انڈیا اور ویسٹ انڈیز کے درمیان گواہاٹی میں کھیلا جانے والا دوسرا ون ڈے اسی بدلتی ہوئی کرکٹ کی ایک ایسی تصویر ہے جسے دیکھ کر خوش ہونے سے پہلے کچھ دیر رک کر سوچنے کی ضرورت ہے۔

ویسٹ انڈیز نے پہلے کھیلتے ہوئے 50 اوورز میں 405 رنز بنائے۔ اس کی طرف سے جان کیمبل، شائی ہوپ اور عامر جانگو نے سنچریاں بنائیں۔ یعنی ایک روزہ کرکٹ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک ہی اننگز میں تین سنچریاں ہوئیں۔ بظاہر تو یہ ایک دیوہیکل اسکور تھا۔

مگر پھر انڈیا کی باری آئی اور یوں محسوس ہوا جیسے 405 رنز کا ہدف نہیں بلکہ محض ایک معمولی سا تعاقب سامنے رکھا گیا ہو۔

انڈیا نے صرف 43.3 اوورز میں دو وکٹوں کے نقصان پر 406 رنز بنا ڈالے۔ شبھمن گل نے 133 گیندوں پر ناقابلِ شکست 223 رنز بنائے اور روہت شرما نے 101 رنز کی اننگز کھیلی۔ انڈیا نے 39 گیندیں باقی رہتے ہوئے کامیابی حاصل کرلی۔

واہ! کیا زمانہ آگیا ہے۔ ایک ٹیم 405 بناتی ہے، دوسری ٹیم کہتی ہے: ذرا ٹھہرو، ہم ابھی آتے ہیں۔ اور پھر 43 اوور بھی مکمل نہیں ہوئے کہ میچ ختم!

یہ کرکٹ کا میچ تھا یا کسی ایسی ایکشن فلم کا آخری منظر جس میں ہیرو اکیلا پورے شہر کے غنڈوں کو ٹھکانے لگا کر آخر میں کپڑے جھاڑتا ہوا گھر چلا جاتا ہے؟

شبھمن گل کی 223 رنز کی اننگز بلاشبہ غیر معمولی ہے۔ روہت شرما کی سنچری بھی شاندار کارکردگی ہے۔ انفرادی صلاحیت، شاٹ سلیکشن، ٹائمنگ اور جدید بیٹنگ کی مہارت کو داد نہ دینا ناانصافی ہوگی۔ گل نے واقعی ریکارڈ بک کے کئی صفحات ایک ہی رات میں پلٹ دیے۔ ان کی ڈبل سنچری ون ڈے تاریخ کی تیز ترین ڈبل سنچری بھی بنی۔

لیکن سوال گل سے نہیں ہے۔ سوال کرکٹ سے ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم نے کرکٹ کو آخر بنانا کیا ہے؟ کیا اسے ایسا کھیل بنانا ہے جہاں گیند باز صرف اس انتظار میں رہے کہ کسی طرح اگلی گیند پھینکنے کا وقت آئے اور بلے باز اسے میدان سے باہر پھینک دے۔

کیا ون ڈے کرکٹ کا مطلب صرف یہ رہ گیا ہے کہ پہلے 400 بناؤ، پھر دوسرا 400 کا تعاقب کرے اور ہم اسے "رن فیسٹ"، "بیٹنگ ماسٹرکلاس" اور "ریکارڈ نائٹ" کہہ کر خوش ہوجائیں؟

اگر یہی مقصد ہے تو پھر کرکٹ اور ویڈیو گیم میں فرق ہی کیا رہ جائے گا؟

ایک بٹن دبائیں اور چھکا، دوسرا بٹن دبائیں اور چوکا۔ کرکٹ کی اصل خوبصورتی تو اس کشمکش میں تھی کہ بلے باز رنز بنانا چاہتا ہے اور بولر اسے روکنا چاہتا ہے۔ کبھی سوئنگ گیند بلے باز کی تکنیک کا امتحان لیتی تھی، کبھی سیم موومنٹ اسے پریشان کرتی تھی، کبھی اسپنر اسے قدموں کے استعمال پر مجبور کرتا تھا۔

پچ بھی کھیل کا ایک کردار ہوتی تھی، محض 22 گز کا وہ فرش نہیں جہاں بلے باز کو ہر سہولت فراہم کردی جائے۔ آج ایسا لگتا ہے جیسے پچ تیار کرنے والوں سے پہلا سوال یہی کیا جاتا ہے۔

کتنے رنز چاہییں؟ جواب ملتا ہے، جتنے زیادہ ہوسکیں۔ پھر باؤنڈری کی پیمائش ہوتی ہے، پچ پر گھاس کا فیصلہ ہوتا ہے اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ گیند ہوا میں جائے تو تماشائی تالیاں بجاتے ہیں، زمین پر جائے تو چوکا ہوتا ہے اور بولر اگر وکٹ لے لے تو یوں لگتا ہے جیسے اس نے کوئی غیر معمولی جرم کر دیا ہو۔

یہاں مسئلہ یہ نہیں کہ بلے باز اچھا کیوں کھیل رہے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ کیا بولر کو بھی اچھا کھیلنے کا موقع مل رہا ہے؟ گواہاٹی کے اس مقابلے میں مجموعی طور پر 811 رنز بنے۔ دونوں ٹیموں کے پانچ بلے بازوں نے سنچریاں بنائیں۔ ویسٹ انڈیز کے تین اور انڈیا کے دو۔

یہ اعداد و شمار بلاشبہ ریکارڈ بک کے لیے شاندار ہیں، لیکن کرکٹ کے طالب علم کے لیے یہ سوچنے کا مقام بھی ہیں۔ اگر ایک میچ میں پانچ سنچریاں بن جائیں تو سوال یہ بھی ہونا چاہیے کہ بولنگ کہاں گئی؟ اور اگر 405 رنز کا ہدف بھی 43.3 اوورز میں حاصل ہوجائے تو سوال یہ بھی ہونا چاہیے کہ کیا ون ڈے کی 50 اوورز کی ساخت اپنی معنویت کھو رہی ہے؟

یہ سب کچھ صرف ایک میچ کی بنیاد پر حتمی نتیجہ نہیں ہوسکتا۔ لیکن ایسے مقابلے ایک بڑے رجحان کی طرف ضرور اشارہ کرتے ہیں اور اس رجحان کے پیچھے لیگ کرکٹ اور ٹی ٹوئنٹی کلچر کا اثر بھی زیرِ بحث آنا چاہیے۔

ٹی ٹوئنٹی نے کرکٹ کو نئی زندگی دی، اس میں کوئی شک نہیں۔ اس نے نئے ناظرین پیدا کیے، کھلاڑیوں کو نئے مواقع دیے اور کھیل کو تجارتی طور پر بے مثال مقبولیت دی۔ مگر مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جب ٹی ٹوئنٹی کی منطق ہر فارمیٹ پر مسلط ہونے لگے۔

ٹیسٹ کرکٹ کو بھی تیزی چاہیے۔ ون ڈے کو بھی چھکوں کی بارش چاہیے۔ اور اگر چھکوں کی بارش نہ ہو تو میچ کو "بورنگ" قرار دینے کے لیے سوشل میڈیا تیار بیٹھا ہے۔ پھر اسپانسر کو بھی زیادہ اشتہارات چاہییں، ٹی وی کو زیادہ وقفے چاہییں، تماشائی کو زیادہ چوکے اور چھکے چاہییں اور لیگ کو زیادہ میچز چاہییں۔

نتیجہ؟ کرکٹ آہستہ آہستہ کھیل سے زیادہ پروڈکٹ بنتی جارہی ہے۔ یہاں "انٹرٹینمنٹ" سب سے اہم لفظ بن گیا ہے۔ مگر صاحب! کرکٹ صرف انٹرٹینمنٹ نہیں ہے۔

کرکٹ مقابلہ بھی ہے، حکمتِ عملی بھی ہے، صبر بھی ہے، تکنیک بھی ہے، دفاع بھی ہے اور سب سے بڑھ کر غیر یقینی بھی ہے۔ وہی غیر یقینی جس کی وجہ سے پانچ روزہ ٹیسٹ کا آخری دن بھی دلچسپ رہتا تھا۔ وہی غیر یقینی جس میں 280 کا ہدف کبھی آسان اور کبھی ناممکن محسوس ہوتا تھا ، وہی غیر یقینی جس میں ایک اچھا اسپیل پورے میچ کا رخ بدل دیتا تھا۔

اگر ہر چیز بلے باز کے حق میں کردی جائے تو پھر کھیل میں حیرت کم اور فارمولا زیادہ رہ جاتا ہے۔ پچ بیٹنگ کے لیے، باؤنڈری بلے باز کے لیے، بیٹ طاقتور، قوانین جارحانہ، فیلڈنگ کی پابندیاں الگ، پھر بولر آخر کرے کیا؟

وہ صرف گیند پھینکے اور دعا کرے کہ بلے باز غلطی کر دے؟ یہ کرکٹ کا وہ توازن نہیں جس نے اس کھیل کو صدیوں تک زندہ رکھا۔ ہمیں ریکارڈز سے مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔

شبھمن گل 223 بنائیں، کوئی 250 بنائے یا مستقبل میں کوئی 300 بھی کردے، یہ کھیل کی فطری ترقی ہوسکتی ہے۔ مسئلہ تب ہے جب ریکارڈ بنانے کے لیے پورا کھیل ہی ایک طرف جھکا دیا جائے۔

کرکٹ کو بلے باز اور بولر دونوں کی ضرورت ہے۔ تماشائی کو چھکے بھی چاہییں، مگر وکٹیں بھی۔ اسے 400 رنز بھی اچھے لگتے ہیں، مگر 250 پر آل آؤٹ کرنے والا بولنگ اسپیل بھی یاد رہتا ہے۔

اسے ریکارڈ بھی یاد رہتے ہیں، مگر وہ میچ بھی یاد رہتا ہے جس میں آخری گیند تک فیصلہ نہیں ہوا تھا۔ ورنہ کل کو شاید ہم کرکٹ گراؤنڈ میں نہیں بلکہ سینما میں بیٹھے ہوں گے۔

فرق صرف اتنا ہوگا کہ وہاں اسکرین پر ہیرو ولن کو مارتا ہوگا اور یہاں بلے باز بولر کو۔ وہاں دھماکوں کی آواز پر تالیاں بجیں گی، یہاں چھکے پر۔ وہاں تباہی دیکھ کر انٹرٹینمنٹ ملے گا، یہاں 800 رنز دیکھ کر۔ اور پھر ہم کہیں گے: کیا زبردست کرکٹ تھی

نہیں صاحب، سوال پوچھنا پڑے گا۔ کیا واقعی یہ کرکٹ تھی؟ یا کرکٹ کے نام پر ایک ایسی شاندار، رنگین اور مہنگی ایکشن فلم تیار کی جارہی ہے جس میں ٹکٹ تو کرکٹ کا ہے، مگر اسکرپٹ صرف انٹرٹینمنٹ اور بزنس کا؟

کرکٹ کو بچانے کے لیے اسے ماضی میں واپس لے جانے کی ضرورت نہیں۔ جدید بیٹنگ، جدید ٹیکنالوجی، جارحانہ کھیل اور ٹی ٹوئنٹی کی جدتیں اپنی جگہ رہ سکتی ہیں۔ صرف اتنا کیجیے کہ گیند اور بلے کو دوبارہ برابر کا حق دے دیجیے۔

کیونکہ اگر بولر صرف تماشائی بن گیا تو پھر ایک دن بلے باز بھی اکیلا رہ جائے گا۔ اور جب کھیل میں مقابلہ ختم ہوجائے تو رنز چاہے 400 ہوں یا 800 تماشا تو بہت ہوگا، مگر کرکٹ کم رہ جائے گی۔

تحریر: فرید رزاقی

نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر