سالانہ مائیکرو فنانس کانفرنس سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اس بات پر واضح مؤقف رکھتے ہیں کہ ملکی ترقی اور معاشی سرگرمیوں میں نجی شعبے کو مرکزی کردار دیا جائے، حکومت کا مقصد ایسا ماحول پیدا کرنا ہے جس میں نجی شعبہ سرمایہ کاری، کاروبار اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں آگے بڑھے۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کو روایتی انداز سے آگے لے جانے کی ضرورت ہے اور حکومت کی ترجیحات میں معیشت کو امداد پر انحصار سے نکال کر تجارت، سرمایہ کاری اور برآمدات کی بنیاد پر آگے بڑھانا شامل ہے، پائیدار معاشی ترقی کے لیے نجی سرمایہ کاری میں اضافہ اور کاروباری سرگرمیوں کے دائرہ کار کو وسیع کرنا ضروری ہے۔

وزیر خزانہ کے مطابق معیشت کے روایتی شعبوں کے ساتھ ساتھ نئی معیشت بھی پاکستان کے مستقبل کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔ مصنوعی ذہانت، ویب تھری، بلاک چین اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز عالمی معیشت کے خدوخال تبدیل کررہی ہیں، اس لیے پاکستان کو بھی ان شعبوں میں اپنی استعداد بڑھانا ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں سرمایہ کاری صرف آئی ٹی کمپنیوں کے قیام تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ نوجوانوں کو جدید ڈیجیٹل معیشت کی ضروریات کے مطابق تعلیم، تربیت اور عملی مہارتیں فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے حکومت، نجی شعبے اور تعلیمی اداروں کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنایا جاسکتا ہے۔

محمد اورنگزیب نے پاکستانی نوجوانوں اور فری لانسرز کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ گزشتہ مالی سال آئی ٹی اور آئی ٹی سے متعلق خدمات کی برآمدات سے 1.6 ارب ڈالر حاصل کرنے میں نوجوانوں نے اہم کردار ادا کیا، یہ شعبہ پاکستان کے لیے برآمدات، روزگار اور زرمبادلہ کے حصول کا ایک اہم ذریعہ بن سکتا ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی کے مطابق تربیت دینے کے ساتھ ساتھ موجودہ مہارتوں کو بہتر بنانے کے لیے ری اسکلنگ اور اپ اسکلنگ کے مواقع بھی فراہم کرنا ہوں گے، عالمی ڈیجیٹل معیشت تیزی سے تبدیل ہورہی ہے، اس لیے پاکستانی نوجوانوں کو بھی نئی مہارتوں سے ہم آہنگ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو صرف روایتی کوڈنگ تک محدود رکھنے کے بجائے بلاک چین، مصنوعی ذہانت، ویب تھری اور دیگر ابھرتے ہوئے شعبوں میں مہارت حاصل کرنے کے مواقع فراہم کیے جانے چاہئیں۔ اس سے پاکستانی نوجوان عالمی سطح پر خدمات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ نئی ڈیجیٹل کمپنیوں اور کاروباری منصوبوں کے قیام میں بھی کردار ادا کرسکیں گے۔

محمد اورنگزیب نے مائیکرو فنانس کے شعبے کی اہمیت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ مالیاتی سہولتوں تک رسائی معاشی سرگرمیوں کو نچلی سطح تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ چھوٹے کاروبار، کم آمدنی والے افراد اور نئے کاروباری منصوبوں کے لیے مالی وسائل کی دستیابی معاشی شمولیت کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

وزیر خزانہ کے مطابق پاکستان میں معاشی مواقع کو وسیع کرنے کے لیے مالیاتی نظام کو مزید مؤثر اور قابلِ رسائی بنانا ہوگا تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد کاروباری سرگرمیوں کا حصہ بن سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نجی شعبے کی صلاحیت، نوجوانوں کی افرادی قوت اور جدید ٹیکنالوجی کو یکجا کرکے ملک میں معاشی ترقی کے نئے مواقع پیدا کیے جاسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو مستقبل کی معیشت کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسی پالیسیوں کی ضرورت ہے جو سرمایہ کاری، کاروبار، برآمدات اور ٹیکنالوجی کے فروغ میں معاون ثابت ہوں۔ حکومت کی جانب سے نجی شعبے کو زیادہ مواقع دینے اور نئی معیشت کے شعبوں پر توجہ مرکوز کرنے کا مقصد بھی معاشی سرگرمیوں کو وسعت دینا ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت معیشت کو زیادہ مسابقتی، برآمدات پر مبنی اور سرمایہ کاری دوست بنانے کے لیے اصلاحات کا عمل جاری رکھے گی۔ ان کے مطابق نجی شعبے کی قیادت، نوجوانوں کی جدید تربیت اور ٹیکنالوجی کا فروغ پاکستان کی آئندہ معاشی حکمت عملی کے اہم ستون ثابت ہوسکتے ہیں۔