امریکا اپنے مشن میں کامیاب ہوگیا، حکومت تبدیل ہوتے ہی وینزویلا سے تیل کے معاہدے کو بھی توثیق مل گئی۔
ان کے مطابق اس معاہدے سے وینزویلا کی معاشی بحالی میں اہم پیش رفت متوقع ہے اور ملک کو 100 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری جبکہ 209 ارب ڈالر سے زیادہ ٹیکس آمدن حاصل ہو سکتی ہے۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے باعث عالمی تیل کی رسد دباؤ کا شکار ہے، جبکہ امریکہ میں نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایندھن کی بلند قیمتیں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایک اہم سیاسی چیلنج بنی ہوئی ہیں۔
صدر ٹرمپ اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ یہ معاہدہ واشنگٹن کو وینزویلا کے 65 ارب بیرل ثابت شدہ تیل ذخائر تک نمایاں رسائی فراہم کرے گا۔ انھوں نے اسے ’دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا تیل کا معاہدہ‘ بھی قرار دیا تھا۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کے نتیجے میں وینزویلا میں تقریباً 100 ارب ڈالر کی نجی سرمایہ کاری متوقع ہے، جو ملکی معیشت کی تعمیر نو اور توانائی کے شعبے کی ترقی میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

تاہم، تیل کے ذخائر پر کنٹرول یا ملکیت کی منتقلی کی تفصیلات ابھی واضح نہیں کی گئی ہیں۔ یونیورسٹی آف ٹیکساس انرجی انسٹی ٹیوٹ کے سینیئر ریسرچ فیلو جارج پنیون کے مطابق کئی اہم سوالات ابھی جواب طلب ہیں، جن میں یہ بھی شامل ہے کہ ذخائر کی ملکیت کس طریقہ کار اور کس وقت منتقل کی جائے گی۔
امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کے مطابق دونوں ممالک 12 آئل فیلڈز سے متعلق مذاکرات کر رہے ہیں، جن میں مجموعی طور پر تقریباً 90 ارب بیرل ثابت شدہ تیل کے ذخائر موجود ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ متعدد نجی کمپنیاں، جن میں امریکی کمپنیاں بھی شامل ہیں، ان شعبوں کی ترقی اور پیداوار بڑھانے میں کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔







