وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ایف بی آر اصلاحات پر ہفتہ وار جائزہ اجلاس ہوا، جس میں ٹیکس نظام کی ڈیجیٹلائزیشن، پی آر اے ایل کی تنظیم نو، کسٹمز اسیسمنٹ، ڈیجیٹل انوائسنگ اور اسمگلنگ کے خاتمے کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ایف بی آر اصلاحات کے تمام اقدامات مقررہ مدت کے اندر مکمل کیے جائیں اور اصلاحاتی منصوبوں پر عملدرآمد کی مسلسل نگرانی کی جائے۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ملکی معیشت کو مستحکم بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے ٹیکس نظام میں بنیادی نوعیت کی اصلاحات کی جا رہی ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹلائزیشن، پیداوار کی نگرانی اور خودکار نظام ایف بی آر کی اصلاحات کے اہم حصے ہیں۔

انہوں نے ٹیکس چوری، اسمگلنگ اور غیر قانونی کاروباری سرگرمیوں کے خلاف کارروائی مزید مؤثر بنانے کی بھی ہدایت کی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ ٹیکس نظام کو جدید، مربوط اور ڈیٹا پر مبنی بنانے کے لیے مختلف منصوبوں پر مرحلہ وار کام جاری ہے۔

بریفنگ کے مطابق آئرس 3.0، نئے ٹیکس آپریٹنگ ماڈل اور سینٹرل ڈیٹا ہب کے قیام سمیت متعدد اقدامات پر پیش رفت جاری ہے، جبکہ آئرس 3.0 کے ڈیزائن کے لیے بین الاقوامی کنسلٹنٹس کی خدمات بھی حاصل کی گئی ہیں۔

حکام نے بتایا کہ نئے ڈیجیٹل نظام کا مقصد ٹیکس دہندگان کے لیے سہولت پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ ٹیکس وصولی کے عمل کو زیادہ مؤثر اور شفاف بنانا ہے۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ڈیجیٹل نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے اور ڈیٹا کے مؤثر استعمال کے ذریعے ٹیکس بیس کو وسیع کرنے پر توجہ دی جائے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ آئرس 3.0 کے تحت ٹیکس وصولی کے نظام میں خودکار طریقہ کار کو مزید فروغ دیا جا رہا ہے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ آٹو ٹیکس کے تصور کو ابتدائی طور پر پائلٹ بنیادوں پر آزمایا جا رہا ہے، جبکہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ جیسی ٹیکنالوجیز کو ٹیکس وصولی اور نگرانی کے نظام میں استعمال کرنے پر بھی کام جاری ہے۔

حکام کے مطابق جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے ٹیکس چوری کی نشاندہی، ڈیٹا کے تجزیے اور ٹیکس دہندگان کی نگرانی کے نظام کو مزید بہتر بنایا جاسکے گا۔

اجلاس میں پی آر اے ایل کی تنظیم نو کے حوالے سے بھی وزیراعظم کو تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

حکام نے بتایا کہ ادارے میں ٹیکنالوجی، ڈیٹا سیکیورٹی، آپریشنز اور ٹیکس ڈومین سمیت مختلف شعبوں میں نئی سینئر قیادت تعینات کی گئی ہے۔

وزیراعظم نے اصلاحاتی اقدامات کو مقررہ اہداف کے مطابق آگے بڑھانے کی ہدایت کرتے ہوئے متعلقہ حکام پر زور دیا کہ ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافے کے ساتھ شفافیت اور جواب دہی کو بھی یقینی بنایا جائے۔

اجلاس کو کسٹمز کے شعبے میں فیس لیس اسیسمنٹ کے نتائج سے بھی آگاہ کیا گیا۔

بریفنگ کے مطابق جنوری سے جون 2026 کے دوران فی گڈز ڈیکلریشن اوسط ریونیو میں 12 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

حکام کے مطابق فیس لیس اسیسمنٹ کے نتیجے میں نہ صرف محصولات میں بہتری آئی بلکہ درآمدی بے ضابطگیوں کی نشاندہی اور ان کی نگرانی کا عمل بھی مؤثر ہوا ہے۔

کسٹمز اسیسمنٹ کے نظام کو مزید مربوط بنانے کے لیے 280 گڈز ایویلیویٹرز کی بھرتی کا عمل بھی آخری مراحل میں ہے۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ اسلام آباد میں سینٹرل اسیسمنٹ یونٹ کے قیام پر بھی کام جاری ہے۔

حکام کے مطابق یونٹ کو عبوری انتظام کے تحت 31 دسمبر 2026 تک فعال کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ مکمل مربوط سہولت کو جون 2027 تک نئے کمپلیکس میں فعال کرنے کی منصوبہ بندی ہے۔

وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ مقررہ اہداف کے حصول میں تاخیر سے گریز کیا جائے اور منصوبوں کی تکمیل کے لیے واضح ٹائم لائن پر عمل کیا جائے۔

اجلاس میں ڈیجیٹل انوائسنگ کے حوالے سے بھی اہم اعداد و شمار پیش کیے گئے۔

بریفنگ کے مطابق جولائی 2025 میں ڈیجیٹل انوائسنگ کے ذریعے 236 ارب روپے کی ٹرانزیکشنز ریکارڈ کی گئی تھیں، جو جولائی 2026 میں بڑھ کر 2.5 ٹریلین روپے سے تجاوز کرگئیں۔

حکام نے بتایا کہ دسمبر 2026 تک ڈیجیٹل انوائسنگ کے ذریعے 4 ٹریلین روپے کی ٹرانزیکشنز کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

وزیراعظم نے ڈیجیٹل انوائسنگ کے دائرہ کار کو مزید بڑھانے اور کاروباری سرگرمیوں کو دستاویزی بنانے کے عمل کو تیز کرنے کی ہدایت کی

اجلاس میں اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

حکام کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی غیر قانونی نقل و حرکت روکنے کے لیے قانونی پٹرول پمپس کی جی آئی ایس ٹیگنگ، جی پی ایس کے ذریعے پٹرولیم مصنوعات کی نگرانی اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے ای آر پی نظام کو ٹریکر سے منسلک کرنے جیسے اقدامات مکمل کیے جاچکے ہیں۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے مرکزی ٹریکنگ ایپ بھی متعارف کرائی گئی ہے، جس کے ذریعے پٹرولیم مصنوعات کی نقل و حرکت اور متعلقہ سرگرمیوں کی نگرانی کو مزید مؤثر بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ راہِ گزر ایپ کے ذریعے 2 ہزار 500 غیر قانونی پٹرول پمپس بند کرائے جاچکے ہیں جبکہ ان کے خلاف قانونی کارروائی بھی کی گئی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ایف بی آر اصلاحات کا بنیادی مقصد ٹیکس نظام کو جدید، شفاف اور مؤثر بنانا، ریو