی ایک مسلمان خاندان اسی بے یقینی کا شکار تھا۔ یہ میرے دادا رمضان کا خاندان تھا۔ آزادی کا اعلان ہوچکا تھا، پاکستان وجود میں آچکا تھا، مگر سرحد کہاں ہوگی، یہ ابھی واضح نہیں تھا۔
پھر 17 اگست 1947ء کو ریڈکلف ایوارڈ کا اعلان ہوا۔ پنجاب اور بنگال کی نئی سرحدیں سامنے آئیں اور اس کے ساتھ ہی برصغیر کی تاریخ کی ایک عظیم انسانی ہجرت کا آغاز ہوگیا۔ لوگ اپنے آبائی گھروں، کھیتوں، دکانوں اور صدیوں پرانی بستیوں کو چھوڑنے پر مجبور ہوگئے۔
پاکستان زندہ باد اور ہندوستان زندہ باد کے نعروں کے درمیان پنجاب کی سرزمین پر ایک ایسا انسانی المیہ برپا ہوا جس کی تکلیف آج بھی خاندانوں کی یادوں میں زندہ ہے۔ لاکھوں لوگ اپنے گھروں سے نکلے۔ خاندان بچھڑ گئے، قافلے لٹ گئے، مسافر مارے گئے اور بے شمار لوگ ہمیشہ کے لیے اپنے پیاروں سے جدا ہوگئے۔
میرے دادا رانا رمضان خاں بھی اپنے والدین، بھائی بہنوں اور خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ گاؤں اپلی، موجودہ ضلع سنگرور، سے ہجرت کرکے پاکستان آئے۔
وہ لوگ اپنے پیچھے اپنا گھر، مال مویشی، اپنی زمین، اپنی بستی اپنے دوست اور اپنی یادیں چھوڑ آئے تھے۔ منزل جنوبی پنجاب کا شہر علی پور تھا، جہاں تقسیم کے بعد انہیں تھوڑی سی زمین ملی۔ مگر پھر انہیں نئی ہجرت ضلع قصور کے شہر چونیاں کرنی پڑی کیونکہ ہمارے خاندان کے دوسرے افراد یہاں آ گئے تھے وہ بے سروسامانی کی حالت میں ایک نئے ملک میں پہنچے اور وہیں سے زندگی دوبارہ شروع کی۔
دادا جب اپنی ہجرت کی داستان سناتے تو ان کی آنکھوں میں آنسو آجاتے تھے۔ وہ کہتے تھے
"ستلج اور راوی کا پانی لال ہوگیا تھا، کنوؤں میں لاشیں تھیں۔ کتنے لوگ شہید ہوئے، کسی کو کوئی پتہ نہیں۔"
میرے دادا جان لال رنگ کا میٹھا پانی روح افزاء ملا نہیں پیتے تھے کہتے تھے مجھے اگست کی لاشیں نہیں بھولتی۔
یہ صرف ایک بزرگ کی یاد نہیں تھی؛ یہ اس نسل کے اجتماعی دکھ کی آواز تھی جس نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے وطن، اپنے لوگ اور اپنی بستیوں کو بدلتے دیکھا۔
میری دادی کا خاندان بھی مشرقی پنجاب کے گاؤں گلاھڈ سے تعلق رکھتا تھا۔ دادی بتایا کرتی تھیں کہ جب وہ بہت چھوٹی تھیں تو اپنے گھر سے نکلنے پر مجبور ہوئیں۔ ان کے والد، بھائی اور خاندان کے دیگر افراد ہجرت کرکے پاکستان آئے اور ضلع قصور کے گاؤں دیوسیال میں آباد ہوئے۔
ایک طرف میرے دادا کا خاندان موجودہ ضلع سنگرور کے گاؤں اپلی سے نکل کر جنوبی پنجاب کے علی پور پہنچا، اور دوسری طرف دادی کا خاندان مشرقی پنجاب سے ہجرت کرکے قصور کے دیوسیال میں آباد ہوا۔ دونوں خاندانوں کی داستانیں الگ تھیں، مگر درد ایک ہی تھا—اپنا گھر چھوڑنے کا درد، بچھڑنے کا درد اور ایک نئے وطن میں دوبارہ زندگی شروع کرنے کی جدوجہد۔
آج جب 14 اگست آتا ہے اور ہم سبز ہلالی پرچم لہراتے ہیں، آزادی کا جشن مناتے ہیں اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتے ہیں تو میرے لیے یہ دن صرف جشن کا دن نہیں۔ یہ ان بزرگوں کو یاد کرنے کا دن بھی ہے جنہوں نے پاکستان کی خاطر اپنے گھر بار چھوڑے، جنہوں نے قافلوں کے ساتھ سفر کیا، جنہوں نے بے سروسامانی میں نئی زندگی شروع کی اور جنہوں نے اپنی اولاد کو ایک آزاد وطن دیا۔
17 اگست 1947ء کی تاریخ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ آزادی صرف ایک اعلان کا نام نہیں؛ اس کے پیچھے لاکھوں انسانوں کی ہجرت، قربانیاں، جدائیاں اور آنسو بھی شامل ہیں۔
میرے دادا رمضان اور دادی کے خاندان کی یہ داستان میرے لیے صرف خاندانی تاریخ نہیں، بلکہ پاکستان کی تاریخ کا ایک چھوٹا سا باب ہے۔ ان کی آنکھوں میں محفوظ وہ مناظر آج بھی سوال کرتے ہیں کہ جن لوگوں نے اپنا سب کچھ چھوڑ کر اس ملک کو اپنایا، کیا ہم اس آزادی کی قدر کر رہے ہیں؟
ہم ان تمام مہاجروں اور شہداء کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے قیامِ پاکستان کے سفر میں قربانیاں دیں۔
نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر







