ایک اینکر نے فوراً سوال داغا: ”یہ ڈیل ہے یا ڈھیل؟“ گویا سیاست کوئی کراس ورڈ پزل ہو۔ ایک صحافی نے ”ذرائع“ کے حوالے سے کہا محض معمول کا چیک اپ ہے، دوسرے نے قسم کھائی کہ یہ رہائی کا پہلا زینہ ہے۔ دونوں درست، دونوں غلط، کیونکہ اس ملک میں خبر کبھی خبر نہیں ہوتی، اشارہ ہوتی ہے۔
یہ پہلا موقع بھی نہیں۔ کبھی آنکھوں کے چیک اپ کے بہانے پمز کا چکر، کبھی اسلام آباد منتقلی کی افواہ جس کی حکومت نے فوراً تردید کر دی۔ گویا تردید خود ایک قسم کی تصدیق ہو۔ اب سپریم کورٹ کا تحریری حکم آ چکا، جیل انتظامیہ ”انتظامات مکمل“ کر چکی، وزیر صاحب یقین دلا چکے کہ فیصلے پر من و عن عمل ہو گا۔ گویا اس سے پہلے کبھی آدھا تیتر آدھا بٹیر عمل نہ ہوا ہو۔
عجیب اتفاق دیکھیے، جس دن یہ خبر آئی، اُسی دن تجزیہ کار کہنے لگے کہ ستائیس ستمبر کا لانگ مارچ اب دور کی کوڑی لگتا ہے۔ ایک ہاتھ سے ریلیف، دوسرے ہاتھ سے سڑکوں کی آنچ ٹھنڈی۔ حسنِ اتفاق یا وہی پرانا فارمولا کہ دباؤ بڑھتے ہی بھاپ نکالنے کو ایک چھوٹا دروازہ کھول دیا جائے؟ اِدھر جماعت اسلامی کے دھرنے چاروں صوبوں میں جاری ہیں، پیٹرول اور روٹی کے نرخ کے خلاف، امیر جماعت کا اعلان ہے کہ ”جانے کے لیے نہیں آئے۔“ سوال یہی ہے: یہ نظام کے خلاف بغاوت ہے یا بڑی جماعتوں کی خاموشی نے جو خلا چھوڑا، بس وہی پر ہو رہا ہے؟
عمران خان کی ہسپتال منتقلی پر جب نواز شریف کے قریبی ساتھی سے سوال ہوا کہ کیا کہیں گے، جواب آیا کہ نواز شریف حکومت کے خلاف ایک بار پھر سازش ہوگئی۔ یہاں سازش بھی بہت جلدی ہوتی ہے اور ڈیل بھی۔
بشریٰ بی بی کے عدالتی آنسو، وکلاء سے گلے شکوے، ”کمبل گاڑی میں تیار ہے“ یہ سب ہم دیکھ چکے۔ سانس کی تکلیف، بازو کا درد، میڈیکل بورڈ، پلیٹ لٹس کا گرنا۔ پھر ہسپتال کا کمرہ جو آہستہ آہستہ سیاسی ملاقاتوں کا اڈہ بن جاتا ہے، اور آخر میں ایک صبح خبر آتی ہے کہ روانگی ہو گئی۔ یہ اُسی پرانے ڈرامے کی اگلی قسط لگتی ہے، بس اداکار بدل جاتے ہیں۔
اسٹیبلشمنٹ کی مجبوری آج بھی وہی ہے۔ نظام چلانا ہے، آئی ایم ایف کی شرط، بیرونی قرض، اندرونی توازن۔ سب ایک دھاگے سے بندھے۔ ایک طرف عدالتی چھتری، دوسری طرف احتجاج کی آنچ مذاکرات کی میز پر ٹھنڈی۔۔ کہنے والے کہتے ہیں یہیں سارے دھاگے آ ملتے ہیں۔ ثابت کچھ نہیں ہوتا، بس ترتیب پر انگلی اٹھتی ہے۔
بہرحال، اتنا طے ہے کہ یہاں سیاست سیدھی لکیر میں نہیں، گول دائرے میں چلتی ہے، اور ہر چکر پر یقین دلایا جاتا ہے کہ اب کی بار کچھ نیا ہو گا۔ ہم پھر بھی ٹی وی کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں، یہ جانتے ہوئے بھی کہ اختتام ہمیں پہلے سے معلوم ہے۔
نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا کوئی تعلق نہیں۔ ایڈیٹر







