عرب نیوز کے مطابق پہلی اطلاع آئرلینڈ کے دارالحکومت ڈبلن سے اٹلی کے شہر روم جانے والی ایئر لنگس کی پرواز کے بارے میں موصول ہوئی۔

فرانس کے وزیراعظم سباستین لیکورنو کے دفتر کے مطابق دھمکی کے بعد طیارے کا رخ مغربی فرانس کے ایک فوجی ہوائی اڈے کی جانب موڑ دیا گیا، جہاں اس نے بحفاظت لینڈنگ کی۔

وزیراعظم کے دفتر نے بتایا کہ طیارہ نورمانڈی کے شہر ایورو کے فوجی ہوائی اڈے پر اترا۔ اس میں سوار تمام 151 مسافر اور عملے کے چھ ارکان محفوظ ہیں، جبکہ بم ناکارہ بنانے والے فوجی ماہرین طیارے کی جانچ کر رہے ہیں۔ حکام صورت حال کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں۔

پروازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی ویب سائٹس کے مطابق ڈبلن سے روم جانے والا طیارہ پیرس کے قریب پہنچنے کے بعد اپنے مقررہ راستے سے ہٹ گیا تھا۔ ایورو کی جانب روانہ ہونے سے پہلے اس نے فضا میں کئی چکر بھی لگائے۔

ادھر پولینڈ کے دارالحکومت وارسا سے برسلز آنے والی ایک پرواز بھی مشکوک اطلاع ملنے کے بعد برسلز ایئرپورٹ پر بحفاظت اتر گئی۔

بیلجیم کے اخبار ’لے سوار‘ کے مطابق ایئرپورٹ انتظامیہ نے بتایا کہ یہ پرواز پولینڈ کی فضائی کمپنی ایل او ٹی پولش ایئرلائنز کی تھی۔ ایئرپورٹ کی ترجمان احسان شیووا لیکلی نے تصدیق کی کہ پرواز کے حوالے سے مشکوک اطلاع موصول ہوئی تھی، تاہم واقعے کے بعد اضافی سکیورٹی اقدامات کی ضرورت پیش نہیں آئی۔

اسی روز فن لینڈ کے دارالحکومت ہیلسنکی سے روم جانے والی فن ایئر کی پرواز کو بھی بم کی دھمکی موصول ہوئی۔ اطالوی فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے اسے فضائی تحفظ فراہم کیا اور وہ روم کے فیومیچینو ایئرپورٹ پر بحفاظت اتر گئی۔

اس کے علاوہ میلان سے روم جانے والی ایک اور پرواز کو بھی بم کی دھمکی ملنے کی اطلاع ہے۔

حکام کے مطابق یہ واقعات رواں ہفتے یورپ میں مسافر طیاروں کو موصول ہونے والی جعلی بم دھمکیوں کے سلسلے کا حصہ ہیں۔ ان دھمکیوں کے نتیجے میں متعدد طیاروں کی تلاشی لی گئی اور پروازوں کے راستے تبدیل کرنا پڑے۔

متاثر ہونے والی پروازوں میں پولینڈ کی ایل او ٹی، اسکینڈینیوین ایئرلائنز، وِز ایئر اور ریان ایئر کی پروازیں بھی شامل ہیں۔ بعض واقعات میں اطالوی فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے مسافر طیاروں کو ان کی منزل تک پہنچنے میں مدد فراہم کی۔

یہ واقعات بلغاریہ جانے والی ایک پرواز کو بم کی دھمکی ملنے کے ایک روز بعد پیش آئے۔ اس طیارے کا رخ تبدیل کرکے ہنگری میں اتارا گیا تھا، تاہم واقعے میں کوئی شخص زخمی نہیں ہوا۔

اگرچہ طیاروں کو بم کی دھمکیاں ملنے کے واقعات نئے نہیں، تاہم حالیہ واقعات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب یورپ میں جغرافیائی و سیاسی کشیدگی اور تخریبی سرگرمیوں کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔

یورپی حکام پہلے ہی ہائبرڈ خطرات سے خبردار کر چکے ہیں۔ ان میں سائبر حملے، تخریب کاری، فضائی حدود میں ڈرونز کی غیر مجاز پروازیں اور دیگر غیر روایتی سرگرمیاں شامل ہیں، جن کے ذریعے معاشرتی اور انتظامی عدم استحکام پیدا کیا جا سکتا ہے۔