عراقی وزیرِ اعظم آفس کے اعلامیے کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان گفتگو میں خطے کی بدلتی صورت حال، سیکیورٹی معاملات اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ علی الزیدی نے ریاستوں کی خودمختاری کے احترام اور عراق کی سرزمین کو پڑوسی ممالک پر حملوں کے لیے استعمال نہ کرنے پر زور دیا۔
اعلامیے کے مطابق گفتگو میں علاقائی استحکام کے لیے سفارتی کوششوں کو ترجیح دینے اور تنازع کو مزید پھیلنے سے روکنے کے اقدامات پر بھی بات ہوئی۔
عراقی وزیر خارجہ نے بھی کہا ہے کہ ان کا ملک جنگ کے لیے تیار نہیں اور ایران پر مزید حملے عراق کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتے ہیں۔
دوسری جانب ایران نے نئے امریکی اور اسرائیلی حملوں کی صورت میں اپنے جوابی حملوں کا دائرہ یورپ تک بڑھانے کی دھمکی دی ہے۔
ایرانی رکن پارلیمنٹ حسین علی حاجی دلیگانی نے کہا ہے کہ اگر ایران پر نئے حملے کیے گئے تو تہران ایسے میزائل استعمال کرسکتا ہے جن کی پہنچ یورپ تک ہے۔
سابق ایرانی وزیر خارجہ علی اکبر ولایتی نے بھی کہا ہے کہ دنیا کو سمجھنا ہوگا کہ ایران خطے کا ایک اہم ملک ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ خطے کے ممالک کو اجتماعی سلامتی یا اجتماعی عدم تحفظ میں سے کسی ایک راستے کا انتخاب کرنا ہوگا۔ موجودہ عالمی صورت حال نے واضح کردیا ہے کہ علاقائی سلامتی انفرادی معاملہ نہیں، بلکہ یا تو سب محفوظ ہوں گے یا کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا۔
عراق نے گزشتہ ماہ بتایا تھا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے باعث اسے تقریباً 60 ارب ڈالر کے معاشی نقصان کا سامنا کرنا پڑا، جس کی بڑی وجہ تیل کی برآمدات میں رکاوٹ ہے۔
مزید پڑھیں: اسرائیل میں اپوزیشن لیڈر کو اگلا وزیر اعظم بننے کے لیے مطلوبہ اکثریت مل گئی
ادھر خلیجی ممالک نے الزام عائد کیا ہے کہ ایران کے حامی مسلح گروہ عراق کی سرزمین سے ان کے خلاف حملے کررہے ہیں۔ عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے ان گروہوں کے خلاف کارروائی اور انہیں میزائل و ڈرون حملے کرنے سے روکنے کا وعدہ بھی کیا ہے۔
خیال رہے کہ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر مزید فوجی حملوں کے امکان پر غور کررہے ہیں۔ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے آغاز کو آٹھ ماہ سے زیادہ گزر چکے ہیں۔







