ڈاکٹر فخر عباس کے انتقال کی خبر سامنے آتے ہی ادبی حلقوں میں گہرے دکھ اور افسوس کی لہر دوڑ گئی۔ اہلِ ادب اور ان کے مداحوں نے ان کے انتقال کو اردو ادب کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دیا ہے۔
مرحوم ڈاکٹر فخر عباس کی شاعری میں انسانی جذبات، محبت، زندگی کے نشیب و فراز اور معاشرتی حالات کی عکاسی نمایاں تھی۔ ان کے کلام میں لاہور سے گہری وابستگی بھی خاص طور پر محسوس کی جاتی تھی، جس نے ان کی شاعری کو ایک منفرد رنگ عطا کیا۔
ڈاکٹر فخر عباس اپنی خوبصورت آواز اور منفرد اندازِ بیان کے باعث بھی ادبی حلقوں میں خاص مقام رکھتے تھے۔ وہ اپنے اشعار کو جس انداز میں پیش کرتے، اس سے ان کے کلام کی تاثیر مزید بڑھ جاتی تھی۔
ان کی شاعری میں روزمرہ زندگی کے تجربات، انسانی احساسات اور معاشرے کے مختلف پہلوؤں کو سادہ مگر مؤثر انداز میں بیان کیا جاتا تھا۔ لاہور سے ان کی محبت بھی ان کے کلام اور ادبی اظہار کا نمایاں حصہ رہی۔
اہلِ ادب کے مطابق ڈاکٹر فخر عباس نے اپنی شاعری کے ذریعے نہ صرف انسانی جذبات کو الفاظ دیے بلکہ لاہور کی ثقافت، ماحول اور شہر سے وابستہ یادوں کو بھی اپنے منفرد شعری انداز میں اجاگر کیا۔
ڈاکٹر فخر عباس گزشتہ کچھ عرصے سے جگر کے عارضے میں مبتلا تھے اور اسی بیماری کے باعث لاہور کے نجی اسپتال میں زیرِ علاج تھے۔ طبیعت خراب ہونے کے بعد انہیں اسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں وہ گزشتہ رات انتقال کرگئے۔
مرحوم کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی، جس میں اہلِ خانہ، عزیز و اقارب، دوست احباب اور ادبی حلقوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ نمازِ جنازہ کے بعد ڈاکٹر فخر عباس کو ان کے آبائی قصبے فاروق آباد میں سپردِ خاک کردیا گیا۔
ڈاکٹر فخر عباس کے انتقال پر ادبی حلقوں کی جانب سے گہرے دکھ کا اظہار کیا گیا ہے۔ ان کے چاہنے والوں کا کہنا ہے کہ ان کی آواز، شاعری اور الفاظ طویل عرصے تک ان کی یاد کو زندہ رکھیں گے۔
50 برس کی عمر میں دنیا سے رخصت ہونے والے ڈاکٹر فخر عباس اپنے پیچھے ایسا ادبی سرمایہ چھوڑ گئے ہیں جس میں محبت، احساس، زندگی اور لاہور سے ان کی وابستگی کی جھلک نمایاں نظر آتی ہے۔
آج ڈاکٹر فخر عباس اپنے چاہنے والوں کے درمیان موجود نہیں، تاہم ان کا کلام، ان کی آواز اور شاعری میں بکھرے احساسات انہیں ہمیشہ یاد دلاتے رہیں گے۔







