انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے کیس کی سماعت کی، جس کے دوران ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش کیا گیا۔ پولیس کی جانب سے درج مقدمے میں دونوں پر احتجاج کے دوران مبینہ طور پر سیکیورٹی روٹ میں رکاوٹ ڈالنے، سرکاری امور میں مداخلت اور لوگوں کو اشتعال دلانے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

مقدمے کے مطابق واقعہ اسلام آباد میں ایک انٹرنیشنل کرکٹ ٹیم کی آمد کے موقع پر پیش آیا۔ پولیس کا مؤقف ہے کہ احتجاج کے دوران سیکیورٹی پروٹوکول متاثر ہوا اور مبینہ طور پر روٹ میں رکاوٹ پیدا کی گئی۔ کیس میں انسدادِ دہشت گردی ایکٹ سمیت مختلف دفعات شامل کی گئی ہیں۔

سماعت کے دوران ہادی علی چٹھہ نے فرد جرم عائد کیے جانے پر اعتراض کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ انہیں تاحال مقدمے کی نقول فراہم نہیں کی گئیں، جب تک قانونی تقاضے مکمل نہ ہوں، اس وقت تک فرد جرم عائد نہیں کی جانی چاہیے۔

دفاعی وکیل زینب جنجوعہ نے بھی عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو مقدمے کی نقول فراہم نہیں کی گئیں جبکہ انہیں اپنے مؤکلوں سے ملاقات کا موقع بھی نہیں دیا گیا۔ دفاع نے عدالت سے استدعا کی کہ فرد جرم عائد کرنے سے قبل تمام قانونی تقاضے مکمل کیے جائیں۔

عدالت نے دفاع کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات کے باوجود دونوں ملزمان پر فرد جرم عائد کردی۔ سماعت کے دوران جج طاہر عباس سپرا نے دفاعی وکیل کو یہ بھی کہا کہ اگر انہیں عدالتی حکم پر اعتراض ہے تو وہ اس حکم کو متعلقہ فورم پر چیلنج کرسکتی ہیں۔

عدالت نے آئندہ سماعت پر ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے استغاثہ کے گواہوں کو بھی طلب کرلیا۔ اس کے بعد مقدمے میں باقاعدہ ٹرائل کی کارروائی آگے بڑھنے کا امکان ہے۔

اس سے ایک روز قبل 6 اکتوبر کو اسی کیس میں فرد جرم عائد نہیں ہوسکی تھی۔ اڈیالہ جیل میں بجلی کی بندش کے باعث ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش نہیں کیا جاسکا تھا، جس کے بعد عدالت نے جیل حکام کو آئندہ سماعت پر دونوں ملزمان کی ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کی تھی۔

عدالت نے جیل حکام کو یہ بھی ہدایت کی تھی کہ دونوں ملزمان کو ان کے وکلا سے ملاقات کی سہولت فراہم کی جائے۔ عدالت نے خبردار کیا تھا کہ آئندہ سماعت پر ملزمان کو پیش نہ کیا گیا تو جیل حکام کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کی جاسکتی ہے۔

ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف یہ مقدمہ ان کے دیگر قانونی معاملات سے الگ ہے۔ دونوں کے خلاف سوشل میڈیا پوسٹس سے متعلق ایک دوسرے مقدمے میں بھی کارروائی ہوچکی ہے، جس میں انہیں جنوری 2026 میں قید کی سزائیں سنائی گئی تھیں۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے 17 ستمبر کو ان سزاؤں کو معطل کرتے ہوئے دونوں کی ضمانت منظور کی تھی۔

تاہم ایک الگ مقدمے میں کارروائی کے دوران دونوں کو دوبارہ حراست میں لیا گیا اور موجودہ کیس کی عدالتی کارروائی جاری ہے۔ مختلف مقدمات الگ الگ نوعیت کے ہیں، اس لیے ہر کیس میں عائد الزامات اور عدالتی کارروائی کو الگ حیثیت حاصل ہے۔

حالیہ سماعت میں فرد جرم عائد ہونے کے بعد اب استغاثہ کے گواہوں کے بیانات اور دیگر قانونی کارروائی مقدمے کے اگلے مرحلے میں شامل ہوگی۔ عدالت کی جانب سے آئندہ سماعت کے لیے گواہوں کو طلب کیے جانے کے بعد کیس کی کارروائی مزید آگے بڑھنے کی توقع ہے۔