مریم نواز نے گزشتہ روز ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ افسوس کی بات ہے کہ انہیں خطرہ پڑوسی ملک سے کم اور پڑوسی صوبے سے زیادہ ہے، وہاں سے دہشتگردی پنجاب میں آتی ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ پنجاب کو محفوظ اور پُرامن صوبہ بنانا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب کے مذکورہ بیان پر مختلف سیاسی رہنماؤں کی جانب سے تنقید کی جا رہی ہے، جس کے پیش نظر سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے وضاحتی بیان جاری کیا۔
مریم اورنگزیب نے کہا کہ مریم نواز کی دہشتگردی کے خلاف گفتگو کو منفی انداز میں پیش کرنا افسوسناک ہے، وہ دہشتگردوں کی بین الصوبائی نقل و حرکت اور اس سے پیدا ہونے والے خطرات کی بات کر رہی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی حاسدین نے وزیر اعلیٰ کی گفتگو کو صوبائیت اور لسانیت کا گھٹیا رنگ دے دیا۔ ایسے عناصر دہشتگردوں کے سہولت کار اور قوم میں تقسیم چاہتے ہیں۔
مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ مریم نواز صوبوں اور ان میں بسنے والی تمام اقوام کا ہمیشہ احترام کرتی ہیں۔
مریم نواز کے بیان پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ پاک بھارت جنگ کے دوران بھی نواز شریف سمیت پورا ٹولہ غائب تھا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ یہ پورا ٹولہ ہمیشہ قومی مفاد کے آگے اپنے ذاتی مفاد کو ترجیح دیتا ہے، جبکہ ملکی ادارے بھی تب تک ان کے لیے محترم ہیں جب تک ان کے ذاتی مفاد کا تحفظ ہوتا ہے۔
دوسری جانب وزیر اطلاعات خیبر پختونخوا شفیع جان نے مریم نواز کے بیان کو غیر ذمہ دارانہ اور قابلِ مذمت قرار دیا۔
شفیع جان نے کہا کہ دہشتگردی جیسے حساس اور سنگین معاملے پر سیاست چمکانا (ن) لیگ کا وتیرہ ہے، مریم نواز کا بیان صوبوں کے درمیان نفرت اور بداعتمادی پیدا کرنے کی کوشش ہے۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن صوبے کا کردار ادا کیا ہے، یہ جنگ کسی ایک صوبے کی نہیں بلکہ پوری قوم کی جنگ ہے۔
شفیع جان کا کہنا تھا کہ ایسے وقت میں قومی یکجہتی کے بجائے حساس معاملے کو صوبائیت کی بھینٹ چڑھانا افسوسناک ہے۔ انہوں نے مریم نواز سے متنازع بیان پر معافی مانگنے کا مطالبہ بھی کیا۔







