عالمی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق جمعرات کو برینٹ خام تیل کی قیمت میں 59 سینٹ، یعنی 0.62 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد قیمت 96.22 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت بھی 78 سینٹ، یعنی 0.86 فیصد اضافے کے بعد 91.79 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی۔
دونوں اقسام کے خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز اضافہ ہوا، جب کہ کاروباری سیشن کے دوران قیمتیں 6 ہفتے کی بلند ترین سطح پر بھی پہنچیں۔
ایران کے وزیر صحت کے مطابق منگل کی رات امریکا کی جانب سے ایران بھر میں کیے گئے حملوں میں 18 افراد ہلاک اور 108 زخمی ہوئے۔ ایرانی ہلال احمر کے مطابق آبنائے ہرمز کے ساحل کے قریب ایک شادی کی تقریب کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس میں 4 افراد ہلاک اور 67 زخمی ہوئے۔
نیم سرکاری ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق امریکی حملوں میں ایرانی فوج کے 3 پائلٹ بھی ہلاک ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان یہ جولائی کے بعد سب سے بڑا فائرنگ کا تبادلہ ہے، جب کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے فروری کے آخر میں حملے شروع کیے جانے کے بعد جنگ ساتویں ماہ میں داخل ہوچکی ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے ایک بار پھر ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر تہران نے اسرائیل پر حملہ کیا تو اسرائیل ایران کے فوجی اور شہری بنیادی ڈھانچے، بشمول توانائی کے مراکز، کو مفلوج کردے گا۔
سیکسو بینک کے تجزیہ کار اولے ہینسن کے مطابق اسرائیلی وزیر دفاع کے ان بیانات نے بھی تیل کی قیمتوں میں اضافے میں کردار ادا کیا ہے۔
آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت میں کمی
ابتدائی شپنگ ڈیٹا کے مطابق بدھ کو صرف 6 کمرشل بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جبکہ ایک روز قبل یہ تعداد 11 تھی۔ گزشتہ 10 روز کے دوران روزانہ گزرنے والے بحری جہازوں کی اوسط تعداد تقریباً 13 رہی ہے۔
یو بی ایس کے توانائی کے تجزیہ کار جیوانی اسٹاوناؤو نے کہا کہ عالمی سطح پر تیل کے ذخائر میں مسلسل کمی کے باعث تیل کی مارکیٹ پہلے ہی دباؤ میں ہے، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے قیمتوں کو مزید سہارا دیا ہے۔
دریں اثنا ایران نے ان بحری جہازوں کی فہرست میں مزید جہاز شامل کردیے ہیں جنہیں وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کے ضوابط کی خلاف ورزی کا مرتکب سمجھتا ہے۔ ایسے جہازوں کو جرمانے، ضبطی یا حراست کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران نے عراقی بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے رکھی ہے۔ عراق نے اگست میں اپنی تیل برآمدات بڑھا کر تقریباً 23 لاکھ 40 ہزار بیرل یومیہ کردیں، جو جولائی میں تقریباً 13 لاکھ 50 ہزار بیرل یومیہ تھیں۔
عراقی توانائی کے حکام کے مطابق ستمبر میں بھی تیل کی برآمدات میں اضافے کی توقع ہے۔ عراقی تیل کی برآمدات میں اضافے کی وجہ بھاری رعایتیں اور ایرانی اجازت نامے بتائے جارہے ہیں، جن کے باعث خریداروں کی دلچسپی بڑھی ہے۔
دوسری جانب خام تیل کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں، جس کے باعث امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے رواں ماہ شرحِ سود میں اضافے کے امکانات پر مارکیٹ میں شرطیں بھی بڑھ گئی ہیں۔







