ایوانِ صدر میں ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی، جس میں صدر آصف علی زرداری نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کو پاکستان کا اعلیٰ قومی اعزاز ’نشانِ امتیاز‘ عطا کیا۔ تقریب میں وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، اسپیکر قومی اسمبلی اور دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک ہوئے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پانی کو سیاسی دباؤ کے ذریعے کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے، آبی وسائل سے متعلق معاملات کو بین الاقوامی معاہدوں اور اصولوں کے تحت حل کیا جانا چاہیے، جبکہ سندھ طاس معاہدے کی حیثیت اور اس سے جڑے معاملات کو یکطرفہ اقدامات کے ذریعے تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔
صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور باہمی تعاون کا خواہاں ہے، تاہم پائیدار امن کے قیام کے لیے دیرینہ تنازعات کا حل ناگزیر ہے۔ انہوں نے بالخصوص جموں و کشمیر کے تنازعے کے منصفانہ حل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ علاقائی کشیدگی کے خاتمے کے لیے مذاکرات اور بامعنی مکالمے کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
آصف علی زرداری نے کہا کہ علاقائی تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات کا کوئی متبادل نہیں، عالمی برادری کو تنازعات کے پرامن حل اور فریقین کے درمیان مکالمے کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، طاقت یا یکطرفہ اقدامات کے بجائے سفارتی ذرائع سے مسائل کا حل تلاش کرنا ہی خطے کے وسیع تر مفاد میں ہے۔
صدر مملکت نے فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت کا بھی اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے جائز حقوق اور ان کے حقِ خودارادیت کی بھرپور حمایت جاری رکھے گا اور عالمی برادری کو فلسطین کے مسئلے کے پرامن اور منصفانہ حل کے لیے مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔
افغانستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان کو افغان سرزمین سے سرگرم دہشتگرد گروہوں کی جانب سے مسلسل دہشتگردی کا سامنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ افغان سرزمین پاکستان یا کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔
صدر مملکت نے کہا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے تمام ممالک کو اپنی سرزمین دوسرے ممالک کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے، دہشتگردی کے خاتمے اور علاقائی سلامتی کے لیے بین الاقوامی تعاون اور مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
تقریب کے دوران صدر آصف علی زرداری نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کی عالمی امن، مکالمے اور کثیرالجہتی تعاون کے لیے کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر عالمی مسائل کے حل، امن کے فروغ اور مختلف ممالک کے درمیان مکالمے کو آگے بڑھانے میں انتونیو گوتریس کا کردار قابلِ قدر ہے۔
انتونیو گوتریس نے پاکستان کی جانب سے ’نشانِ امتیاز‘ دیے جانے پر صدر مملکت اور پاکستانی عوام کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ اور عالمی امن کے لیے کی جانے والی کوششوں کو بھی سراہا۔
صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر، کثیرالجہتی نظام اور مذاکرات کے ذریعے تنازعات کے حل کے اصولوں پر یقین رکھتا ہے۔ ان کے مطابق عالمی برادری کو ایسے اقدامات کی حمایت کرنی چاہیے جو کشیدگی کم کرنے، اعتماد سازی اور پائیدار امن کے قیام میں مددگار ثابت ہوں۔
تقریب میں اعلیٰ سیاسی و حکومتی قیادت کی شرکت کے موقع پر پاکستان اور اقوام متحدہ کے درمیان تعاون، عالمی امن، علاقائی سلامتی اور مختلف بین الاقوامی تنازعات کے حل کے حوالے سے پاکستان کے مؤقف کو بھی اجاگر کیا گیا۔
صدر آصف علی زرداری نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے گا اور تنازعات کے حل کے لیے بات چیت اور مذاکرات کو ترجیح دے گا، تاہم پاکستان کی سلامتی، آبی حقوق اور قومی مفادات کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔







