پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ڈیزل کی قیمت میں 85 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 398 روپے 66 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور اس کی فی لیٹر قیمت 377 روپے 91 پیسے برقرار رکھی گئی ہے۔
اس سے قبل وزارت پیٹرولیم ڈویژن نے 29 اکتوبر کے لیے پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا، جس کے مطابق آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے وفاقی حکومت کے مقرر کردہ طریقہ کار کے تحت قیمتوں میں رد و بدل کیا تھا۔
اس نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 1 روپے 85 پیسے اضافہ کیا گیا تھا، جس کے بعد پیٹرول 376 روپے 06 پیسے سے بڑھ کر 377 روپے 91 پیسے فی لیٹر ہوگیا تھا۔
اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 1 روپے 75 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا تھا، جس کے بعد ڈیزل کی قیمت 398 روپے 07 پیسے سے بڑھ کر 399 روپے 82 پیسے فی لیٹر ہوگئی تھی۔
پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق 29 اکتوبر 2026 تک ہونا تھا۔ اعلان کردہ قیمتیں عالمی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کے نرخوں سے منسلک ہیں، جبکہ عالمی نرخ، پلاٹس ریٹس، پریمیم اور دیگر اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے قیمتوں میں رد و بدل کیا جاتا ہے۔
یاد رہے کہ 27 اکتوبر کو حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 3 روپے 19 پیسے فی لیٹر کمی کی تھی، جس کے بعد پیٹرول 376 روپے 06 پیسے فی لیٹر ہوگیا تھا۔ اس کے برعکس ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 2 روپے 25 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا تھا، جس کے بعد اس کی قیمت 398 روپے 07 پیسے فی لیٹر مقرر ہوئی تھی۔
اس سے قبل 26 اکتوبر کو پیٹرول کی قیمت میں 1 روپے 54 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 2 روپے 16 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری بحران کے باعث حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا روزانہ کی بنیاد پر تعین کر رہی ہے، تاہم ہفتہ اور اتوار کو قیمتیں برقرار رہتی ہیں۔
مسلسل مہنگے ایندھن کے اثرات کم کرنے کے لیے وزیراعظم شہباز شریف نے 13 ستمبر کو موٹرسائیکل، رکشہ، چنگچی اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے صارفین کے لیے فی لیٹر پیٹرول پر 100 روپے ریلیف دینے کا اعلان بھی کیا تھا۔







