ایرانی رائٹرز ایسوسی ایشن کے ٹریڈ یونین کمیشن کی جانب سے جمعرات، 5 نومبر 2026 کو جاری کردہ رپورٹ میں متعدد ادیبوں اور مترجمین کے تجربات کی بنیاد پر بتایا گیا ہے کہ جنگ نے پہلے سے موجود معاشی اور پیشہ ورانہ مشکلات کو مزید سنگین کردیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بعض مصنفین اور مترجمین کے پہلے سے منظور شدہ اشاعتی اجازت نامے منسوخ کیے گئے، جب کہ نئی کتابوں اور دوبارہ اشاعت کے عمل میں جانچ پڑتال سخت کردی گئی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ دو ناول، جو جنگ سے پہلے کئی برس تک زیرِ جائزہ اور بعد ازاں معطل رہے، جنگ شروع ہونے کے بعد باضابطہ طور پر غیر مجاز قرار دے دیے گئے۔

اسی طرح ایک شعری مجموعے کو اشاعت کی اجازت اس وقت ملی جب اس کے پورے نو صفحات حذف کردیے گئے۔ ایک اور واقعے میں تقریباً 30 سال پرانی کتاب دوبارہ شائع کرنے کے خواہش مند ناشر کو ایک جملہ نکالنے کی ہدایت دی گئی، جس میں ایک مصنف کو اپنی اہلیہ کا ہاتھ تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق سنسرشپ صرف تحریروں سے جملے حذف کرنے تک محدود نہیں رہی بلکہ بعض ناشرین سرکاری جانچ پڑتال کے خوف سے وزارتِ ثقافت و اسلامی رہنمائی کو مسودے بھیجنے سے پہلے ہی انہیں شائع کرنے سے انکار کردیتے ہیں۔ اس صورتِ حال کے باعث مصنفین میں خود سنسرشپ کا رجحان بھی بڑھ رہا ہے۔

رپورٹ میں کتابوں کی اشاعت کے محدود ہوتے حجم کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ بعض کتابوں کے ایڈیشن کی تعداد کم ہوکر تقریباً 200 کاپیاں رہ گئی ہے، جبکہ ایک کتاب جس کی 200 کاپیاں چھاپنے کا منصوبہ تھا، بالآخر صرف 100 کاپیوں میں شائع ہوئی۔

مصنفین اور ناشرین نے اس صورتِ حال کی وجوہات میں کاغذ اور طباعت کے بڑھتے اخراجات، کتابوں کی قیمتوں میں اضافے اور عوام کی قوتِ خرید میں کمی کو شامل کیا ہے۔ ایک جواب دہندہ کے مطابق ایک کتاب کی قیمت صرف ایک ہفتے میں 8 لاکھ تومان سے بڑھ کر 16 لاکھ تومان ہوگئی۔

ایک مترجم نے بتایا کہ ان کے ترجمے کی اشاعت ایک سال تک تاخیر کا شکار رہی، جب کہ تقریباً دو ماہ کی محنت کے عوض انہیں 40 لاکھ تومان سے کچھ زیادہ معاوضہ ملا۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ مالی مشکلات کے باعث ایک آزاد اشاعتی ادارہ گزشتہ سال مئی سے عملاً بند ہے۔

رپورٹ کے مطابق بعض ناشرین نے کتابوں کی تیاری کے اخراجات، حتیٰ کہ تدوین کی فیس بھی مصنفین پر منتقل کرنا شروع کردی ہے۔ ادیبوں اور مترجمین نے کتابوں کی اشاعت، فروخت اور رائلٹی کے اعداد و شمار میں شفافیت نہ ہونے پر بھی تشویش ظاہر کی۔

مزید پڑھیں: چالیس سال سے بچھڑی بنگلہ دیشی حلیمہ اپنے خاندان کو کیسے ملی؟

کمیشن کے مطابق بعض کتابیں مصنفین کی لاعلمی میں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر تقسیم کی گئیں، جب کہ ناشرین فروخت ہونے والی کتابوں کی تعداد اور آمدنی کی واضح تفصیلات فراہم نہیں کرتے۔

رپورٹ میں جنگ کو ادبی شعبے کے بحران میں شدت کا ایک اہم سبب قرار دیا گیا ہے۔ اس کے اثرات میں بعض ادیبوں کے گھروں یا کام کی جگہوں کو پہنچنے والا نقصان، انٹرنیٹ کی بندش، ادبی ورکشاپس کی سرگرمیوں میں تعطل اور تحقیق و تحریر کا متاثر ہونا شامل ہے۔

ایرانی رائٹرز ایسوسی ایشن کے ٹریڈ یونین کمیشن نے مطالبہ کیا ہے کہ سنسرشپ ختم کی جائے، مصنفین اور ناشرین کے درمیان شفاف معاہدے یقینی بنائے جائیں، فروخت کے درست اعداد و شمار فراہم کیے جائیں اور رائلٹی و ترجمے کا منصفانہ معاوضہ ادا کیا جائے۔ کمیشن نے آزاد اشاعتی اداروں کی معاونت پر بھی زور دیا ہے۔