فرانسیسی حکومت کے مطابق احتجاج کے دوران اسکولوں کی ناکہ بندی اور بعض مقامات پر پولیس کے ساتھ جھڑپوں کے باعث طلبہ، اساتذہ اور دیگر افراد کی سلامتی کے خدشات پیدا ہوئے، جس کے پیش نظر تعلیمی سرگرمیاں عارضی طور پر روکنے کا فیصلہ کیا گیا۔ وزیراعظم لیکورنو کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد اسکولوں کے سربراہان، اساتذہ اور طلبہ کو اپنے مسائل پر بات چیت اور اندرونی سطح پر حل تلاش کرنے کا موقع دینا بھی ہے۔

رپورٹس کے مطابق منگل کو فرانس کے مختلف شہروں میں لاکھوں طلبہ، اساتذہ، والدین اور دیگر شعبوں سے وابستہ افراد نے مظاہروں میں شرکت کی۔ حکام نے ملک بھر میں مظاہرین کی تعداد تقریباً ڈھائی لاکھ بتائی، جبکہ احتجاج کے منتظمین کا دعویٰ ہے کہ شرکا کی تعداد ساڑھے 4 لاکھ سے زیادہ رہی۔ ہائی اسکول طلبہ یونین کے مطابق تقریباً 2 ہزار اسکول احتجاج، ناکہ بندی یا دیگر رکاوٹوں سے متاثر ہوئے۔

طلبہ کا کہنا ہے کہ تعلیمی نظام کو طویل عرصے سے اساتذہ کی کمی، کلاس رومز میں گنجائش سے زیادہ طلبہ، طویل تعلیمی اوقات اور اسکولوں کی خستہ حال عمارتوں جیسے مسائل کا سامنا ہے۔

مظاہرین غیر حاضر اساتذہ کی جگہ فوری طور پر متبادل اساتذہ کی فراہمی، کھانے کے وقفے میں اضافہ، اسکول کے اوقات میں تبدیلی اور تعلیمی اداروں کی بہتر دیکھ بھال کا مطالبہ کررہے ہیں۔

رائٹرز کے مطابق احتجاج کا آغاز ستمبر میں پیرس کے غریب مضافاتی علاقوں کے بعض ہائی اسکولوں سے ہوا تھا، تاہم چند ہی ہفتوں میں یہ تحریک ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گئی۔ طلبہ اور ان کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ اسکولوں میں بنیادی سہولیات اور تدریسی عملے کی کمی نے ان کی تعلیم کو متاثر کیا ہے۔

احتجاج کے دوران پیرس، اسٹراسبرگ، لیون، رین اور دیگر شہروں میں بعض مظاہرے پرتشدد ہوگئے۔ پولیس نے بعض مقامات پر مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور دیگر ہجوم پر قابو پانے کے طریقے استعمال کیے، جبکہ مظاہرین کی جانب سے سڑکوں پر اشیا جلانے، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور پولیس پر مختلف اشیا پھینکنے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔

فرانسیسی حکام کا کہنا ہے کہ احتجاج کے دوران متعدد اسکولوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ وزارت تعلیم کے مطابق اب تک کم از کم 24 اسکولوں کو جلایا یا توڑ پھوڑ کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

فرانسیسی وزارت داخلہ کے مطابق احتجاج شروع ہونے سے اب تک تقریباً 6 ہزار 100 افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے، جن میں اکثریت 18 سال سے کم عمر افراد کی ہے۔ وزارت انصاف کے مطابق ایک ہزار 800 سے زائد افراد کے خلاف مقدمات چلائے جائیں گے، جن میں تقریباً 1,483 نابالغ بھی شامل ہیں۔

فرانسیسی حکومت کے مطابق احتجاج کے دوران کم از کم 215 نوجوان اور 715 پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ تدریسی عملے کے درجنوں ارکان کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔

احتجاج کے دوران شمالی شہر لینس میں ایک 15 سالہ نوجوان کا ہاتھ اور بازو کا کچھ حصہ دھماکے میں ضائع ہوگیا۔ رائٹرز کے مطابق نوجوان پولیس کی جانب سے استعمال کیے گئے ایک دستی بم نما آلے کے پھٹنے کے واقعے میں زخمی ہوا، جبکہ واقعے کی تفصیلات اور ذمہ داری کے تعین کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

ان واقعات کے بعد پولیس کے مظاہرین سے نمٹنے کے طریقہ کار پر بھی بحث شروع ہوگئی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے نابالغ مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال پر تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے، جبکہ فرانسیسی حکام کا کہنا ہے کہ پرتشدد واقعات اور سرکاری و عوامی املاک کو نقصان پہنچانے کے واقعات کے خلاف کارروائی ضروری ہے۔

وزیراعظم سباستین لیکورنو نے طلبہ کے مطالبات پر حکومت کی جانب سے اقدامات کرنے کا اعلان کرتے ہوئے وزرا کو ہدایت دی ہے کہ وہ اکتوبر کے اختتام تک تجاویز پیش کریں۔ حکومت اسکولوں میں اساتذہ کی دستیابی بہتر بنانے، تعلیمی نظام سے متعلق طلبہ کے مطالبات کا جائزہ لینے اور پرانی عمارتوں کی مرمت کے امکانات کا بھی جائزہ لے گی۔

لیکورنو نے یہ بھی کہا ہے کہ اسکولوں کو نذر آتش کرنا یا املاک کو نقصان پہنچانا تعلیمی اداروں کی حالت بہتر کرنے کا حل نہیں، تاہم حکومت نے طلبہ کے جائز تعلیمی مطالبات پر توجہ دینے کا عندیہ دیا ہے۔

فرانس میں جاری یہ احتجاج ایسے وقت میں شدت اختیار کرگیا ہے جب ملک کو سرکاری اخراجات، بجٹ اور عوامی خدمات کے حوالے سے بھی مالی دباؤ کا سامنا ہے۔ تعلیمی شعبے میں وسائل، اساتذہ کی کمی اور اسکولوں کی حالت سے متعلق شکایات اب ملک گیر سیاسی اور سماجی بحث کا حصہ بن چکی ہیں۔

حکومت کی جانب سے کلاسز کی عارضی معطلی اور اکتوبر کے اختتام تک اصلاحاتی اقدامات کی یقین دہانی کے باوجود یہ واضح نہیں کہ احتجاج کب تک جاری رہے گا۔ طلبہ تنظیمیں مزید اقدامات کا مطالبہ کررہی ہیں، جبکہ حکومت کی توجہ اب ایک طرف امن و امان برقرار رکھنے اور دوسری جانب تعلیمی نظام سے متعلق مطالبات کا عملی حل تلاش کرنے پر مرکوز ہے۔