فلم کے ہدایت کار بلال لاشاری نے انسٹاگرام پر خوشخبری شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ فلم نے 11 اگست کو چین کے شہر ہاربن میں ہونے والے فیسٹیول کی اختتامی تقریب میں اسپیشل جیوری ایوارڈ اور بیسٹ آرٹ ڈائریکشن کا اعزاز حاصل کیا۔

بلال لاشاری نے اس کامیابی کو اپنے لیے خاص قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ جیکی چن کی فلمیں دیکھ کر بڑے ہوئے ہیں، اس لیے ایسے اسٹیج پر پاکستان کی نمائندگی کرنا اور جیکی چن سے ملاقات کرنا ان کے لیے ایک ناقابلِ یقین لمحہ تھا۔

فلمساز نے ہاربن میں ہونے والی تقریب کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ تقریب کے دوران بارش بھی ہوتی رہی، تاہم ہزاروں افراد کی موجودگی میں یہ پورا تجربہ ان کے لیے یادگار بن گیا۔ ان کے مطابق ایک ہدایت کار ایسے لمحات کا خواب دیکھتا ہے اور ان کے ساتھ یہ حقیقت میں پیش آیا۔

بلال لاشاری نے جیکی چن سے ملاقات کو بھی اپنے لیے خاص اعزاز قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جیکی چن کی فلموں نے انہیں اور ان کی نسل کے بہت سے لوگوں کو ایکشن سنیما سے محبت کرنا سکھایا، اس لیے اسی اسٹیج پر ان کا نام دیکھنا، پاکستان کی نمائندگی کرنا اور جیکی چن سے ہاتھ ملانا ان کے لیے ناقابلِ فراموش تجربہ ہے۔

انہوں نے ایکشن فلموں کی عالمی مقبولیت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ایک اچھی ایکشن فلم دنیا کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو ایک جگہ جمع کرسکتی ہے اور اسے محسوس کرنے کے لیے کسی سب ٹائٹل کی ضرورت نہیں ہوتی۔

بلال لاشاری نے بہترین آرٹ ڈائریکشن کا ایوارڈ فلم کے پروڈکشن ڈیزائنرز نمسا عباسی اور حمزہ باجوہ کے نام کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے صرف فلم کے سیٹ اور ڈیزائن تیار نہیں کیے بلکہ ایک مکمل دنیا تخلیق کی، جس کی وجہ سے فلم کا ہر منظر جاندار دکھائی دیتا ہے۔

انہوں نے فلم کی پروڈیوسر عمارہ حکمت کو بھی یاد کیا جو تقریب میں شرکت نہیں کرسکیں اور کہا کہ ٹیم نے ہاربن میں ان کی غیر موجودگی محسوس کی۔

بلال لاشاری نے ’دی لیجنڈ آف مولا جٹ‘ کی پوری ٹیم اور پاکستان میں موجود فلم کے شائقین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ کامیابی پوری ٹیم اور پاکستان کے نام ہے۔

’دی لیجنڈ آف مولا جٹ‘ کے لیے یہ اعزازات ایک اور اہم بین الاقوامی کامیابی ہیں اور فلم کی عالمی سطح پر پذیرائی میں ایک اور سنگِ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔