لائیو

اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کا اجلاس جاری، غزہ اور ایران جنگ سمیت عالمی بحرانوں پر بحث؛ 'شہباز شریف نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ روک کر تین کروڑ لوگوں کی جانیں بچائیں'

مادھو لعل حسین چانڈیو
اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کا اجلاس جاری، غزہ اور ایران جنگ سمیت عالمی بحرانوں پر بحث؛ 'شہباز شریف نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ روک کر تین کروڑ لوگوں کی جانیں بچائیں'22 ستمبر، 2026

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کا اعلیٰ سطحی جنرل ڈیبیٹ نیویارک میں شروع ہوگیا ہے، جہاں دنیا بھر سے سربراہانِ مملکت و حکومت اور اعلیٰ حکام عالمی امن و سلامتی، جنگوں، معاشی مسائل، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر اہم عالمی معاملات پر اپنا مؤقف پیش کر رہے ہیں۔ جنرل ڈیبیٹ 22 سے 26 ستمبر تک جاری رہے گا جب کہ 28 ستمبر کو بھی اجلاس ہوگا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے اپنی تقریر میں ایران کے خلاف جنگ، عالمی امن اور امریکی خارجہ پالیسی پر بات کی۔ انہوں نے ایران کے حوالے سے امریکی اقدامات کا دفاع کیا اور عالمی سطح پر جاری تنازعات کے تناظر میں اپنے مؤقف سے آگاہ کیا۔ ٹرمپ نےکہا کہ پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف ایک بہترین انسان ہیں، انہوں نے کہا ہے کہ میں نے جنگ روک کر تین کروڑ لوگوں کی جانیں بچائیں۔

  • اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اپنے آخری جنرل اسمبلی خطاب میں عالمی تنازعات کے خاتمے، مصنوعی ذہانت کے مؤثر ضابطے، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے اور اقوام متحدہ کے اداروں میں اصلاحات پر زور دیا۔ انہوں نے مشرق وسطیٰ میں سفارتی کوششوں اور اسرائیل فلسطین تنازع کے دو ریاستی حل کی حمایت بھی دہرائی۔

  • پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف بھی 81ویں جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک پہنچ چکے ہیں۔ ان کے ہمراہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور معاون خصوصی طارق فاطمی بھی موجود ہیں۔

  • وزیراعظم 25 ستمبر کو جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے، جس میں علاقائی و عالمی سلامتی، مذاکرات، سفارت کاری اور تنازعات کے پرامن حل سمیت پاکستان کے اہم مؤقف پیش کیے جانے کی توقع ہے۔

  • شہباز شریف اپنے خطاب میں کشمیر اور فلسطین کے علاوہ دہشت گردی، اسلاموفوبیا، موسمیاتی تبدیلی، پائیدار ترقی اور عالمی معاشی مسائل پر پاکستان کا مؤقف پیش کریں گے، وزیراعظم کے دورے کے دوران مختلف عالمی رہنماؤں کے ساتھ ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔

تازہ اپڈیٹس

  1. ٹرمپ کا جنرل اسمبلی میں ایران کو سخت انتباہ؛ ’دنیا کو فیصلہ کرنا ہوگا، تہران سے معاہدہ ہوگا یا سخت کارروائی‘

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا آج پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہے، جب کہ انہوں نے ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کا دفاع کرتے ہوئے تہران پر جوہری ہتھیاروں کے حصول اور دہشت گردی کی حمایت کے الزامات عائد کیے ہیں۔

    ٹرمپ نے اپنے خطاب کا آغاز امریکا کی طاقت اور معاشی و عسکری پوزیشن کو اجاگر کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مریکا واپس آچکا ہے اور ہمارا ملک آج پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔

    امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 12 ماہ کے دوران امریکی فوج پر پہلے سے زیادہ رقم خرچ کی گئی جب کہ موجودہ مدت میں یہ رقم 1.5 ٹریلین ڈالر تک پہنچ جائے گی۔

    امریکی صدر نے ایران کے حوالے سے کہا کہ تہران کو دنیا کے لیے خطرہ بننے کے لیے طاقت جمع کرنے کی اجازت دی گئی، تاہم امریکا نے کارروائی کرکے ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روک دیا۔ اگر ایران جوہری بم بنانے میں کامیاب ہوجاتا تو وہ خطے اور دنیا میں مزید تباہی پھیلا سکتا تھا۔

    ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مستقبل کے حوالے سے سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ اب فیصلہ ایران کے ہاتھ میں ہے کہ وہ ایسا معاہدہ کرتا ہے جس کے ذریعے ملک دوبارہ تعمیر ہوسکے یا امریکا مزید سخت کارروائی کرے۔

    امریکی صدر نے کہا کہ وہ ایران کے ساتھ ایک ایسے معاہدے کے امکان پر یقین رکھتے ہیں جس کے تحت تہران اپنا جوہری پروگرام اور دہشت گردی کی حمایت ختم کرے۔ انہوں نے عالمی ممالک پر زور دیا کہ ایران کے خلاف مکمل معاشی دباؤ برقرار رکھا جائے۔

    ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات کے نتائج کا انتظار کر رہا ہے، انتخابات ایران سے متعلق امریکی پالیسی پر اثرانداز نہیں ہوں گے۔

    امریکی صدر نے کہا کہ اگر قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ضرورت پڑی تو امریکا فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔ انہوں نے اپنی انتظامیہ کی معاشی، سکیورٹی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں کارکردگی کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ امریکا تقریباً ہر شعبے میں قیادت کر رہا ہے۔

    ٹرمپ نے غیر قانونی امیگریشن کے خلاف اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکا کی سرحدیں اب اس کی تاریخ میں سب سے زیادہ محفوظ ہیں۔

    ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں کا ذکر شروع کیے جانے کے کچھ دیر بعد جنرل اسمبلی میں موجود ایرانی وفد کے ارکان ہال سے باہر چلے گئے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی خود ٹرمپ کی تقریر سننے کے لیے ہال میں موجود نہیں تھے۔

    ٹرمپ کے خطاب کے موقع پر امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی رابطوں کی بحالی کے امکانات بھی زیر بحث ہیں۔ ایران کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اگر امریکا فوجی دباؤ کم کرے اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرے تو آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر بات ہوسکتی ہے، جب کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی مذاکرات کے امکان کو مسترد نہیں کیا۔

مزید خبریں