انتونیو گوتیرس نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں کہا کہ پاکستانی عوام انتہائی سخی، پرعزم اور شفیق ہیں اور بڑے سے بڑے چیلنجز کے سامنے ثابت قدم رہنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ کی خدمات کے اعتراف کو اپنے لیے باعثِ اعزاز قرار دیا۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ وہ یہ اعزاز دنیا بھر، خصوصاً پاکستان میں خدمات انجام دینے والے اقوام متحدہ کے تمام مرد و خواتین اہلکاروں کی جانب سے قبول کرتے ہیں۔ انہوں نے حکومت پاکستان اور پاکستانی عوام کا شکریہ بھی ادا کیا۔
انتونیو گوتیرس کا پاکستان اور پاکستانی عوام سے خصوصی تعلق اس سے قبل بھی ان کے مختلف بیانات میں سامنے آتا رہا ہے۔ پاکستان میں قیام پذیر افغان مہاجرین کے حوالے سے بھی انہوں نے پاکستانی عوام کی سخاوت اور یکجہتی کو سراہا تھا، جبکہ 2022 کے سیلاب کے دوران پاکستان کا دورہ کرتے ہوئے انہوں نے پاکستانی عوام کی ہمت، استقامت اور ایک دوسرے کی مدد کے جذبے کی تعریف کی تھی۔
اس سے قبل ایوانِ صدر میں منعقدہ خصوصی تقریب میں صدر مملکت آصف علی زرداری نے انتونیو گوتیرس کو ’نشانِ امتیاز‘ سے نوازا۔ یہ اعزاز اقوام متحدہ کی قیادت، عالمی امن و سلامتی، سفارت کاری، ترقی اور بین الاقوامی سطح پر ان کی خدمات کے اعتراف میں دیا گیا۔
تقریب میں وزیراعظم شہباز شریف، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی کابینہ کے ارکان، ارکان پارلیمنٹ اور سفارتی برادری سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات نے شرکت کی۔
پاکستانی حکام کی جانب سے انتونیو گوتیرس کی اقوام متحدہ میں قیادت اور عالمی تنازعات کے حل کے لیے سفارتی کوششوں کو سراہا گیا۔ صدر آصف علی زرداری نے ملاقات کے دوران عالمی امن، مذاکرات، کثیرالجہتی نظام اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے اقوام متحدہ کے کردار کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
صدر آصف علی زرداری نے ملاقات میں فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے فلسطینی ریاست کے قیام اور دو ریاستی حل کے لیے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس معاملے پر اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں پر عمل درآمد کی حمایت جاری رکھے گا۔
صدر نے عالمی برادری پر بھی زور دیا کہ فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے سفارتی کوششوں کو آگے بڑھایا جائے۔
جنوبی ایشیا کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے صدر زرداری نے کہا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے پاکستان اور بھارت کے درمیان بامعنی مذاکرات ضروری ہیں، تمام دیرینہ تنازعات، خصوصاً مسئلہ کشمیر، کو اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کیا جانا چاہیے۔
صدر مملکت نے پاکستان کے اس مؤقف کو بھی دہرایا کہ سندھ طاس معاہدہ ایک قانونی اور پابند بین الاقوامی معاہدہ ہے اور اسے یکطرفہ طور پر معطل نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے پانی کو سیاسی دباؤ کے لیے استعمال کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے آبی حقوق کے تحفظ پر زور دیا۔
ملاقات میں پاکستان کی علاقائی سفارت کاری کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ صدر زرداری نے کہا کہ پاکستان کشیدگی کم کرنے، مذاکرات کو فروغ دینے اور انسانی جانوں کے تحفظ کے اصولوں پر مبنی سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
افغانستان اور دہشتگردی کے معاملے پر صدر نے کہا کہ پاکستان عالمی سطح پر دہشتگردی کے خلاف کوششوں میں ایک اہم شراکت دار رہا ہے اور اس مقصد کے لیے ملک نے بڑی قربانیاں دی ہیں۔
صدر مملکت نے پاکستان کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ افغان سرزمین کو پاکستان یا کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق پاکستان نے اس حوالے سے اپنے تحفظات اور متعلقہ معلومات عالمی سطح پر بھی پیش کی ہیں۔
صدر آصف علی زرداری نے اقوام متحدہ کے امن مشنز میں پاکستان کے دیرینہ کردار کو بھی اجاگر کیا، پاکستانی فوجی اور دیگر امن مشن اہلکار کئی دہائیوں سے دنیا کے مختلف تنازعات والے علاقوں میں اقوام متحدہ کے پرچم تلے خدمات انجام دے رہے ہیں۔
صدر کے مطابق اب تک 2 لاکھ 70 ہزار سے زائد پاکستانی امن اہلکار دنیا بھر کے 48 اقوام متحدہ کے امن مشنز میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔ انہوں نے عالمی امن و سلامتی کے قیام کے لیے اقوام متحدہ کے امن مشنز کے ساتھ پاکستان کے تعاون کا اعادہ کیا۔
پاکستان اقوام متحدہ کے امن مشنز میں طویل عرصے سے اہم کردار ادا کرتا آیا ہے اور صدر مملکت نے بھی ماضی میں پاکستان کے امن مشنز میں نمایاں کردار کو اجاگر کیا ہے۔
انتونیو گوتیرس کی جانب سے نشانِ امتیاز قبول کیے جانے اور پاکستانی عوام کے لیے اظہارِ تحسین کو پاکستان اور اقوام متحدہ کے درمیان دیرینہ تعاون کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل ماضی میں بھی پاکستان کے عوام کی مہمان نوازی، سخاوت اور مشکل حالات میں ثابت قدمی کو سراہتے رہے ہیں۔
ملاقات اور اعزاز کی تقریب میں پاکستان کی خارجہ پالیسی، عالمی امن، فلسطین، مسئلہ کشمیر، علاقائی سلامتی، دہشتگردی کے خلاف تعاون اور اقوام متحدہ کے امن مشنز سمیت متعدد اہم امور زیر بحث آئے، جبکہ دونوں جانب سے کثیرالجہتی تعاون اور عالمی امن کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا







