قطری وزارتِ خارجہ کے شعبہ اطلاعات و ابلاغ کے ڈائریکٹر ابراہیم بن سلطان الہاشمی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں بتایا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان رابطے بدستور جاری ہیں اور قطر کی ثالثی میں دونوں جانب سے پیغامات کا تبادلہ ہورہا ہے، مذاکرات کا مقصد ایسا قابلِ گفت و شنید حل تلاش کرنا ہے جس میں تمام فریقوں کے تحفظات اور خدشات کو مدنظر رکھا جائے۔

قطری عہدیدار نے کہا کہ موجودہ صورتحال کے حل کے لیے مذاکرات کا راستہ برقرار رکھنا اور تمام متعلقہ فریقوں کے مؤقف کو سمجھنا ضروری ہے، قطر خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی ذرائع سے مسائل کے حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع کے تناظر میں قطر پہلے بھی دونوں ممالک کے درمیان رابطوں اور سفارتی کوششوں میں کردار ادا کرتا رہا ہے۔ موجودہ مذاکرات میں جنگ کے خاتمے، باہمی تحفظات اور خطے میں پیدا ہونے والی سیکیورٹی صورتحال سمیت مختلف امور زیر بحث ہیں۔

قطری وزارتِ خارجہ کے عہدیدار نے سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے حوالے سے بھی دوحہ کا مؤقف واضح کیا۔

ابراہیم الہاشمی نے کہا کہ قطر خطے کے ممالک کی جانب سے اپنی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے اقدامات کی حمایت کرتا ہے۔ ان کے مطابق مکہ دفاعی معاہدہ علاقائی تعاون کو مضبوط بنانے اور رکن ممالک کے وسائل کے تحفظ اور استحکام میں کردار ادا کرتا ہے۔

انہوں نے سعودی عرب کی سلامتی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے اقدامات کی بھی حمایت کا اظہار کیا۔ قطری وزارتِ خارجہ کے مطابق دوحہ خطے میں ایسے اقدامات کا حامی ہے جو ممالک کی سلامتی اور استحکام کو مضبوط بنائیں۔

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ 7 اگست 2026 کو سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے طے کیا تھا۔ معاہدے کے تحت تینوں ممالک نے اجتماعی دفاع اور دفاعی تعاون کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا، جبکہ کسی ایک رکن پر مسلح حملے کو تینوں پر حملہ تصور کرنے کا اصول بھی معاہدے میں شامل ہے۔

قطر اس سے قبل بھی مکہ دفاعی معاہدے کا خیرمقدم کرچکا ہے اور اسے خطے میں تعاون، سلامتی اور دفاعی رابطہ کاری مضبوط بنانے کی کوشش قرار دے چکا ہے۔ تاہم تازہ بیان میں قطری عہدیدار نے واضح کیا کہ مکہ دفاعی اتحاد میں قطر کی شمولیت کے بارے میں بات کرنا ابھی قبل از وقت ہے۔

قطری عہدیدار نے کہا کہ خطے کی سلامتی کو صرف ایک ملک کا مسئلہ نہیں سمجھا جاسکتا بلکہ علاقائی ممالک کے درمیان تعاون اور رابطہ کاری کے ذریعے مشترکہ سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے ساتھ ساتھ یمن اور سعودی عرب کے درمیان بھی سیکیورٹی صورتحال اہم بنی ہوئی ہے۔ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے حالیہ دنوں میں مکہ دفاعی معاہدے کے تحت باہمی دفاعی تعاون کو عملی شکل دینے کے لیے مزید اقدامات کیے ہیں۔

مکہ دفاعی اتحاد کی اس پیش رفت کے بعد تینوں ممالک نے اجتماعی دفاعی عزم کو عملی بنانے، دفاعی صلاحیتوں اور فوجی رابطہ کاری کو بہتر بنانے کے اقدامات پر بھی اتفاق کیا ہے۔ اتحاد کے پہلے سیکریٹری جنرل کے طور پر پاکستان کے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود کی تقرری بھی کی گئی ہے۔

دوسری جانب قطر کی جانب سے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکراتی عمل جاری رکھنے کی تصدیق اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ دوحہ خطے میں جاری تنازعات کے حوالے سے سفارتی رابطوں کو برقرار رکھنے پر توجہ دے رہا ہے۔ قطری مؤقف کے مطابق کسی بھی پائیدار حل کے لیے تمام فریقوں کے تحفظات کو مذاکرات کے ذریعے سامنے لانا اور قابلِ عمل سمجھوتے کی طرف پیش رفت کرنا ضروری ہے۔