بجٹ دستاویزات کے مطابق مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ سینٹر کی مرمت اور دیکھ بھال کے لیے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے، مشینری اور آلات کے لیے 70 لاکھ روپے جب کہ عمارت اور اسٹرکچر کے لیے 40 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
دستاویز کے مطابق سینٹر کے ملازمین کی تنخواہوں کے لیے مجموعی طور پر 35 کروڑ 69 لاکھ روپے رکھے گئے ہیں، جن میں افسران کی تنخواہوں کے لیے 20 کروڑ روپے جب کہ دیگر عملے کی تنخواہوں کے لیے 15 کروڑ 65 لاکھ روپے شامل ہیں۔
اسی طرح ملازمین کے الاؤنسز کی مد میں 33 کروڑ 27 لاکھ روپے جب کہ مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ سینٹر کے آپریٹنگ اخراجات کے لیے 27 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
بجٹ میں ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن کے لیے 60 لاکھ روپے، اسکالرشپس کے لیے 85 لاکھ روپے جبکہ اسٹور اسٹاک، پلانٹ اور مشینری کے لیے مزید 60 لاکھ روپے رکھے گئے ہیں۔
دوسری جانب پمز اسپتال کے مجموعی مالیاتی بجٹ کی تفصیلات بھی سامنے آئی ہیں۔ دستاویزات کے مطابق وفاقی حکومت نے گزشتہ تین سال کے دوران پمز اسپتال کے لیے مجموعی طور پر 22 ارب روپے کا بجٹ فراہم کیا۔
دستاویزات کے مطابق گزشتہ مالی سال پمز اسپتال کے لیے 6 ارب 84 کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے، تاہم اسپتال انتظامیہ نے مختص بجٹ سے زیادہ رقم خرچ کرتے ہوئے 7 ارب 51 کروڑ روپے خرچ کیے۔ گزشتہ سال پمز انتظامیہ کو 66 کروڑ روپے کا اضافی بجٹ بھی فراہم کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پمز اسپتال سانحہ: ابتدائی رپورٹ میں آتشزدگی کی وجہ سامنے آگئی
رواں مالی سال پمز اسپتال کے لیے مجموعی طور پر 7 ارب 63 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ وفاقی حکومت نے گزشتہ سال مرمت اور دیکھ بھال کی مد میں پمز کو 50 کروڑ روپے فراہم کیے تھے، تاہم رواں مالی سال اسی مد میں 23 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ یہ بجٹ کی تفصیلات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب پمز کے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ سینٹر کی نرسری میں آتشزدگی کے نتیجے میں نومولود بچوں کی ہلاکت پر شدید سوالات اٹھ رہے ہیں۔
واقعے کے بعد جاں بحق بچوں کے والدین اور لواحقین بڑی تعداد میں مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ سینٹر کے باہر موجود ہیں۔ کئی مائیں اپنے نومولود بچوں کو کھونے کے بعد شدید صدمے کی حالت میں ہیں۔
عینی شاہدین اور بعض والدین کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ حادثے کے وقت نرسری میں اسپتال کا عملہ موجود نہیں تھا اور داخلی دروازہ بھی لاک تھا۔ بعض لواحقین نے اسپتال میں سہولیات اور عملے کے رویے سے متعلق شکایات بھی کی ہیں۔
تاہم پمز اسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر رانا عمران سکندر نے ان دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وارڈ کا دروازہ بند نہیں تھا اور وہاں عملہ بھی موجود تھا۔
مزید پڑھیں: پمز اسپتال میں آتشزدگی: کب کیا ہوتا رہا، عینی شاہدین نے کیا دیکھا، دل دہلا دینے والا سانحہ چند منٹوں میں کیسے پیش آیا؟
نومولود بچوں کی شہادت کے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں، جب کہ بجٹ میں مرمت، دیکھ بھال اور فائر سیفٹی سے متعلق اخراجات سمیت دیگر مالی معاملات بھی تحقیقات کے دوران اہم سوالات بن گئے ہیں۔ حتمی طور پر یہ تعین تحقیقاتی رپورٹ کے بعد ہی ہوسکے گا کہ اسپتال میں حفاظتی انتظامات میں کوئی غفلت یا کوتاہی ہوئی یا نہیں۔







