ذرائع کے مطابق مجوزہ مسودے میں آئینی ترمیم کے بجائے ایکٹ آف پارلیمنٹ کے تحت اسلام آباد اسمبلی تشکیل دینے کی تجویز دی گئی ہے۔ قومی اسمبلی کے ہر حلقے سے اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری اسمبلی کی 7 نشستیں قائم کرنے کی تجویز ہے، جب کہ اسلام آباد کی اپنی اسمبلی، چیف ایگزیکٹو اور 27 انتظامی محکمے ہوں گے۔

مجوزہ مسودے میں اسلام آباد کے لیے وزیر اعلیٰ یا میئر کے عہدے کی تجویز بھی شامل ہے۔ اسمبلی کے 21 ارکان براہِ راست عوام کے ووٹ سے منتخب کرنے، خواتین کے لیے 5 مخصوص نشستیں اور اقلیتوں کے لیے ایک نشست مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

مسودے میں صحت، تعلیم، ماحولیات اور شہری سہولتوں کو مقامی حکومت کے دائرہ اختیار میں لانے کی بھی تجویز ہے۔

مجوزہ ڈرافٹ کے مطابق قانون، امن و امان اور اسلام آباد کی ماسٹر پلاننگ کے معاملات وفاق کے پاس رہیں گے، جبکہ دیگر انتظامی امور منتخب حکومت کے حوالے کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

مسودے میں اسلام آباد میں اختیارات کے بکھرے ہوئے نظام کو ایک مربوط ڈھانچے میں لانے اور سی ڈی اے سمیت مختلف اداروں کے اختیارات ازسرنو ترتیب دینے کی سفارش کی گئی ہے۔

سی ڈی اے کے تمام اختیارات اور فرائض اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری حکومت کو منتقل کرنے، جبکہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2015 کے تحت دیگر اداروں کے فرائض بھی منتقل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

اسلام آباد کے انتظامی امور چلانے کے لیے چیف سیکرٹری اور 4 سیکرٹریز تعینات کرنے کی تجویز بھی مسودے میں شامل ہے۔ ذرائع کے مطابق چاروں سیکرٹریز کو مختلف انتظامی گروپس اور محکموں کی ذمہ داریاں سونپنے کی تجویز دی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں قائم تمام ادارے پورے اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری کے لیے کام کریں گے، جبکہ پورے پاکستان کے لیے قائم وفاقی ادارے اسلام آباد میں بھی بدستور کام کرتے رہیں گے۔

مجوزہ مسودے میں اسلام آباد کے نئے انتظامی نظام کے لیے جامع اور متحدہ قانون سازی کرنے اور سی ڈی اے آرڈیننس 1960 میں ضروری ترامیم کی سفارش بھی کی گئی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کو پیش کیے گئے مجوزہ مسودے میں تجویز کیا گیا ہے کہ اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری حکومت اپنے امور چلانے کے لیے قواعدِ کار خود مرتب کرے گی، جبکہ اسمبلی کے ہر رکن پر آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کا اطلاق ہوگا۔

مجوزہ ڈھانچے کے تحت انتخابات الیکشن کمیشن کے تحت منعقد ہوں گے، جبکہ اسلام آباد کا چیف ایگزیکٹو میئر یا وزیر اعلیٰ کہلائے گا اور منتخب اسمبلی کو جوابدہ ہوگا۔

مسودے کے مطابق لا اینڈ آرڈر اور ماسٹر پلاننگ کے معاملات وفاق متعلقہ وزارت یا گورنر کے ذریعے چلائے گا، جبکہ اسمبلی کو صوبائی طرز کی انتظامی اور مالی خودمختاری حاصل ہوگی۔

ذرائع کے مطابق اسلام آباد کے نئے انتظامی ڈھانچے کی منظوری وفاقی کابینہ دے گی، جس کے بعد سینیٹ اور قومی اسمبلی میں قانون سازی کی جائے گی۔

مجوزہ مسودہ اعلیٰ سطح کی خصوصی کمیٹی نے وزیراعظم شہباز شریف کو پیش کیا۔ کمیٹی میں وفاقی وزرا طارق فضل چوہدری، مصدق ملک، رانا ثنا اللہ، طلال چوہدری، اسلام آباد کے دونوں ارکان قومی اسمبلی اور سیکرٹری داخلہ شامل ہیں۔