این سی سی آئی اے کے ترجمان کے مطابق نئے شواہد کی روشنی میں معاملے کی ازسرنو تحقیقات کے لیے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔ ٹیم کی سربراہی ڈپٹی ڈائریکٹر سطح کا افسر کرے گا، جبکہ تحقیقاتی ٹیم نئے ڈیجیٹل شواہد، سابقہ ریکارڈ اور کیس سے متعلق دیگر معلومات کا تفصیلی جائزہ لے گی۔

ترجمان کے مطابق خصوصی تحقیقاتی ٹیم کو تحقیقات مکمل کرنے کے لیے ایک ماہ کا وقت دیا گیا ہے، جس کے بعد ٹیم اپنی رپورٹ ڈائریکٹر جنرل این سی سی آئی اے کو پیش کرے گی۔ رپورٹ کی روشنی میں کیس میں آئندہ قانونی کارروائی سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔

عدالت میں پیش رفت کے دوران تفتیشی افسر نے بتایا کہ این سی سی آئی اے نے کیس کی تفتیش تبدیل کرکے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم، یعنی جے آئی ٹی تشکیل دی ہے۔ تفتیشی افسر کے مطابق فی الحال ثاقب چدھڑ اور ان کی اہلیہ سمیرا کی گرفتاری درکار نہیں ہے۔

تفتیشی افسر نے مزید بتایا کہ ثاقب چدھڑ نے تفتیشی افسر کے بیان کی روشنی میں اپنی عبوری ضمانت واپس لے لی ہے۔

دوسری جانب اداکارہ مومنہ اقبال نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ پہلے دن سے مؤقف اختیار کررہی ہیں کہ کیس کو جانبداری کے بجائے غیر جانب داری سے دیکھا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس معاملے کو ادھورا نہیں چھوڑیں گی اور قانونی طور پر اپنی جدوجہد جاری رکھیں گی۔

مومنہ اقبال نے کہا کہ انہوں نے ان لوگوں کی بات پر اعتماد کیا جنہوں نے کرسی پر بیٹھ کر یہ کہا تھا کہ انہیں کیس کے دونوں فریقین کا مؤقف معلوم ہے، معاملے کے تمام پہلوؤں کو سامنے لایا جانا چاہیے اور کسی ایک فریق کے مؤقف کی بنیاد پر فیصلہ نہیں ہونا چاہیے۔

اداکارہ نے مزید کہا کہ وہ اس کیس کو ایسے نہیں چھوڑیں گی، چاہے اس معاملے میں انہیں جس کسی سے بھی رجوع کرنا پڑے۔ ان کے مطابق ان کا مقصد یہ ہے کہ کیس کی تحقیقات مکمل طور پر شفاف انداز میں ہوں اور تمام متعلقہ شواہد کا جائزہ لیا جائے۔

این سی سی آئی اے کی جانب سے نئے نوٹسز اور خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل کے بعد اب کیس میں سامنے آنے والے نئے ڈیجیٹل شواہد کا جائزہ لیا جائے گا، جبکہ سابقہ ریکارڈ اور فریقین کے بیانات کو بھی تحقیقات کا حصہ بنایا جائے گا۔ ایک ماہ بعد پیش کی جانے والی تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں کیس کے آئندہ قانونی مرحلے کا تعین کیا جائے گا۔