جیمائما گولڈ اسمتھ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر خواجہ آصف کے بیان کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وزیر دفاع نے جس مذہبی اصول کا حوالہ دیا ہے، اسی کے مطابق انہیں بھی یہودی نہیں سمجھا گیا، کیونکہ ان کی والدہ چرچ آف انگلینڈ سے تعلق رکھنے والی پروٹسٹنٹ تھیں۔
جیمائما نے مزید کہا کہ اسی منطق کے تحت ان کے والد بھی یہودی نہیں تھے، کیونکہ ان کی والدہ، یعنی جیمائما کی دادی، فرانسیسی کیتھولک تھیں۔
جیمائما گولڈ اسمتھ کا کہنا تھا کہ ان کے بیٹوں سلیمان اور قاسم کو کم تر دکھانے کی کوشش میں وزیر دفاع نے دراصل اپنے ہی مؤقف کو اپنے خلاف استعمال کرلیا۔
اس سے قبل خواجہ آصف نے ایکس پر جاری بیان میں یہودی مذہبی روایت میں شناخت کے حوالے سے مادری نسبت کا ذکر کیا تھا، مرکزی یہودی روایت کے مطابق کسی شخص کی یہودی شناخت اس کی والدہ کے نسب سے متعین ہوتی ہے اور اگر والدہ یہودی ہو تو والد کے مذہب سے قطع نظر اولاد کو یہودی تصور کیا جاتا ہے۔
وزیر دفاع نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی مؤقف اختیار کیا تھا کہ یہودی روایت میں مادری نسبت کو حیاتیاتی طور پر یقینی جبکہ پدری نسبت کو امکان کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق خواجہ آصف کے بیان کو عمران خان کے دونوں بیٹوں کی شناخت کے تناظر میں دیکھا گیا، جس کے بعد جیمائما گولڈ اسمتھ نے سوشل میڈیا پر تفصیلی ردعمل دیا۔
جیمائما نے اپنے جواب میں خواجہ آصف کے بیان کے ایک حصے سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ اسی وجہ سے یہودی برادری نے انہیں کبھی یہودی نہیں سمجھا، کیونکہ ان کی والدہ پروٹسٹنٹ مسیحی تھیں۔
بعد ازاں وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک اور ایکس پوسٹ کے ذریعے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جانب سے صرف ایک مذہبی اصول بیان کیا گیا تھا، ان کا مقصد کسی فرد یا خاندان کو نشانہ بنانا نہیں تھا۔
خواجہ آصف نے کہا کہ وہ تمام اہلِ کتاب کا بے حد احترام کرتے ہیں اور اسلام بھی اس احترام کی تعلیم دیتا ہے۔
دوسری جانب عمران خان کے بیٹے قاسم خان نے بھی اس معاملے پر سوشل میڈیا کے ذریعے ردعمل کا اظہار کیا اور خواجہ آصف کے بیان میں پیش کی گئی منطق پر تنقید کی۔
یوں یہ معاملہ سوشل میڈیا پر سیاسی بیان سے بڑھ کر مذہبی شناخت، خاندانی نسب اور ذاتی حوالوں کے حوالے سے بحث کا موضوع بن گیا ہے، جس میں متعلقہ فریقین کی جانب سے اپنے اپنے مؤقف کی وضاحت سامنے آ رہی ہے۔







