جمعہ کو کاروبار کے دوران مارکیٹ میں مجموعی طور پر مثبت رجحان برقرار رہا اور مختلف اہم شعبوں کے حصص میں خریداری نے انڈیکس کو اوپر جانے میں مدد دی۔

دوپہر 12 بجے تک دستیاب مارکیٹ اپ ڈیٹ کے مطابق کے ایس ای 100 انڈیکس 510.34 پوائنٹس کے اضافے کے بعد 177,833.12 پوائنٹس پر پہنچ گیا، جو گزشتہ کاروباری روز کے اختتامی انڈیکس کے مقابلے میں تقریباً 0.29 فیصد بہتری ظاہر کرتا ہے۔

کاروباری سرگرمیوں کے دوران سرمایہ کاروں کی دلچسپی مختلف اہم شعبوں میں نظر آئی، جن میں آٹو موبائل اسمبلرز، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن، آئل مارکیٹنگ، بجلی پیدا کرنے والی کمپنیاں اور ریفائنریز نمایاں رہیں۔

مارکیٹ میں کئی بڑی اور انڈیکس پر زیادہ وزن رکھنے والی کمپنیوں کے حصص بھی مثبت زون میں کاروبار کرتے رہے، جس سے مجموعی مارکیٹ کے رجحان کو تقویت ملی۔

نمایاں کارکردگی دکھانے والے حصص میں اٹک ریفائنری، حب پاور، ماری پیٹرولیم، آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ، پاکستان اسٹیٹ آئل، حبیب بینک اور نیشنل بینک سمیت دیگر نمایاں کمپنیوں کے حصص شامل رہے۔

دورانِ کاروبار سرمایہ کاروں کی جانب سے خریداری میں اضافے کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ دوپہر تک مارکیٹ میں 97.94 ملین سے زائد حصص کے سودے ہوچکے تھے۔

واضح رہے کہ جمعرات کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا آغاز مثبت انداز میں ہوا تھا، تاہم دن کے اختتام پر سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع کے حصول کے لیے حصص کی فروخت کے باعث ابتدائی تیزی برقرار نہ رہ سکی۔

جمعرات کو کے ایس ای 100 انڈیکس 47.93 پوائنٹس کی کمی کے بعد 177,322.78 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔ اس طرح جمعہ کو ہونے والی ابتدائی تیزی نے گزشتہ روز کی معمولی کمی کا اثر بڑی حد تک زائل کردیا۔

مارکیٹ ماہرین کے مطابق سرمایہ کاروں کی توجہ اس وقت مقامی معاشی اشاریوں، کمپنیوں کے مالی نتائج، شرح سود کے حوالے سے توقعات اور عالمی مالیاتی منڈیوں کی سمت پر مرکوز ہے۔

دوسری جانب عالمی سطح پر بھی جمعہ کو ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں محتاط اور ملا جلا رجحان دیکھا گیا۔ امریکا کی معروف ٹیکنالوجی کمپنی اینویڈیا کے مضبوط مالی نتائج کے بعد ٹیکنالوجی شعبے کے حصص میں بہتری دیکھی گئی، تاہم عالمی سرمایہ کار امریکی مانیٹری پالیسی کے آئندہ رخ سے متعلق مزید واضح اشاروں کے منتظر ہیں۔

ایشیائی مارکیٹوں میں ایم ایس سی آئی ایشیا پیسیفک انڈیکس میں 0.1 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ جاپان کے نکی انڈیکس میں 0.5 فیصد اور تائیوان کی اسٹاک مارکیٹ میں 1.2 فیصد بہتری ریکارڈ کی گئی۔

اس کے برعکس جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس تقریباً ایک فیصد جبکہ ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ انڈیکس 0.3 فیصد کمی کے ساتھ کاروبار کرتا رہا۔

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بھی ہفتہ وار بنیاد پر دباؤ کا شکار رہیں۔ برینٹ خام تیل کی قیمت میں معمولی کمی کے بعد یہ 89.63 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی، جبکہ رواں ہفتے مجموعی طور پر قیمت میں 5 فیصد سے زائد کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ پاکستان سمیت درآمدی توانائی پر انحصار کرنے والی معیشتوں کے لیے اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ عالمی قیمتوں میں تبدیلی سے درآمدی بل، توانائی کی لاگت اور مختلف صنعتی شعبوں کے اخراجات متاثر ہوسکتے ہیں۔

عالمی مالیاتی منڈیوں میں سرمایہ کاروں کی توجہ امریکا کے جیکسن ہول سمپوزیم پر بھی مرکوز ہے، جہاں امریکی فیڈرل ریزرو کے چیئرمین کیون وارش کے خطاب کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

مارکیٹ میں یہ توقع کی جا رہی ہے کہ امریکی شرح سود کے آئندہ فیصلوں سے متعلق کسی بھی اشارے کا اثر عالمی اسٹاک، بانڈز، کرنسی اور کموڈیٹی مارکیٹس پر پڑ سکتا ہے۔

یاد رہے کہ عالمی شرح سود، تیل کی قیمتوں، ڈالر کی قدر اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے رجحانات پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے لیے بھی اہم عوامل ہیں۔ ایسے میں مقامی مارکیٹ میں جاری تیزی کو برقرار رکھنے کے لیے سرمایہ کار آنے والے دنوں میں ملکی معاشی پالیسیوں اور عالمی مالیاتی حالات کا جائزہ لیتے رہیں گے۔