سہیل آفریدی نے اپنے بیان میں کہا کہ ’فارم 47 کی جعلی وزیر اعلیٰ‘ نے پنجاب سے ملحقہ پاکستان کے 3 دیگر صوبوں کو دہشتگردی کی بنیاد قرار دیا، جس سے عالمی سطح پر دہشتگردی کے حوالے سے ریاست پاکستان کے مؤقف کو نقصان پہنچا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مریم نواز کے بیان سے اس نظام کو بنانے اور چلانے والوں کی سوچ پر بھی سوالات اٹھتے ہیں، جب کہ پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی کے حوالے سے انڈیا کو بری الذمہ قرار دینے کے مترادف ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ پاکستان اور انڈیا کی جنگ کے دوران نواز شریف سمیت یہ لوگ غائب رہے اور جنگ کے خاتمے تک کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔
انہوں نے ڈان لیکس کا حوالہ دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اس کے ذریعے بھی دہشتگردی کا الزام پاکستان پر عائد کیا گیا تھا۔
سہیل آفریدی نے الزام لگایا کہ یہ لوگ قومی مفاد کے مقابلے میں ذاتی مفاد کو ترجیح دیتے ہیں، جب کہ پاکستان، پاکستانی عوام اور ادارے صرف اس وقت ان کے لیے قابل احترام ہوتے ہیں جب ان کے ذاتی مفادات کا تحفظ ہو۔
انہوں نے کہا کہ چھوٹے صوبوں کے خلاف تعصب پر مبنی لہجہ پاکستان مسلم لیگ ن کی ملک کو تقسیم کرنے والی سوچ کی عکاسی کرتا ہے، جب کہ 3 وفاقی اکائیوں کو دہشتگردی کی بنیاد قرار دینا ملک کی بنیادوں کو مزید کمزور کرنے کے مترادف ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے مزید کہا کہ 8 فروری 2024 کو عوام نے نہ صرف پاکستان بلکہ پنجاب اور لاہور میں بھی انہیں مسترد کردیا تھا۔ عوام کے ووٹ اور فیصلے کی قدر نہ کرکے ملک کو مضبوط نہیں بلکہ کمزور کیا جاتا ہے۔
دوسری جانب وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے سہیل آفریدی کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ دوسروں پر بیان بازی سے اپنی کارکردگی کی کمزوریاں نہیں چھپائی جاسکتیں۔ پنجاب میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد بڑھانے پر کام جاری ہے۔
مزید پڑھیں: پنجاب کو ہمسایہ ملک سے زیادہ پڑوسی صوبوں سے دہشتگردی کا خطرہ، وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز
خیال رہے کہ گزشتہ روز لاہور میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس ہب کی لانچنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا تھا کہ انہیں پڑوسی ممالک سے کم جب کہ پڑوسی صوبوں سے زیادہ خطرہ ہے اور پنجاب میں دہشتگردی پڑوسی صوبوں سے آتی ہے۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ پنجاب کی سکیورٹی پر اربوں روپے خرچ کیے جارہے ہیں، جب کہ صوبے کے بارڈر ایریاز سے آنے والے سکیورٹی تھریٹس کے تدارک کے لیے جوائنٹ چیک پوسٹوں کو مضبوط کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کچے کا علاقہ کئی دہائیوں سے جرائم کا گڑھ بنا ہوا تھا، تاہم فوج اور سندھ حکومت کی مدد سے وہاں حالات قابو میں ہیں۔ انٹیلیجنس ہب سکیورٹی اداروں کے درمیان رابطہ کاری کا اہم مرکز ثابت ہوگا۔







