پاور ڈویژن نے ستمبر کے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) کی مد میں نومبر کے بجلی بلوں میں 2 روپے 56 پیسے فی یونٹ اضافے کا امکان ظاہر کیا ہے۔ اس اضافے سے صارفین پر تقریباً 32 ارب 70 کروڑ روپے کا اضافی مالی بوجھ پڑنے کا تخمینہ ہے۔
پاور ڈویژن کے مطابق مہنگے ایندھن سے بجلی کی پیداوار، عالمی منڈی میں ایندھن کی بڑھتی قیمتوں اور ایل این جی کی فراہمی میں مشکلات کے باعث بجلی کی لاگت میں اضافہ ہوا۔
ستمبر میں روزانہ تقریباً دو سے ڈھائی گھنٹے کی ہدفی لوڈ مینجمنٹ کے ذریعے مہنگے متبادل ایندھن کے استعمال میں کمی کی گئی، جس سے فی یونٹ ممکنہ اضافے کو مزید 3 روپے 44 پیسے تک محدود رکھنے میں مدد ملی۔ ڈویژن کا دعویٰ ہے کہ بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو اضافہ 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک پہنچ سکتا تھا۔
بیان کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش اور مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی نے عالمی ایندھن کی سپلائی متاثر کی، جب کہ پاکستان نے ایل این جی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے معاہدوں کے تحت دستیاب سپلائی اور اضافی کارگوز کے حصول کی کوششیں جاری رکھیں۔
پاور ڈویژن نے یہ بھی کہا کہ جنوری سے اگست کے دوران فیول پرائس اور سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کے مشترکہ اثرات کو 65 پیسے فی یونٹ تک محدود رکھا گیا۔
دوسری جانب صنعتی صارفین اضافی بجلی استعمال کرنے کے پیکیج کے فوائد پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ 22 روپے 96 پیسے فی یونٹ کی شرح سے محدود صارفین کو فائدہ پہنچ رہا ہے، جب کہ 34 روپے فی یونٹ کی حقیقی اضافی لاگت کا فرق مجموعی ٹیرف میں شامل ہو کر دوسرے صارفین پر بوجھ بن رہا ہے۔
واضح رہے کہ نیپرا نے گزشتہ ہفتے اس پیکیج میں تبدیلی یا اسے معطل کرنے سے متعلق عوامی سماعت کی تھی، تاہم حتمی فیصلہ تاحال سامنے نہیں آیا۔







