اقوام متحدہ نے ایک بڑی وارننگ جاری کر دی ہے کہ اگلا سال، یعنی 2027 انتہائی گرم ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ دنیا بھر میں ٹیمپریچر کے پرانے ریکارڈز ٹوٹ جائیں گے۔ کئی خطوں کے موسمی حالات مکمل طور پر بدل جائیں گے۔
آخر یہ سب کچھ ہو کیوں رہا ہے؟ اس کی ایک بڑی وجہ ہے ایل نینو ہے جو پیسفک اوشن میں بننے والا ایک قدرتی موسمی پیٹرن ہے، جو عام طور پر ہر دو سے سات سال کے دوران بنتا ہے۔ لیکن اس بار خدشہ ہے کہ ایل نینو معمول سے کہیں زیادہ طاقتور ہو سکتا ہے اسی لیے اسے سپر ایل نینو کہا جا رہا ہے۔
عام حالات میں پیسفک اوشن کی ہوائیں مشرق سے مغرب کی طرف چلتی ہیں یعنی امریکا کی طرف سے ایشیا اور آسٹریلیا کی جانب۔ ان ہواؤں کی وجہ سے گرم پانی ایشیا اور آسٹریلیا کے قریب جمع رہتا ہے۔
لیکن ایل نینو کے دوران یہ ہوائیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ نتجہ یہ نکلتا ہے کہ گرم پانی مشرق کی طرف جانے لگتا ہے اور پیسفک اوشن کا مشرقی حصہ غیر معمولی طور پر گرم ہو جاتا ہے۔
اس کا اثر دنیا کے موسم کچھ یوں پڑتا ہے کہ کچھ علاقوں میں شدید بارشیں اور سیلاب آ سکتے ہیں جبکہ دوسرے علاقوں میں خشک سالی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
کچھ ممالک ایسے ہوں گے جنہیں مہینوں تک شدید گرمی اور خشک سالی کا سامنا کرنا پڑے گا جس سے وہاں کی فصلیں تباہ ہو جائیں گی۔ جبکہ اس کے برعکس، کچھ ممالک ایسے ہوں گے جو مہینوں تک طوفانی بارشوں اور سیلاب جیسے خطرناک حالات کی زد میں رہیں گے۔
یو این کی تازہ رپوٹ کے مطابق کم از کم پانچ کروڑ افراد براہ راست متاثر ہوں گے اور انہیں شدید غذائی قلت یعنی کھانے پینے کی شدید کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اور تشویشناک بات یہ ہے کہ پوری دنیا میں کوئی بھی خطہ اس کے اثرات سے مکمل طور پر محفوظ نہیں رہے گا۔
آسٹریلیا میں خشک موسمی حالات کی وجہ سے جنگلات میں آگ لگنے کے واقعات بڑھ سکتے ہیں۔ انڈونیشیا کو بھی اسی طرح کے خطرے کا سامنا ہے۔
پاکستان اور بھارت میں مون سون بارشوں کا سسٹم کمزور پڑ سکتا ہے، یعنی یہاں بھی خشک سالی کا خطرہ منڈلا رہا ہے جس سے فصلیں بری طرح متاثر ہو سکتی ہیں۔
دوسری طرف جنوبی امریکہ کے ممالک کو طوفانی بارشوں اور سیلابی صورتحال کا سامنا ہو سکتا ہے اور امریکہ کے جنوبی حصے بھی اس سے محفوظ نہیں رہیں گے۔ اور یہی تبدیلی آگے چل کر دنیا کے مختلف حصوں میں گرمی، خشک سالی، شدید بارشوں اور سیلاب کی وجہ بن بنتی ہے۔







