لائیو

جماعت اسلامی کے ملک بھر میں احتجاجی دھرنے جاری: ’تین ستمبر کو ملک بھر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال ہوگی، جس کے بعد لانگ مارچ کا مرحلہ آئے گا‘، حافظ نعیم الرحمان

مادھو لعل حسین چانڈیو
جماعت اسلامی کے ملک بھر میں احتجاجی دھرنے جاری:  ’تین ستمبر کو ملک بھر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال ہوگی، جس کے بعد لانگ مارچ کا مرحلہ آئے گا‘، حافظ نعیم الرحمان27 اگست، 2026

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور پیٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کے ملک گیر دھرنے آج 14ویں روز بھی جاری ہیں، جب کہ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے 3 ستمبر کو ملک بھر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال اور اس کے بعد لانگ مارچ کے مرحلے کا اعلان کیا ہے۔ صوبائی دارالحکومتوں سے شروع ہونے والے جماعت اسلامی کے احتجاجی دھرنے اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل چکے ہیں، جہاں کارکنان کے ساتھ خواتین، بچے، طلبہ اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد بھی احتجاج میں شریک ہیں۔

  • دھرنوں کے شرکا کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی، پیٹرولیم لیوی کے خاتمے اور عوام کو مہنگائی سے ریلیف دینے کے مطالبات کیے جا رہے ہیں، جب کہ جماعت اسلامی حکومت پر مطالبات تسلیم کرنے کے لیے دباؤ بڑھا رہی ہے۔

  • جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ احتجاج کا مقصد عوام پر عائد اضافی معاشی بوجھ ختم کرانا اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی سمیت عوامی مطالبات منوانا ہے۔

  • دوسری جانب ملک کے مختلف شہروں میں جاری دھرنوں میں شرکا کی تعداد میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور جماعت اسلامی کی قیادت نے کارکنوں کو احتجاجی تحریک کو مزید منظم اور وسیع کرنے کی ہدایت کی ہے۔

تازہ اپڈیٹس

  1. وفاقی حکومت کے اخراجات ایک ٹریلین روپے تک پہنچ چکے ہیں، حافظ نعیم الرحمان

    لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومت کی پٹرولیم مصنوعات اور بجلی سے متعلق پالیسیوں کے خلاف جماعت اسلامی کے دھرنے 14ویں روز میں داخل ہوگئے ہیں اور احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جا رہا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ابتدا میں تین مقامات پر دھرنے دیے گئے تھے تاہم اب مختلف علاقوں میں احتجاجی کیمپ بھی قائم کیے جا رہے ہیں، جب کہ تحریک کو ملک کے دیگر حصوں تک پھیلایا جا رہا ہے۔

    حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ دھرنوں میں شریک افراد صرف جماعت اسلامی کے کارکن نہیں بلکہ پورے ملک کے عوام کے مسائل کی ترجمانی کر رہے ہیں۔

    انہوں نے نوجوانوں پر بھی زور دیا کہ وہ مہنگائی، بجلی کے بھاری بلوں اور پٹرول کی قیمتوں کے خلاف جاری احتجاج میں بھرپور شرکت کریں۔

    امیر جماعت اسلامی نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکومت ہر مرتبہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کو پٹرول مہنگا کرنے کا جواز بناتی ہے۔

    حافظ نعیم الرحمان کا دعویٰ تھا کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود پاکستانی عوام کو ریلیف دینے کے بجائے پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔

    انہوں نے پٹرولیم لیوی کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ شہری پٹرول کی قیمت کے ساتھ بھاری ٹیکس اور لیوی بھی ادا کر رہے ہیں، جس سے مہنگائی کے شکار عوام پر مزید بوجھ پڑ رہا ہے۔

    حافظ نعیم الرحمان نے حکومتی اخراجات اور حکمرانوں کے طرز زندگی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایک طرف عام شہری مہنگے پٹرول اور بجلی کے بل ادا کرنے پر مجبور ہیں جب کہ دوسری جانب حکومتی اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ وفاقی حکومت کے اپنے اخراجات ایک ٹریلین روپے تک پہنچ چکے ہیں۔

    بجلی کے بھاری بلوں پر بات کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے فکسڈ چارجز پر بھی اعتراض کیا اور کہا کہ بجلی کے بلوں میں ایسے چارجز عائد کیے جا رہے ہیں جن کا بجلی کے اصل استعمال سے براہِ راست تعلق نہیں۔

    انہوں نے حکومتی اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں بجلی پیدا کرنے کی مجموعی صلاحیت 49 ہزار 500 میگاواٹ سے زیادہ ہے جب کہ موجودہ دنوں میں بجلی کی طلب 22 ہزار میگاواٹ سے زیادہ نہیں۔

    حافظ نعیم الرحمان نے سوال اٹھایا کہ اگر ملک میں بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت طلب سے کہیں زیادہ ہے تو پھر لوڈشیڈنگ اور بجلی کے شارٹ فال کا مسئلہ کیوں برقرار ہے؟

  2. 3 ستمبر کی ہڑتال کے بعد لانگ مارچ کا مرحلہ آئے گا: حافظ نعیم الرحمان

    امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے حکومت پر عوامی مسائل حل کرنے میں ناکامی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک بھر میں جاری دھرنا تحریک کو مزید وسعت دی جائے گی، 3 ستمبر کو ملک گیر ہڑتال ہوگی جب کہ اس کے بعد اسلام آباد لانگ مارچ کی کال بھی دی جائے گی۔

    لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پاکستان کے عوام اس وقت شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، مہنگائی، بجلی کے بھاری بل، لوڈشیڈنگ اور پٹرولیم مصنوعات پر عائد مختلف ٹیکسز نے عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے۔

    امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ لاہور، پشاور اور کراچی سمیت مختلف شہروں میں احتجاجی دھرنے جاری ہیں اور کئی مقامات پر احتجاجی کیمپ بھی قائم کیے جاچکے ہیں۔ پنجاب کے سیکڑوں مقامات پر بھی دھرنے اور احتجاجی کیمپ لگائے جا رہے ہیں جب کہ حیدرآباد میں بھی احتجاجی سرگرمیوں کا آغاز ہوچکا ہے۔

    حافظ نعیم الرحمان نے اعلان کیا کہ 3 ستمبر کو ملک گیر ہڑتال کی جائے گی، جس کے لیے مختلف کمیٹیاں تشکیل دے دی گئی ہیں، تاجروں اور صنعتکاروں سے بھی رابطے کیے جائیں گے تاکہ ہڑتال کو مؤثر اور کامیاب بنایا جاسکے۔

  3. حکومت پیٹرولیم لیوی ختم کرے، آئی پی پیز کے ناجائز معاہدے ختم کیے جائیں؛ حافظ نعیم الرحمان

    جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے حکومت کے خلاف جاری احتجاجی تحریک کو مزید وسعت دینے کا اعلان کرتے ہوئے 3 ستمبر کو ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کردیا ہے۔

    لاہور میں دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ 3 ستمبر کو ملک بھر میں تمام دکانیں بند ہوں گی، جب کہ حکومت عوام کو ریلیف دینے کے لیے پٹرولیم لیوی ختم کرے اور آئی پی پیز کے ناجائز معاہدے ختم کرے۔

    حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی کی تحریک صرف چند دھرنوں تک محدود نہیں بلکہ ملک بھر میں جاری ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ اس کا دائرہ وسیع ہورہا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے کرپشن اور اپنی نااہلی کا بوجھ عوام پر ڈال دیا ہے، اس لیے بجلی اور پٹرول کی قیمتوں میں کمی سمیت عوام کو بنیادی ضروریات میں ریلیف دینا ہوگا۔ انہوں نے تاجروں کے لیے بھی بجلی اور پٹرول کی قیمت کم کرنے کا مطالبہ کیا۔

    پمز اسپتال کے سانحے پر بات کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ پمز میں پھول جیسے نومولود بچے حکمرانوں کی نااہلی کا نشانہ بنے۔ صرف ایک افسر کو معطل کرنے سے معاملہ ختم نہیں ہوگا بلکہ وزرا اور مشیران کو بھی استعفیٰ دینا چاہیے۔

    انہوں نے سوال اٹھایا کہ پمز میں فائر سیفٹی کے مطلوبہ انتظامات کیوں نہیں تھے اور کیا ڈاکٹرز، نرسز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کو ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی تربیت دی گئی تھی یا نہیں۔

    امیر جماعت اسلامی نے وزیراعظم کی جانب سے قائم کردہ تحقیقاتی کمیٹی کے ساتھ پمز انتظامیہ کی اپنی کمیٹی بنانے پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے اسے گورننس کی ناکامی قرار دیا۔ واقعے کی شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں اور ذمہ داروں کا تعین کرکے کارروائی کی جائے۔

    حافظ نعیم الرحمان نے ملک کے مختلف شعبوں میں حکومتی کارکردگی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی کرتی ہیں لیکن یہ تمام جماعتیں طویل عرصے سے اقتدار میں رہی ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ نوجوان پاکستان کا سرمایہ ہیں، صرف نمائشی منصوبے اور لیپ ٹاپ تقسیم کرنے سے قوم نہیں بنتی، ملک میں موجود آئی ٹی ٹیلنٹ کو معیاری تعلیم اور مواقع فراہم کرنا ہوں گے۔

    انہوں نے پنجاب اور سندھ کی حکومتوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ عوام کو لسانیت اور سیاسی نعروں میں تقسیم کیا جارہا ہے جب کہ بنیادی سہولیات کے مسائل برقرار ہیں۔

    حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی آئی پی پیز، پٹرولیم لیوی، آٹا مافیا اور عوام پر ٹیکسوں کے بوجھ کے خلاف جدوجہد جاری رکھے گی۔

    حافظ نعیم الرحمان نے مزید اعلان کیا کہ جماعت اسلامی ملک بھر کے عوام کے ہمراہ اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ بھی کرے گی۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ عوام کو بنیادی ضروریات فراہم کرے اور حکمرانوں کو اب عوام کو ریلیف دینا ہوگا۔

  4. حافظ نعیم الرحمان سے گورنر کے پی کی ملاقات؛ 'حکومت پُرامن دھرنے کو تشدد کی جانب دھکیلنا چاہتی ہے'

    امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ حکومت ڈھٹائی کا مظاہرہ کرکے جماعت اسلامی کے پُرامن دھرنے کو تشدد کی جانب دھکیلنا چاہتی ہے، تاہم جماعت اسلامی پُرامن رہتے ہوئے احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کرے گی اور آج رات ہڑتال کا اعلان کیا جائے گا۔

    منصورہ لاہور میں گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان سے ملاقات کی۔ اس موقع پر سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی امیر العظیم کے انتقال پر فاتحہ خوانی اور دعا کی گئی، جب کہ گورنر نے جماعت اسلامی کی قیادت اور کارکنان سے تعزیت اور اظہارِ ہمدردی کیا۔ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی نذیر احمد جنجوعہ بھی ملاقات میں موجود تھے۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومت شاید پُرتشدد ہنگاموں کی عادی ہوچکی ہے، لیکن جماعت اسلامی اپنے احتجاج کو پُرامن رکھے گی۔

    ان کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی کا موجودہ صورتحال سے کوئی تعلق نہیں، یہ حکومت کی نااہلی اور ڈھٹائی ہے۔

    حافظ نعیم الرحمان نے الزام عائد کیا کہ حکومت لیوی کی مد میں عوام سے رقم اکٹھی کرکے اپنی عیاشیوں پر خرچ کر رہی ہے، جب کہ ایف بی آر بھی اپنے ٹیکس اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی پُرامن احتجاج کے ذریعے اپنے مطالبات کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی اور احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔

    دوسری جانب گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ حکومت کو پیٹرولیم لیوی کے معاملے پر نظرثانی کرنی چاہیے اور اپنی عیاشیوں میں کمی کرکے عوام کو ریلیف دینا چاہیے۔

    ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کو ترقیاتی فنڈز میں کٹوتی کرکے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے بجائے اپنی غیر ضروری مراعات اور اخراجات کم کرنے چاہئیں۔

    پمز اسپتال میں پیش آنے والے آتشزدگی کے واقعے پر گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صرف ایک سیکرٹری کو معطل کرنا مسئلے کا حل نہیں۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان میں وزراء کے استعفے دینے کا رواج بھی نہیں ہے، اس لیے ذمہ داروں کا تعین کرکے مؤثر کارروائی ہونی چاہیے۔

    گورنر خیبر پختونخوا نے صوبے میں صحت کے نظام پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ہیلتھ کا نظام اچھا نہیں، اسی لیے تحریک انصاف نے بانی کے علاج کے لیے نجی اسپتال کا انتخاب کیا۔

  5. حکومت کو عوامی دباؤ محسوس ہونا شروع، بلوچستان میں بھی 29 اگست سے دھرنوں کا آغاز ہوگا؛ حافظ نعیم الرحمان

    امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ ملک بھر میں جاری دھرنوں کو مزید آگے بڑھایا جائے گا، احتجاجی کیمپ اور دھرنے جاری رہیں گے جب کہ گلی محلوں اور بستیوں کی سطح پر بھی عوام کو تحریک کا حصہ بنایا جائے گا۔

    دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ لاہور، پشاور اور کراچی سمیت مختلف شہروں میں دھرنے جاری ہیں، جب کہ سندھ، پنجاب، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بھی احتجاجی کیمپ قائم کیے جا رہے ہیں۔ بلوچستان میں بھی 29 اگست سے دھرنوں کا آغاز ہوگا۔

    انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کا احتجاج کسی سیاسی شخصیت یا جماعت کے خلاف نہیں بلکہ پٹرولیم لیوی، مہنگائی، حکومتی شاہ خرچیوں اور عوام پر عائد اضافی بوجھ کے خلاف ہے۔

    حافظ نعیم الرحمان نے کارکنوں کو ہدایت کی کہ دھرنے کو صرف احتجاجی مقام تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ گلی محلوں، بازاروں، بستیوں، چوکوں، چوراہوں، تعلیمی اداروں اور مختلف طبقات تک اس کا پیغام پہنچایا جائے۔

    ان کا کہنا تھا کہ نوجوان موبائل اور سوشل میڈیا کے ذریعے عوامی رائے کو سامنے لائیں اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو تحریک کا حصہ بنائیں۔

    امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت کو عوامی دباؤ محسوس ہونا شروع ہوگیا ہے، اگر پرامن احتجاج کے باوجود حکمرانوں نے عوام کے مطالبات تسلیم نہ کیے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔

    انہوں نے حکومت سے پیٹرولیم لیوی فوری ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ غریب اور متوسط طبقہ پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے، جب کہ حکمران اپنی عیاشیوں اور سرکاری اخراجات میں کمی کرنے کو تیار نہیں۔

    حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومت عوام پر ٹیکسز اور لیوی کا بوجھ ڈال رہی ہے، لیکن حکمران طبقہ مفت پٹرول، بڑی گاڑیوں اور دیگر مراعات سے لطف اندوز ہو رہا ہے۔ حکمران اپنی شاہ خرچیاں کم کریں اور عوام کو ریلیف فراہم کریں۔

    انہوں نے مریم نواز کی جانب سے مبینہ طور پر 11 ارب روپے کا جہاز خریدنے پر بھی تنقید کی اور کہا کہ ایک طرف عوام پٹرول اور اشیائے ضروریہ کی بڑھتی قیمتوں سے پریشان ہیں جب کہ دوسری طرف حکمران طبقے کے اخراجات کم نہیں ہو رہے۔

    امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ جماعت اسلامی کی پرامن سیاسی مزاحمت کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ جماعت اسلامی نے ماضی میں بھی آئی پی پیز کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کو مذاکرات پر مجبور کیا، جس کے نتیجے میں بعض آئی پی پیز کے معاہدوں پر نظرثانی اور کچھ معاملات میں تبدیلیاں ہوئیں۔

    حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ آئی پی پیز کے معاملے پر بھی عوام کو ریلیف دیا جائے اور حکومت ایسے معاہدوں کا جائزہ لے جن کا بوجھ بجلی صارفین پر پڑ رہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ملک کے مختلف حصوں میں احتجاجی کیمپ قائم کرنا اس بات کی علامت ہے کہ عوام کے مشترکہ مسائل پر قوم کو متحد کیا جا سکتا ہے۔ بلوچستان، سندھ، پنجاب اور خیبر پختونخوا کے عوام کے مسائل مختلف ناموں کے باوجود بنیادی طور پر مشترک ہیں۔

    حافظ نعیم الرحمان نے کارکنوں پر زور دیا کہ وہ دھرنے کو محض ایک ایونٹ نہ بنائیں بلکہ اسے عوامی رابطہ مہم میں تبدیل کریں۔ گھروں، بازاروں، دیہات، گوٹھوں اور تحصیلوں کی سطح پر رابطہ مہم تیز کی جائے اور نوجوانوں کو زیادہ سے زیادہ تحریک میں شامل کیا جائے۔

    انہوں نے کہا کہ کراچی کے ہر محلے اور بستی میں احتجاجی سرگرمیاں پہنچنی چاہئیں، جب کہ پشاور میں جاری دھرنے کو بھی برقرار رکھتے ہوئے خیبر پختونخوا کے دیگر علاقوں میں احتجاجی کیمپ قائم کیے جائیں۔

    امیر جماعت اسلامی نے بلوچستان میں 7 اگست کے احتجاج اور 22 اگست کے مظاہروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مشکل حالات کے باوجود بلوچستان کے عوام نے احتجاجی تحریک میں اپنا کردار ادا کیا ہے اور 29 اگست سے وہاں بھی دھرنے شروع کیے جائیں گے۔

    انہوں نے اندرون سندھ کے مختلف علاقوں، جنوبی پنجاب اور وسطی پنجاب میں بھی احتجاجی سرگرمیوں کو مزید منظم کرنے کی ہدایت کی۔ حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ احتجاجی کیمپوں کے ساتھ ساتھ جلسے، ڈور ٹو ڈور رابطے اور عوامی آگاہی مہم بھی جاری رکھی جائے گی۔

    انہوں نے اعلان کیا کہ فیصل آباد میں 28 اگست جب کہ راولپنڈی میں 30 اگست کو جلسوں کی تیاریاں کی جا رہی ہیں، جب کہ دھرنوں اور احتجاجی کیمپوں کا سلسلہ بھی جاری رہے گا۔

    حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی ملک کو تقسیم کرنے کے بجائے عوام کے مشترکہ مسائل پر قوم کو متحد کرنا چاہتی ہے۔ بلوچ، پختون، پنجابی، سندھی، سرائیکی، کشمیری، ہزارہ، مہاجر اور دیگر تمام طبقات کے بنیادی مسائل مشترک ہیں اور انہیں ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونا ہوگا۔

    انہوں نے کہا کہ پرامن سیاسی مزاحمت ہماری طاقت ہے، اسے کمزوری نہ سمجھا جائے اور حکومت کو مشورہ دیا کہ حالات کو سمجھتے ہوئے عوام کے مطالبات تسلیم کیے جائیں۔

    امیر جماعت اسلامی نے ایک بار پھر حکومت سے پیٹرولیم لیوی ختم کرنے، حکومتی اخراجات اور شاہ خرچیاں کم کرنے اور عوام کو ریلیف دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت نے عوامی مطالبات کو نظر انداز کیا تو احتجاجی تحریک کو مزید وسعت دی جائے گی۔

  6. رانا ثنا اللہ کے بیان پر جماعت اسلامی کا ردعمل؛ ’حکومتی شاہ خرچیاں مزید نہیں چلیں گی‘

    ترجمان جماعت اسلامی نے وفاقی حکومت کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ کی جانب سے جماعت اسلامی کے دھرنوں پر تنقید کا جواب دیتے ہوئے انہیں اپنی سیاسی تاریخ پر نظر ڈالنے کا مشورہ دیا ہے۔

    ترجمان جماعت اسلامی نے کہا ہے کہ 2018 میں نواز شریف کی وطن واپسی کے موقع پر شہباز شریف اور رانا ثنا اللہ صرف 150 افراد جمع کر سکے تھے، جب کہ جماعت اسلامی کے پیٹرولیم لیوی کے خلاف جاری دھرنوں میں روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں افراد شریک ہو رہے ہیں۔

    ترجمان کے مطابق جماعت اسلامی کے تین بڑے شہروں میں بیک وقت دھرنے جاری ہیں اور ان میں عوام کی بڑی تعداد شرکت کر رہی ہے۔

    جماعت اسلامی نے واضح کیا کہ اس کا احتجاج کسی سیاسی شخصیت کے خلاف نہیں بلکہ پٹرولیم لیوی، مہنگائی اور حکومتی شاہ خرچیوں کے خلاف ہے۔

    ترجمان نے کہا کہ حکومتی شاہ خرچیاں مزید نہیں چلیں گی، حکومت جماعت اسلامی کے دھرنوں کا تمسخر اڑانے کے بجائے پٹرولیم لیوی ختم کرے اور عوام کو ریلیف دے۔

    انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اپنے مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھے گی اور عوامی دباؤ میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔

    ترجمان جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیے کہ احتجاج کو سیاسی مخالفت کے طور پر لینے کے بجائے عوامی مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرے، کیونکہ پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی براہ راست عام آدمی پر اضافی بوجھ ڈال رہی ہے۔

    جماعت اسلامی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مطالبات تسلیم ہونے تک دھرنوں اور احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔

  7. دھرنے جاری رہیں گے، 13 ربیع الاول کو ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کریں گے؛ حافظ نعیم الرحمان

    امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے اعلان کیا ہے کہ لاہور، کراچی اور پشاور میں جاری دھرنے ختم نہیں کیے جائیں گے، ملک بھر میں احتجاجی کیمپ لگائے جائیں گے، جب کہ 13 ربیع الاول کو ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کیا جائے گا۔

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ تینوں شہروں میں جماعت اسلامی کے دھرنے آٹھویں روز میں داخل ہوچکے ہیں اور یہ احتجاج شیڈول کے مطابق جاری ہے۔ آج رات لاہور میں بھرپور جلسہ عام بھی کیا جائے گا۔

    انہوں نے کہا کہ عوامی احتجاج کے نتیجے میں ڈیزل کی قیمت میں 32 روپے کمی ہوئی، اگر احتجاج نہ کرتے تو ڈیزل سستا نہ ہوتا۔ حکومت کو پٹرول پر عائد 80 روپے لیوی ختم کرنا ہوگی۔

    حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جنگی حالات میں بھی حکمرانوں نے عوام پر پٹرول بم گرائے، عوام پر زبردستی ٹیکس اور لیوی عائد کی جا رہی ہے جب کہ حکمران اپنی عیاشیاں اور مراعات ختم کرنے کے لیے تیار نہیں۔

    امیر جماعت اسلامی نے چینی کی درآمد اور برآمد کی حکومتی پالیسی کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مافیاز نے حکومت کے ساتھ مل کر 7 لاکھ 65 ہزار ٹن چینی درآمد کی، ٹیکس فری چینی بھی مہنگی ہوئی اور اب اضافی اسٹاک کو کم قیمت پر برآمد کیا جا رہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ آٹا، دالیں اور سبزیاں عوام کی پہنچ سے دور ہوچکی ہیں، شوگر ملز مالکان کسانوں سے گنے کی فصل خریدنے سے معذوری ظاہر کر رہے ہیں، جب کہ حکومتی پالیسیوں کے باعث زراعت بھی زبوں حالی کا شکار ہے۔

    حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پنجاب میں کپاس کی پیداوار کا ہدف 50 فیصد بھی پورا نہیں ہوسکا، حکومت کی ناقص پالیسیوں کا خمیازہ کسان اور عام شہری بھگت رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی تحریک کسی سیاسی شوق کے لیے نہیں بلکہ عوام کے حقیقی مسائل کے لیے ہے۔ تمام جماعتوں سے رابطے ہیں، تاہم عوام کے حقیقی مسائل صرف جماعت اسلامی اٹھا رہی ہے۔

    امیر جماعت اسلامی نے حکومت کی جانب سے قائم کمیٹی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی کمیٹی آکر بتائے کہ قیمتیں کیسے کم ہوں گی، جماعت اسلامی کسی کمیٹی کی بریفنگ نہیں لے گی۔

    حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ احتجاجی دھرنے ملک بھر میں جاری رکھے جائیں گے اور احتجاجی کیمپ لگائے جائیں گے۔ 13 ربیع الاول کو ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کریں گے، جس کے بعد اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ بھی کیا جائے گا۔ 12 ربیع الاول کا میلاد بھی دھرنوں میں ہی منایا جائے گا۔

    حافظ نعیم الرحمان نے وزیراعظم شہباز شریف سے مطالبہ کیا کہ اعلان کریں کوئی سرکاری افسر 1300 سی سی سے بڑی گاڑی استعمال نہیں کرے گا اور حکمران اپنی مراعات اور عیاشیاں ختم کریں۔

    انہوں نے کہا کہ عوام کو پیٹرول پر فی لیٹر 80 روپے لیوی سمیت مجموعی طور پر 130 روپے کے ٹیکسز دینا پڑ رہے ہیں، نوجوان روزانہ یہ بوجھ اٹھانے پر مجبور ہیں۔

    بانی پی ٹی آئی عمران خان کے حوالے سے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ انہیں علاج کی سہولیات ملنی چاہئیں اور حکومت کو عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کرنا چاہیے۔

    حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ تمام سیاسی رہنما حکومتیں گرانے کے لیے کسی کے کہنے پر اقدامات کرنے کے بجائے اپنی غلطیوں کا اعتراف کریں اور قوم سے معافی مانگیں۔

  8. پیٹرولیم لیوی کے خلاف جدوجہد صرف ایک طبقے کی نہیں، پوری قوم کا مقدمہ ہے: حافظ نعیم الرحمان

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے، پیٹرولیم لیوی اور مہنگائی کے خلاف دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعتِ اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ مہنگائی کا مسئلہ صرف پیٹرول کی قیمتوں تک محدود نہیں بلکہ ہر گھر کے چولہے کا مسئلہ بن چکا ہے۔

    حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہونے سے سبزی، دال، گوشت، کپڑوں اور روزمرہ استعمال کی دیگر اشیا کی قیمتیں بھی بڑھتی ہیں، جس سے عوام پر مہنگائی کا بوجھ مزید بڑھ جاتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے عائد ٹیکسز اور پیٹرولیم لیوی بھی عوام کے لیے اضافی بوجھ بن چکے ہیں۔ مہنگائی کی سب سے زیادہ قیمت گھر کی خواتین ادا کرتی ہیں، کیونکہ گھر کے اخراجات پورے نہ ہوں تو ماں اپنے بچوں کے لیے اپنی ضروریات اور خواہشات قربان کر دیتی ہے۔

    امیر جماعتِ اسلامی نے کہا کہ بچوں کی فیس، گھر کا کرایہ، بجلی کا بل اور دیگر اخراجات پورے کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے، جب کہ بڑھتی مہنگائی نے عام آدمی کے لیے زندگی گزارنا دشوار بنا دیا ہے۔

    انہوں نے خواتین کو درپیش مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں خواتین کے لیے محفوظ اور باعزت ٹرانسپورٹ کی سہولت ناکافی ہے جب کہ ہراسمنٹ اور خواتین کے خلاف جرائم کے واقعات بھی تشویش ناک ہیں۔

    حافظ نعیم کا کہنا تھا کہ درج ہونے والے مقدمات کے علاوہ ایسے بہت سے واقعات بھی ہیں جن میں خواتین اور خاندان سماجی دباؤ یا انصاف کے نظام پر عدم اعتماد کے باعث شکایت درج نہیں کراتے۔

    انہوں نے خواتین کی تعلیم کے حوالے سے بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ہر بستی، گاؤں اور شہر میں معیاری گرلز اسکول قائم ہونے چاہئیں، جہاں بچیوں کو تعلیم کے ساتھ تربیت اور ہنر بھی فراہم کیا جائے۔

    حافظ نعیم الرحمان نے دعویٰ کیا کہ پنجاب میں بڑی تعداد میں گرلز اسکول آؤٹ سورس کیے جا رہے ہیں، جس پر حکومت کو اپنی پالیسی واضح کرنی چاہیے۔

    جماعت اسلامی کے امیر نے کہا کہ اگر حکومت خواتین کو محفوظ ٹرانسپورٹ، معیاری تعلیم، انصاف اور امن فراہم نہیں کر سکتی تو اسے عوام کے سامنے اپنی کارکردگی کا جواب دینا ہوگا۔

    انہوں نے کہا کہ خواتین کے حقوق کے حوالے سے حکومتی دعووں اور زمینی صورتحال میں واضح فرق موجود ہے۔ موجودہ مہنگائی میں سب سے زیادہ متاثر عام اور غریب گھرانے ہو رہے ہیں۔

    حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ گھر کے اخراجات پورے کرنے کے لیے خواتین اپنی ضروریات کم کرتی ہیں اور بچوں کی فیس و دیگر ضروری اخراجات پورے کرنے کی کوشش کرتی ہیں، تاہم اب حالات اس حد تک پہنچ چکے ہیں کہ لوگوں کے لیے گھر کا کرایہ، بجلی کا بل، بچوں کی فیس اور پیٹرول کے اخراجات ایک ساتھ برداشت کرنا مشکل ہو گیا ہے۔

    انہوں نے دھرنے میں شریک خواتین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی اور پیٹرولیم لیوی کے خلاف جدوجہد صرف کسی ایک طبقے کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری قوم کا مقدمہ ہے۔ مائیں، بہنیں اور بیٹیاں بھی اپنے حقوق کے لیے جدوجہد میں بھرپور کردار ادا کریں۔

    حافظ نعیم الرحمان نے پنجاب حکومت اور شریف خاندان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کئی دہائیوں سے صوبے میں حکمرانی کرنے والوں کو دیکھنا چاہیے کہ آج خواتین کی بڑی تعداد وزیراعلیٰ ہاؤس کے سامنے احتجاج پر کیوں بیٹھی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ لوگ کسی جماعت کے کہنے پر بلاوجہ گھروں سے نہیں نکلتے بلکہ جب انہیں کوئی مسئلہ درپیش ہو تو وہ اس کے اظہار کے لیے پلیٹ فارم تلاش کرتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ایک منظم جماعت ہے اور دھرنے میں شریک خواتین خود کو محفوظ سمجھتی ہیں، اسی لیے وہ بڑی تعداد میں احتجاج میں شریک ہوئی ہیں۔

    حافظ نعیم الرحمان نے دعویٰ کیا کہ دھرنے کے ساتویں روز مردوں، نوجوانوں، بچوں اور خواتین سمیت بڑی تعداد میں شہری شریک ہوئے۔ خواتین کی بڑی شرکت نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ بھی اپنے اور اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کی جدوجہد میں مردوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہیں۔

    انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ عوام پر مہنگائی کا بوجھ کم کیا جائے، پیٹرولیم لیوی اور دیگر ٹیکسز پر نظرثانی کی جائے اور خواتین سمیت عام شہریوں کو بنیادی سہولیات، محفوظ ٹرانسپورٹ، تعلیم اور انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

  9. حکمران سننے اور سمجھنے سے محروم، عوام سے جینے کا حق چھین لیا گیا؛ امیر جماعت اسلامی کراچی

    امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے کہا ہے کہ دھرنے کے آٹھویں روز بڑی تعداد میں خصوصی افراد احتجاج میں شریک ہیں، جو اپنے بنیادی اور برابری کے حقوق کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

    خصوصی افراد سے خطاب کرتے ہوئے منعم ظفر خان نے کہا کہ قوتِ سماعت اور گویائی سے محروم افراد بھی اپنے حق کے لیے احتجاج میں شریک ہیں، لیکن ہمارے حکمران سننے اور دیکھنے سے محروم نظر آتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان میں عوام کو بنیادی ضروریات سے محروم کردیا گیا ہے، خصوصی افراد صرف برابری کے حقوق اور باعزت زندگی گزارنے کا حق مانگ رہے ہیں۔

    منعم ظفر خان کا کہنا تھا کہ یورپی ممالک میں خصوصی افراد کے لیے پارکس، کھیل کے میدانوں، تعلیم اور دیگر شعبوں میں خصوصی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں، جب کہ پاکستان میں ان کے کوٹے کو نظر انداز کرکے سیاسی بھرتیاں کی جاتی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ خصوصی افراد طبی سہولیات سے بھی محروم ہیں، جبکہ 5 سے 16 سال کی عمر کے 78 لاکھ بچے اسکول جانے سے محروم ہیں اور ان کے لیے صرف ایک سرکاری تعلیمی ادارہ موجود ہے۔

    امیر جماعت اسلامی کراچی نے کہا کہ پیٹرول پر 130 روپے لیوی ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے، جو عوام کے لیے کسی صورت قابل قبول نہیں۔ حکمرانوں نے عوام سے جینے کا حق چھین لیا ہے۔

    انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ متحد ہوکر مزاحمت کریں، کیونکہ عوام کی طاقت بڑے بڑے ظالم حکمرانوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرسکتی ہے۔

    منعم ظفر خان نے کراچی میں بجلی اور پانی کے بحران پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ شہر کے مختلف علاقوں میں 12 سے 14 گھنٹے بجلی نہیں ہوتی، حکمران نہ پانی فراہم کر رہے ہیں اور نہ بجلی۔

    انہوں نے سندھ کے وزیرِ اطلاعات شرجیل میمن سے سوال کیا کہ بی آر ٹی منصوبے کا کیا بنا؟ حکومت میں اہلیت نہیں اور اس کا واحد ہدف کرپشن ہے۔

    منعم ظفر خان نے کہا کہ کراچی کے عوام سے جینے کا حق چھین لیا گیا ہے، جماعت اسلامی عوام کے مسائل کے حل کے لیے برسرِ پیکار ہے اور مزاحمت کے ذریعے ظالم حکمرانوں کو روکنے کی جدوجہد جاری رکھے گی۔

  10. پیٹرولیم لیوی کے خلاف دھرنوں اور احتجاجی کیمپوں کا دائرہ پورے پاکستان تک پھیلایا جائے گا، حافظ نعیم الرحمان

    امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے گورنر ہاؤس کراچی کے باہر پیٹرولیم لیوی کے خلاف احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں طبقاتی نظامِ تعلیم نے غریب اور مڈل کلاس کے بچوں کے لیے الگ اور امیر طبقے کے لیے الگ نظام قائم کر دیا ہے، جب کہ ملک میں کروڑوں بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔

    حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ سیکریٹریٹ، صدارتی محلات اور اعلیٰ فوجی و سول بیوروکریسی سے وابستہ افراد کو حاصل مراعات اور سہولتیں ایک طرف ہیں، جب کہ غریب کے بچوں کو معیاری تعلیم، علاج اور باعزت سفر تک کی سہولت میسر نہیں۔

    انہوں نے کہا کہ غریبوں سے خون پسینے کی کمائی نچوڑی جاتی ہے، جب کہ مراعات یافتہ طبقے کے بچوں کے لیے بہترین تعلیمی ادارے اور علاج کی سہولتیں موجود ہیں۔

    امیر جماعتِ اسلامی نے کہا کہ کراچی پورے پاکستان کی معیشت کا اہم مرکز ہے اور سندھ کی معیشت میں اس شہر کا بڑا حصہ ہے، لیکن حکمران طبقے کے پاس کراچی کے لیے کوئی مؤثر منصوبہ نہیں۔

    انہوں نے کہا کہ شہر میں سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں، پانی اور سیوریج کا بحران ہے، تعلیمی ادارے مسائل کا شکار ہیں اور شہری بنیادی ضروریات سے محروم ہیں۔

    حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ کراچی کے وسائل استعمال کرنے کے لیے ہر کوئی آتا ہے لیکن شہر کی ذمہ داری لینے کے لیے کوئی تیار نہیں۔ وفاقی اور صوبائی سطح کے حکام یہاں آتے ہیں، اپنی مدت پوری کرتے ہیں اور چلے جاتے ہیں، مگر کراچی کے مسائل جوں کے توں رہتے ہیں۔

    امیر جماعت اسلامی نے سیاسی جماعتوں کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کراچی اور سندھ کے عوام کو لسانی، مذہبی اور مسلکی تقسیم سے نکل کر متحد ہونا ہوگا۔

    انہوں نے کہا کہ کراچی جب جاگتا ہے تو پورا پاکستان جاگتا ہے اور اس شہر سے ملک کی بڑی تحریکیں چلتی رہی ہیں۔

    حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ سندھ میں پریا کماری اور نصراللہ گڈانی سمیت مختلف واقعات کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے میں ناکامی سوالیہ نشان ہے۔ سندھ کے عوام کو اپنے حقوق کے لیے اندرون سندھ اور کراچی دونوں جگہ متحد ہو کر جدوجہد کرنا ہوگی۔

    انہوں نے پیٹرولیم لیوی کو ’بھتہ ٹیکس‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر عالمی منڈی میں تیل کی قیمت بڑھتی ہے تو اس کا اثر قیمت میں آنا سمجھ میں آتا ہے، لیکن قیمت بڑھنے کے ساتھ ٹیکس اور لیوی میں اضافہ کیوں کیا جاتا ہے؟ حکومت آئی ایم ایف کا نام لے کر عوام پر مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے پیٹرولیم لیوی ختم کرے۔

    حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پیٹرولیم لیوی کا سب سے زیادہ بوجھ مزدوروں، کسانوں، طلبہ، رائیڈرز، بائیکیا اور مڈل کلاس طبقے پر پڑ رہا ہے۔ طالب علم فیس پوری کرنے کے لیے موٹر سائیکل اور ڈیلیوری کا کام کرتے ہیں، لیکن انہیں بھی پیٹرول پر بھاری ٹیکس ادا کرنا پڑ رہا ہے۔

    انہوں نے حکمرانوں کی عیاشیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک جہاز اچھا نہ لگے تو نیا جہاز لے لیا جاتا ہے، ایک گاڑی پسند نہ آئے تو کئی گاڑیاں خرید لی جاتی ہیں، لیکن ان عیاشیوں کا بوجھ غریب عوام، مزدوروں اور طلبہ پر ڈالا جاتا ہے۔ عوام اب حکمرانوں کی عیاشیوں کا بوجھ برداشت نہیں کریں گے۔

    حافظ نعیم الرحمان نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی کے پیٹرولیم لیوی کے خلاف دھرنوں اور احتجاجی کیمپوں کا دائرہ پورے پاکستان تک پھیلایا جائے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ کراچی کے اہم چوکوں اور چوراہوں پر اسکرینیں لگا کر دھرنے کے ساتھ عوام کو جوڑا جائے گا، جب کہ سندھ، پنجاب، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے بڑے شہروں میں بھی احتجاجی کیمپ قائم کیے جائیں گے۔

    انہوں نے حکومت کو مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بریفنگ دینے کے بجائے اس بات پر مذاکرات کرے کہ پیٹرولیم لیوی کب ختم کی جائے گی، عوام کو ریلیف کب ملے گا اور آئی پی پیز کے معاہدوں پر نظرثانی کیسے کی جائے گی۔

    ان کا کہنا تھا کہ مطالبات پر سنجیدہ بات چیت کے لیے حکومت آگے آئے، بصورت دیگر احتجاج جاری رہے گا۔

    حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی طویل دھرنوں اور احتجاج کی عادی ہے، موجودہ دھرنے کو ابھی صرف چھ روز ہوئے ہیں اور یہ محض ’وارم اپ‘ ہے۔

    انہوں نے کارکنان کو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کرنے اور مختلف مقامات پر مارچ کرنے کی ہدایت بھی کی۔

    انہوں نے کہا کہ ربیع الاول اور 12 ربیع الاول کے موقع پر دھرنوں میں سیرت النبی ﷺ کا پیغام عام کیا جائے گا۔ ظلم کے خلاف جدوجہد، مظلوموں کے ساتھ کھڑا ہونا اور ظالم کا ہاتھ روکنا دین کا تقاضا ہے۔

  11. پیٹرولیم لیوی کسی صورت قبول نہیں، امیر جماعتِ اسلامی کراچی

    امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے گورنر ہاؤس کے باہر پیٹرولیم لیوی اور ’بھتہ ٹیکس‘ کے خلاف احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج جلسہ گاہ میں سر ہی سر نظر آ رہے ہیں، کراچی کے عوام نے ثابت کردیا ہے کہ کراچی جاگ رہا ہے۔

    منعم ظفر خان نے کہا کہ آج کے اجتماع میں مائیں، بہنیں اور بیٹیاں بھی بڑی تعداد میں شریک ہیں اور یہ اجتماع واضح اعلان کر رہا ہے کہ عوام پیٹرولیم لیوی اور ’بھتہ ٹیکس‘ کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ حکمرانوں کی معاشی پالیسیوں نے عوام کو پریشان کر دیا ہے، جب کہ حکمرانوں کی عیاشیاں اور پروٹوکول ختم ہونے کا نام نہیں لیتے۔

    انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کے اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جب کہ عوام کو سادگی کا درس دیا جاتا ہے۔ وفاقی وزرا کی جانب سے گزشتہ پانچ سال میں پیٹرول کی مد میں 68 ارب روپے خرچ کیے گئے، یہ ظلم اب نہیں چلے گا اور ’بھتہ ٹیکس‘ ہر صورت واپس لینا ہوگا۔

    امیر جماعت اسلامی کراچی نے کہا کہ دھرنے کا آج چھٹا روز ہے اور شہر کے مختلف علاقوں سے شہری روزانہ احتجاج میں شرکت کر رہے ہیں۔

    انہوں نے پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دونوں جماعتوں نے کراچی کے عوام کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے۔

    منعم ظفر خان نے کہا کہ کراچی کی آبادی کو کم ظاہر کیا گیا، جبکہ شہر کے بڑے حصے میں آج بھی پانی دستیاب نہیں۔ کورنگی سے اورنگی، لیاری سے لانڈھی اور ڈیفنس سے ناظم آباد تک شہری پانی کے مسئلے سے دوچار ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ کراچی کا تقریباً 50 فیصد علاقہ پانی سے محروم ہے اور ٹینکروں کے ذریعے اربوں روپے کمائے جا رہے ہیں۔

    امیر جماعتِ اسلامی کراچی نے کے فور منصوبے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 23 سال گزرنے کے باوجود کراچی کے لیے کے فور منصوبہ مکمل نہیں ہو سکا، جس کی ذمہ داری وفاقی حکومت پر بھی عائد ہوتی ہے۔

    انہوں نے ریڈ لائن منصوبے کی سست روی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ شہریوں کے لیے عذاب بن چکا ہے اور کراچی کی مائیں، بہنیں اور بیٹیاں چنگ چی رکشوں میں سفر کرنے پر مجبور ہیں۔

    منعم ظفر خان نے کہا کہ ملک کے دوسرے شہروں میں منصوبے نسبتاً کم عرصے میں مکمل ہو جاتے ہیں لیکن کراچی کے منصوبے مکمل ہونے کا نام نہیں لیتے۔ حکمرانوں نے کراچی کے شہریوں کو اسٹریٹ کرمنلز کے حوالے کر دیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ جو شہری ڈاکوؤں سے بچ جاتا ہے وہ گٹر میں گر جاتا ہے اور جو اس سے بچ جائے اسے کتا کاٹ لیتا ہے۔ جماعت اسلامی کی جدوجہد کا مقصد کراچی کے شہریوں کو جینے کا حق دلانا اور اسٹریٹ کرائمز کا خاتمہ ہے۔

    انہوں نے مطالبہ کیا کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد سندھ حکومت اختیارات نچلی سطح پر منتقل کرے۔ یہ ایک طویل جدوجہد ہے، جس میں مایوس ہونے کے بجائے عوام کو اپنے حقوق کے حصول کے لیے متحد ہو کر آگے بڑھنا ہوگا۔

  12. حکمرانوں نے قوم کو نازک موڑ نہیں بلکہ چوراہے پر لا کھڑا کیا، نائب امیر جماعتِ اسلامی کراچی

    نائب امیر جماعت اسلامی کراچی و اپوزیشن لیڈر کے ایم سی سیف الدین ایڈووکیٹ نے گورنر ہاؤس کے باہر پیٹرولیم لیوی اور ’بھتہ ٹیکس‘ کے خلاف احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان بنے 79 سال ہو گئے، لیکن حکمرانوں نے عوام کو کرپشن، سود اور قرضوں کی دلدل میں پھنسا دیا ہے۔

    سیف الدین ایڈووکیٹ نے کہا کہ حکمران ہر وقت قوم کو نازک حالات کا بھاشن دیتے ہیں، لیکن انہوں نے قوم کو نازک موڑ پر نہیں بلکہ چوراہے پر لا کھڑا کیا ہے۔ حافظ نعیم الرحمان نے عوام کو شعور دیا اور انہیں اس چوراہے سے نکالنے کی جدوجہد شروع کی۔

    انہوں نے کہا کہ عوام کو آئی پی پیز اور پیٹرولیم لیوی کے نام پر لوٹا جا رہا ہے، جب کہ مختلف ٹیکسز اور اضافی وصولیوں نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔

    سیف الدین ایڈووکیٹ نے سندھ حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ صوبے میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے عوام سے ان کے بنیادی حقوق چھین لیے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ قومی و صوبائی اسمبلیوں میں بیٹھے لوگ عوام کے ووٹ سے نہیں بلکہ ’بوٹ پالش‘ سے آئے ہیں اور قوم پر جعلی حکومت مسلط کی گئی ہے۔

    انہوں نے حکومتی اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وزراء کے پروٹوکول کے لیے سڑکیں بند کی جائیں تو کسی کو عوام کی تکلیف نظر نہیں آتی، لیکن عوام اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر نکلیں تو حکمرانوں کو سڑکیں بند ہونے کا درد ہونے لگتا ہے۔

    سیف الدین ایڈووکیٹ نے کہا کہ پیٹرولیم لیوی اور ’بھتہ ٹیکس‘ صرف ایک عنوان ہے، ملک میں عوام کے حقوق سے متعلق بہت سے مسائل موجود ہیں اور جماعت اسلامی ان تمام مسائل کے خلاف جدوجہد جاری رکھے گی۔

  13. کراچی سے کشمور تک سندھ کے عوام کو بنیادی مسائل کا سامنا ہے، امیر جماعتِ اسلامی سندھ

    امیر جماعت اسلامی سندھ کاشف سعید شیخ نے گورنر ہاؤس کے باہر پیٹرولیم لیوی اور ’بھتہ ٹیکس‘ کے خلاف احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کراچی کے عوام کو ہزاروں کی تعداد میں شرکت پر مبارکباد دی اور کہا کہ حافظ نعیم الرحمان قوم کی امید بن چکے ہیں۔

    کاشف سعید شیخ نے کہا کہ کراچی سے خیبر تک عوام حافظ نعیم الرحمان کے نعرے لگا رہے ہیں۔ ان کی اپیل پر پورے پاکستان میں 510 سڑکیں بند کی گئیں، جب کہ کراچی سے کشمور تک 61 سڑکوں پر احتجاج کیا گیا۔

    انہوں نے کہا کہ ڈان نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق بجلی مافیا نے 19 کھرب روپے وصول کیے، جب کہ گزشتہ پانچ سال میں عوام سے 50 ہزار ارب روپے ٹیکسز کی مد میں وصول کیے گئے۔ کراچی سے کشمور تک سندھ کے عوام کو بنیادی مسائل کا سامنا ہے۔

    امیر جماعت اسلامی سندھ نے ورلڈ بینک کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سندھ کا ہر تیسرا فرد غربت کی لکیر کے نیچے آچکا ہے۔

    انہوں نے صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت نے امن و امان کے لیے 52 کروڑ روپے خرچ کیے، لیکن اس کے باوجود جرائم اور قتل کے واقعات جاری ہیں۔

    کاشف سعید شیخ نے کہا کہ پولیس کا اتنا بڑا بجٹ ہونے کے باوجود ایک بھی قاتل گرفتار نہیں کیا جا سکا۔ سندھ کے 138 تحصیلوں میں صاف پینے کا پانی دستیاب نہیں ہے۔

    انہوں نے کہا کہ سندھ کے عوام حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر لبیک کہیں گے۔ سندھ کے عوام مایوس نہ ہوں، جماعت اسلامی ان کے ساتھ ہے اور عوام کے حقوق کی جدوجہد جاری رکھے گی۔ ان شاء اللہ کامیابی عوام کی ہوگی۔

  14. جماعت اسلامی چند دن دھرنا دے کر واپس جانے نہیں آئی، حافظ نعیم الرحمان

    کراچی میں دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ دھرنے اب عوامی تحریک میں تبدیل ہو رہے ہیں اور وکلا، خواتین، طلبہ، علماء، مزدور اور کسان سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد احتجاج میں شریک ہو رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی چند دن دھرنا دے کر واپس جانے نہیں آئی، حکومت کو عوام کے مطالبات تسلیم کرنا ہوں گے، جب کہ احتجاج کا سلسلہ مزید منظم اور وسیع کیا جائے گا۔

    حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ 13 ربیع الاول کو ملک گیر پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کی تاریخ کا اعلان کیا جائے گا، تاجر تنظیمیں بھی احتجاج اور ہڑتال کے لیے رابطے کر رہی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ملک گیر ہڑتال پرامن طریقے سے ہوگی، احتجاج میں پتھر، گولی یا توڑ پھوڑ کی ضرورت نہیں، منظم سیاسی مزاحمت کے ذریعے عوام کا پیغام حکومت تک پہنچایا جائے گا۔

    امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ احتجاج صرف پیٹرولیم لیوی کے خاتمے اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی پر ختم ہوگا، مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو تحریک کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔

    انہوں نے کہا کہ پنجاب اور سندھ کے ہر ضلع میں جلسے اور احتجاجی سرگرمیاں شروع کی جائیں گی، بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی عوامی اجتماعات کیے جائیں گے، جب کہ اس کے بعد بڑے عوامی احتجاج کے لیے اسلام آباد کی کال دی جائے گی۔

    حافظ نعیم الرحمان نے کارکنوں کو اسلام آباد کی جانب ممکنہ پیدل مارچ کی تیاری شروع کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ عوام اپنی استطاعت کے مطابق روزانہ 5 سے 10 کلومیٹر پیدل چلنے کی مشق کریں۔

    ان کا کہنا تھا کہ کراچی اور گوادر کے ساحلوں سے بھی قافلے اسلام آباد کی جانب روانہ ہوں گے، چترال، گلگت بلتستان، کشمیر، پنجاب، خیبر پختونخوا اور سندھ سے بھی عوامی قافلے اس تحریک میں شریک ہوں گے۔

    حافظ نعیم الرحمان نے پیٹرولیم لیوی کو عوام کے لیے عذاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ 80 سے 90 روپے فی لیٹر لیوی غریب عوام پر ناقابل برداشت بوجھ ہے۔ مزدور، کسان، طلبہ، ٹیکسی ڈرائیور اور فوڈ ڈلیوری ورکر سمیت مڈل کلاس طبقہ بھی اس بوجھ کو برداشت کر رہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پیٹرول کی قیمت بڑھتے ہی گھر کی ہر چیز مہنگی ہوجاتی ہے، گوشت کے بعد سبزیاں اور دالیں بھی عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوچکی ہیں جب کہ آٹے اور روٹی کی قیمتوں میں اضافے نے عوام کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔

    امیر جماعت اسلامی نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ غریب اور مڈل کلاس سے ٹیکس وصول کرکے مراعات یافتہ طبقے کو فائدہ پہنچایا جارہا ہے، بڑے صنعت کاروں کو سستی گیس، سستی بجلی اور ٹیکسوں میں چھوٹ دی جاتی ہے۔

    حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ آئی پی پیز کے غلط معاہدوں کا بوجھ بھی عوام کے بجلی بلوں پر ڈالا گیا، جب کہ بجلی اور گیس کے بلوں میں فکس چارجز بھی عوام کے لیے اضافی بوجھ بن چکے ہیں۔

    انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ایف بی آر کی مبینہ کرپشن، بیوروکریسی کی نااہلی اور غریب کے خلاف کارروائی جب کہ بااثر افراد کو رعایت دینے کا سلسلہ ختم کیا جائے۔

    حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کی جدوجہد صرف احتجاجی سیاست تک محدود نہیں بلکہ معاشرے کی اصلاح اور نظام کی تبدیلی کے لیے بھی ہے۔ ظلم کے خلاف آواز اٹھانا اور مظلوموں کے ساتھ کھڑا ہونا تحریک کا بنیادی مقصد ہے۔

    انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو دین، تعلیم، تربیت اور عملی جدوجہد کے ساتھ جوڑنا ہوگا، جب کہ ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں سمیت ہر طبقے کو عوامی تحریک کا حصہ بنانا ہوگا۔

    امیر جماعت اسلامی نے حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو ریلیف دینے کے لیے اب بھی موقع موجود ہے، حکومت سنجیدگی سے مسئلہ حل کرے، بصورت دیگر عوامی جدوجہد مزید وسیع ہوگی۔

    انہوں نے کہا کہ ربیع الاول کے دوران دھرنوں میں میلاد النبی ﷺ اور سیرت النبی ﷺ کی تقریبات بھی منعقد کی جائیں گی، جب کہ 13 ربیع الاول کو ملک گیر احتجاج کے اگلے مرحلے کا اعلان کیا جائے گا۔

  15. کراچی میں انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر مطالبہ کر رہا ہے کہ بھتہ ٹیکس ختم کیا جائے، سیکریٹری جماعت اسلامی سندھ

    جنرل سیکریٹری جماعت اسلامی سندھ و ٹاؤن چیئرمین نیو کراچی محمد یوسف نے گورنر ہاؤس کے باہر پیٹرولیم لیوی اور ’بھتہ ٹیکس‘ کے خلاف احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی میں انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر مطالبہ کر رہا ہے کہ بھتہ ٹیکس ختم کیا جائے۔محمد یوسف نے کہا کہ پورے ملک کے گورنر ہاؤسز کے باہر عوام کا سمندر موجود ہے، حکمران سمجھ رہے تھے کہ جماعت اسلامی ایک دن دھرنا دے کر واپس چلی جائے گی، لیکن وہ نہیں جانتے کہ یہ جماعت اسلامی کے کارکنان ہیں جو اپنے مطالبات کے لیے پرعزم ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم لیوی کے خاتمے تک جدوجہد جاری رہے گی۔ کراچی سے پشاور تک دھرنے دیے جا رہے ہیں اور عوام کی بڑی تعداد احتجاج میں شریک ہو رہی ہے۔

    محمد یوسف نے کہا کہ ایوانوں میں بیٹھے لوگ باتوں سے نہیں مانتے، اب حکومت کے پاس دو راستے ہیں، یا پیٹرولیم لیوی ختم کرے یا پھر جماعت اسلامی کے اعلان کردہ لانگ مارچ کا انتظار کرے۔

    انہوں نے کہا کہ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے ملک گیر ہڑتال اور اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا آپشن بھی دے دیا ہے، اب حکمران فیصلہ کریں کہ عوام کو ریلیف دینا ہے یا تحریک کو مزید آگے بڑھنے دینا ہے۔

  16. اشرافیہ کا اثر و رسوخ ملک کے نظام پر حاوی ہو چکا ہے، حافظ نعیم الرحمان

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ملک میں مہنگائی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں عام آدمی کو سب سے زیادہ متاثر کر رہی ہیں۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرے، تاہم موجودہ نظام عوام کو ڈیلیور کرنے میں ناکام ہو چکا ہے اور اس کے باوجود عوام پر اضافی ٹیکسز اور مختلف نوعیت کے چارجز عائد کیے جا رہے ہیں۔

    پیٹرولیم لیوی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے امیر جماعتِ اسلامی نے کہاکہ حکومت اپنے اہداف پورے کرنے میں ناکامی کے بعد عام آدمی پر ایسا ٹیکس عائد کر رہی ہے جس کا کوئی جواز نہیں۔ ہر لیٹر پٹرول پر عوام سے بھاری رقم لیوی کی صورت میں وصول کی جا رہی ہے، لیکن اس کے بدلے عوام کو کوئی ریلیف نہیں دیا جا رہا۔

    انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کا پٹرولیم لیوی کے خلاف احتجاج جائز ہے اور اب دھرنوں میں عوام کی شرکت بھی بڑھ رہی ہے۔ پشاور کے بعد کراچی میں بھی بھرپور احتجاج اور جلسہ عام کیا جائے گا، جب کہ جماعت اسلامی صرف دھرنوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے مختلف مقامات پر احتجاجی کیمپ بھی لگائے جائیں گے۔

    امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا براہ راست اثر اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر پڑے گا۔ اگر پٹرول کی قیمت کم ہوتی ہے تو آٹا، چینی، دالوں اور سبزی سمیت دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی کمی ممکن ہے، اس لیے حکومت کو عوام کو ریلیف دینے کے لیے فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔

    حافظ نعیم الرحمان نے حکومت کے اخراجات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایک طرف عوام سے قربانی مانگی جا رہی ہے اور دوسری جانب حکومتی اور اشرافیائی اخراجات میں کمی نہیں کی جا رہی۔ حکومتی گاڑیوں، مفت پٹرول اور دیگر مراعات پر بھی نظرثانی ہونی چاہیے۔

    انہوں نے کہا کہ سرکاری افسران اور حکمرانوں کی گاڑیاں 1300 سی سی سے زیادہ نہیں ہونی چاہئیں اور سرکاری وسائل کا استعمال محدود کیا جانا چاہیے۔ عوام سے یہ کہنا کہ وہ قربانی دیں جب کہ حکمران اپنے اخراجات کم کرنے کے لیے تیار نہ ہوں، قابلِ قبول نہیں۔

    حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومت کو انڈیپینڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کے ساتھ دوبارہ بات کرنی چاہیے، بجلی کی قیمت کم کرنی چاہیے اور پٹرولیم لیوی ختم کرکے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم کرنی چاہئیں۔

    انہوں نے بجلی کے بلوں میں مختلف چارجز پر بھی تنقید کی اور کہا کہ فکسڈ چارجز، سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ، فیول ایڈجسٹمنٹ اور دیگر ٹیکسز نے عوام کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے۔ حکومت اور ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام ہیں اور اس ناکامی کا بوجھ براہِ راست عوام کی جیبوں پر ڈالا جا رہا ہے۔

    امیر جماعت اسلامی نے حکومتی طرزِ حکمرانی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں ایک محدود طبقے کو غیر معمولی مراعات حاصل ہیں جب کہ عام آدمی اپنے بچوں کی تعلیم اور بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے مشکلات کا شکار ہے۔ اشرافیہ کا اثر و رسوخ ملک کے نظام پر حاوی ہو چکا ہے اور اس صورتحال کو ختم کرنا ہوگا۔

    انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ قوم کے اوپر آپ لیوی کا بوجھ ڈالو اور بھتیجی کے لیے 11 ارب کا جہاز لو! شہباز شریف صاحب، یہ تو نہیں چلے گا۔ یہ ہمارے پیسے ہیں، ہمارے بچوں کے پیسے ہیں۔

  17. حکومت نے فوری اقدامات نہ کیے تو اسلامی جمعیت طلبہ احتجاجی تحریک چلائے گی: صاحبزادہ وسیم حیدر

    ناظمِ اعلیٰ اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان صاحبزادہ وسیم حیدر نے پٹرولیم لیوی کے خلاف وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہر جاری دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پٹرولیم لیوی کا مسئلہ صرف عام عوام نہیں بلکہ ملک کے طلبہ و طالبات کا بھی بڑا مسئلہ ہے، حکومت نے فوری اقدامات نہ کیے تو اسلامی جمعیت طلبہ احتجاجی تحریک چلائے گی اور اسمبلیوں کا گھیراؤ بھی کیا جائے گا۔

    صاحبزادہ وسیم حیدر نے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کو لاہور، کراچی اور پشاور میں جاری دھرنوں پر خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے طلبہ و طالبات پٹرولیم لیوی کے مسئلے پر ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پڑھنے والے طلبہ کے لیے پہلے ہی فیسوں کا بوجھ ناقابلِ برداشت ہے، ایسے میں ایک لیٹر پٹرول پر 125 روپے تک ٹیکس وصول کرنا ظلم ہے، جسے طلبہ مسترد کرتے ہیں۔

    ناظمِ اعلیٰ اسلامی جمعیت طلبہ نے حکومت کو خبردار کیا کہ اگر پٹرولیم لیوی کا مسئلہ حل نہ کیا گیا تو اسلامی جمعیت طلبہ ملک بھر میں تحریک چلائے گی۔ اسمبلیوں کا گھیراؤ بھی کیا جائے گا اور طلبہ اپنے مطالبات کے حصول تک پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

    صاحبزادہ وسیم حیدر نے کہا کہ اسلامی جمعیت طلبہ کی جدوجہد اور مزاحمت کی ایک طویل تاریخ ہے، تنظیم نے ماضی میں بھی آمریت کے خلاف کردار ادا کیا۔ اگر حکمران 1968ء اور 1974ء کی تاریخ دہرانا چاہتے ہیں تو طلبہ بھی اپنی جدوجہد کے لیے تیار ہیں۔

    انہوں نے تعلیمی شعبے کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 10 برس کے دوران طلبہ میں شدید ناامیدی پیدا ہوئی ہے۔ 2017ء سے 2026ء تک اعلیٰ تعلیمی اداروں کی فیسوں میں 300 فیصد اضافہ ہوا جب کہ 2021ء سے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے بجٹ میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔

    صاحبزادہ وسیم حیدر نے کہا کہ پاکستان کے پڑھے لکھے نوجوانوں کی تعداد بڑھ رہی ہے لیکن انہیں روزگار اور معیاری تعلیم کے مواقع فراہم نہیں کیے جارہے۔

    انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور دیگر صوبائی حکومتوں سے سوال کیا کہ اگر ٹیکسز سے حاصل ہونے والی رقم تعلیم پر خرچ نہیں ہورہی تو پھر کہاں خرچ کی جارہی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کوئی یونیورسٹی دنیا کی ٹاپ 300 جامعات میں شامل نہیں، جو لمحۂ فکریہ ہے۔ نوجوان اور طلبہ ریاست کی ترجیحات میں شامل نہیں ہیں۔

    ناظمِ اعلیٰ نے کہا کہ 5 سے 16 سال کے بچوں کو تعلیم دینا ریاست کی ذمہ داری ہے، تاہم پنجاب میں ایک کروڑ، خیبرپختونخوا میں 50 لاکھ اور سندھ میں 47 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جب کہ بلوچستان میں بھی بڑی تعداد میں بچے تعلیم سے محروم ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ طلبہ کے یونین سازی کے حق پر پابندی عائد ہے جبکہ آزاد کشمیر کی صورتحال اور ایم ڈی کیٹ کے معاملے پر پرامن احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف بھی کارروائی کی گئی۔ راولپنڈی میں اسلامی جمعیت طلبہ کے 151 کارکنان گرفتار ہوئے، تاہم تنظیم اپنے مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹی۔

    صاحبزادہ وسیم حیدر نے کہا کہ اسلامی جمعیت طلبہ عوام اور طلبہ کے حقوق کے لیے میدان میں موجود رہے گی اور مطالبات کے حصول تک جدوجہد جاری رکھے گی۔ اس موقع پر ناظم جنوبی پنجاب حذیفہ عثمان اور ناظم لاہور عبداللہ بن عباس بھی موجود تھے۔

  18. پیٹرول کی قیمت کم کرو ورنہ کرسی چھوڑ دو، حافظ نعیم الرحمان

    امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے لاہور میں دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوامی مسائل کے حل اور ظلم کی ہر شکل کے خلاف جدوجہد جاری رکھیں گے، دھرنا ختم نہیں ہوگا بلکہ حکمران طبقے کے خلاف ایک مؤثر عوامی تحریک میں تبدیل ہوگا۔

    حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی نے آئی پی پیز مافیا کے خلاف پورے پاکستان میں شعور بیدار کیا اور دھرنے کے نتیجے میں حکومت کو آئی پی پیز سے مذاکرات پر مجبور ہونا پڑا۔ 27 آئی پی پیز سے مذاکرات ہوئے، 5 آئی پی پیز بند کیے گئے جبکہ 17 کے معاہدوں پر نظرثانی کی گئی، جس کے نتیجے میں بجلی 8 سے 10 روپے فی یونٹ تک سستی ہوئی۔

    انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر 27 آئی پی پیز سے مذاکرات ہوسکتے ہیں تو باقی 73 آئی پی پیز سے بات کیوں نہیں ہوسکتی؟ غلط معاہدے ختم کیے جائیں اور عوام کو بجلی کے بلوں میں مزید ریلیف دیا جائے۔

    حافظ نعیم الرحمان نے پیٹرولیم لیوی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ غریب اور مڈل کلاس عوام پر اضافی بوجھ ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات پر فی لیٹر 130 روپے سے زائد کے ٹیکسز وصول کیے جارہے ہیں جب کہ پیٹرولیم لیوی کی مد میں عوام سے 8 ہزار ارب روپے سے زائد وصول کیے جاچکے ہیں۔

    امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ جن لوگوں کی آمدنی ٹیکس کے قابل نہیں، ان پر بھی پیٹرولیم لیوی عائد کردی گئی ہے، جس سے رکشہ اور ٹیکسی ڈرائیور، بائیکیا رائیڈرز اور مزدور براہ راست متاثر ہورہے ہیں۔ پیٹرولیم لیوی کے نام پر غریب عوام کی جیبوں پر ڈاکا ڈالا جارہا ہے۔

    انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت رات کو نافذ کی گئی پیٹرول کی قیمت واپس لے، بصورت دیگر ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال کی تاریخ کا اعلان کیا جائے گا۔ تاجروں اور عوام سے رابطہ کرکے مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کی جائے گی۔

    حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ شٹر ڈاؤن ہڑتال کے بعد احتجاجی دھرنوں کی تعداد مزید بڑھائی جاسکتی ہے، جب کہ شہروں، گلیوں، بازاروں اور چوکوں میں پیدل مارچ شروع کرنے کا آپشن بھی موجود ہے۔ پورے پاکستان سے لوگ پیدل مارچ کرتے ہوئے اسلام آباد پہنچ سکتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ حکومت نے دھرنے سے لاتعلقی کا تاثر دیا تو عوامی احتجاج مزید وسیع کیا جائے گا۔ تین دن گزر چکے ہیں اور جماعت اسلامی مزید دن دھرنے میں بیٹھنے کے لیے تیار ہے۔

    امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ عوامی عدالتوں اور نوجوانوں کے جذبوں کے ذریعے حکمرانوں کو فیصلے تبدیل کرنے پر مجبور کریں گے۔ عوام کی قوت کے سامنے کوئی زمینی طاقت راستہ نہیں روک سکتی۔

    حافظ نعیم الرحمان نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی نے اپنی اسٹریٹ پاور کا مظاہرہ کردیا ہے اور عوام سے بھی اپیل ہے کہ وہ قدم سے قدم ملا کر ساتھ دیں۔ جماعت اسلامی کے کارکنان عقیدے، نظم و ضبط اور تنظیمی ڈسپلن کے ساتھ اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ 7 اگست کو بلوچستان سے خیبر پختونخوا اور سندھ سے پنجاب تک عوامی طاقت کا مظاہرہ کیا گیا۔ سیٹوں کی تعداد نہیں بلکہ عوام کا سمندر اصل طاقت ہے اور عوام کا منظم و پرامن اجتماع انقلاب کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

    حافظ نعیم الرحمان نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی پرامن سیاسی مزاحمت کے کلچر کو آگے بڑھائے گی۔ ہماری لڑائی مسلم لیگ کے کارکنان سے نہیں، ان کے آقاؤں سے ہے۔

  19. نوجوانوں کو اپنے حقوق کے لیے خود میدان میں نکلنا ہوگا: ناظمِ اعلیٰ اسلامی جمعیت طلبہ

    ناظمِ اعلیٰ اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان صاحبزادہ وسیم حیدر نے کہا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں، جو عوام کو گمراہ کرنے اور نوجوانوں کو مایوس کرنے کے سوا کچھ نہیں کر سکیں۔ نوجوانوں کو اپنے حقوق کے حصول کے لیے خود میدان میں نکلنا ہوگا۔

    چارسدہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صاحبزادہ وسیم حیدر نے کہا کہ اسلامی جمعیت طلبہ ہر کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر نوجوانوں کو متحرک کرے گی اور ان کے حقوق کے لیے جدوجہد کرے گی۔ اس موقع پر ناظم صوبہ خیبرپختونخوا اسفندیار عزت اور ناظم چارسدہ حضرت علی بھی موجود تھے۔

    انہوں نے کہا کہ موجودہ وفاقی حکومت عوام کی حقیقی نمائندہ نہیں، جب کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے نجات حاصل کرکے ایسی حکومت کا قیام ضروری ہے جو حقیقی معنوں میں عوام اور نوجوانوں کی نمائندگی کرے۔

    ناظمِ اعلیٰ نے خیبرپختونخوا حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے دعویٰ کیا کہ صوبے میں 47 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جبکہ طلبہ کو مفت درسی کتب کی فراہمی بھی یقینی نہیں بنائی جا رہی۔

    ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کی طرح خیبرپختونخوا میں بھی تعلیمی اداروں کی نجکاری کی جا رہی ہے، جو تعلیم کے بنیادی حق اور عوامی مفاد کے خلاف ہے۔

    صاحبزادہ وسیم حیدر نے کہا کہ پاکستان تحریکِ انصاف نے نوجوانوں کے نام پر ووٹ حاصل کیا، تاہم گزشتہ 13 سالہ کارکردگی میں نوجوانوں کے لیے کوئی مؤثر اور قابلِ ذکر اقدام سامنے نہیں آیا۔ مایوس نوجوانوں کو متحرک اور منظم کرکے ان کے حقوق کے لیے جدوجہد کی جائے گی۔

    انہوں نے کہا کہ اگر صوبائی حکومت عوام کے جان و مال کا تحفظ اور بنیادی حقِ تعلیم فراہم نہیں کرسکتی تو عوام سے ٹیکس کس بنیاد پر وصول کیا جا رہا ہے؟ وفاقی اور صوبائی حکومتیں عوام کو بنیادی سہولیات اور تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہوچکی ہیں۔

    خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صورتحال انتہائی تشویش ناک ہے اور عوام اپنے جان و مال کے تحفظ کے حوالے سے شدید پریشانی کا شکار ہیں۔

    صاحبزادہ وسیم حیدر نے جامعہ پشاور کے مالی بحران پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ مالی مشکلات کے باعث تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔ جامعہ پشاور میں آئے روز ہونے والے احتجاج انتظامی اور مالی مسائل کی سنگینی کا واضح ثبوت ہیں۔

    14 اگست کے موقع پر سول ایوارڈز کی تقسیم سے متعلق سوال کے جواب میں ناظمِ اعلیٰ اسلامی جمعیت طلبہ نے کہا کہ پاکستان کی 64 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، تاہم ایوارڈز کی فہرست میں نوجوانوں کی حقیقی خدمات اور قربانیوں کا خاطر خواہ اعتراف نظر نہیں آیا۔

    انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکمران اور وزراء مراعات اور اعزازات کی بندربانٹ میں مصروف ہیں، جب کہ ملک و قوم کے لیے حقیقی خدمات انجام دینے اور قربانیاں دینے والے افراد کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔

  20. پاکستان میں اشرافیہ کا نہیں، ’بدمعاشیہ‘ کا نظام قائم ہے؛ حافظ نعیم الرحمان

    امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے پٹرولیم لیوی اور مہنگائی کے خلاف جاری دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ صرف دس دن کا دھرنا نہیں بلکہ ایک بڑی جدوجہد کی تحریک کا آغاز ہے۔

    حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ دھرنے کا آج دوسرا دن ہے اور بلوچستان سمیت ملک بھر کے لوگ اس آواز کو سن رہے ہیں۔ یہ آواز صرف جماعت اسلامی کی نہیں بلکہ عوام کی آواز ہے۔

    امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ دھرنا ایک طرح کی ریہرسل ہے جس میں شرکا کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔ حکمرانوں نے مختلف تجربے کرکے دیکھ لیے، پہلے ایک کو لایا گیا، پھر دوسرے اور تیسرے کو لایا گیا اور بعد میں کہا گیا کہ یہ ہمیں پسند نہیں۔

    انہوں نے ملک کے عدالتی نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت پاکستان کی عدالتوں میں 24 لاکھ مقدمات زیرِ التوا ہیں اور عوام کو انصاف نہیں مل رہا۔ موجودہ نظام فرسودہ ہوچکا ہے اور اب یہ نظام نہیں چلے گا۔

    حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ہر طبقے میں اچھے لوگ موجود ہیں، لیکن ’گلا سڑا نظام‘ انہیں آگے آنے نہیں دیتا۔ اس نظام کے خلاف جدوجہد بندوق کے ذریعے نہیں بلکہ عوام کی طاقت کے ذریعے کی جائے گی۔

    انہوں نے پٹرولیم لیوی کو بھی واضح ناانصافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی نے دو ماہ قبل آئینی عدالت میں اس حوالے سے پٹیشن دائر کی تھی، تاہم کارروائی آگے نہیں بڑھ سکی۔

    حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ اب جماعت اسلامی عوام کی عدالت لگائے گی اور حکمرانوں کو کٹہرے میں لائے گی۔

    انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی عوام کے ذریعے انقلاب لانا چاہتی ہے اور ’فارم 47 یا کسی چور دروازے‘ کے ذریعے اقتدار میں نہیں آئے گی بلکہ عوام کی تائید سے آگے بڑھے گی۔

    حافظ نعیم الرحمان نے نوجوانوں سے مخاطب ہوتے ہوئے سوال کیا کہ کیا آپ بڑی جدوجہد کے لیے تیار ہیں؟

    لاہور میں جماعت اسلامی کے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ موجودہ حالات جس نہج پر پہنچ رہے ہیں، انہیں دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ دھرنا ایک بڑی جدوجہد کی ابتدا ہے۔ معیشت کا پہیہ چلانے کے لیے عوام کو فوری ریلیف دینا ہوگا۔

    انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کو غریب کے دکھ کا اندازہ نہیں۔ عام آدمی کے لیے مکان کا کرایہ، بچوں کی فیس اور بجلی کا بل ادا کرنا مشکل ہوگیا ہے، جب کہ معاشی مشکلات نوجوانوں کو مایوسی، منشیات اور جرائم کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

    حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ چھوٹے چور پکڑے اور مارے جاتے ہیں، جب کہ بڑے چور پورے نظام پر مسلط ہیں۔ پاکستان میں اشرافیہ کا نہیں بلکہ ’بدمعاشیہ‘ کا نظام قائم ہے۔

    امیر جماعت اسلامی نے آئی پی پیز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آئی پی پیز مافیا 1994 سے ہر حکومت میں طاقتور رہا ہے۔ بجلی پیدا نہ کرنے کے باوجود کیپیسٹی پیمنٹس کی مد میں اربوں روپے ادا کیے جا رہے ہیں اور عوام سے بجلی نہ بنانے کی قیمت بھی وصول کی جا رہی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ تنخواہ دار طبقے سے ٹیکس وصول کیا جاتا ہے جبکہ بڑے کاروباری مفادات کو رعایتیں دی جاتی ہیں۔ اشرافیہ کو ٹیکس چھوٹ، سستی بجلی اور کم شرح سود پر قرضے ملتے ہیں، جب کہ غریب ٹیکسوں کے بوجھ تلے دب رہا ہے۔

    حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ اشرافیہ کو حاصل مراعات اور ٹیکس چھوٹ سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچ رہا ہے۔ مہنگی بجلی، گیس اور ایندھن کے باعث صنعتکار مشکلات کا شکار ہیں، صنعتیں بند ہو رہی ہیں اور برآمدات متاثر ہو رہی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ حکمران ملک کی ترقی کے دعوے کرتے ہیں، لیکن زمینی حقیقت اس کے برعکس ہے۔ پنجاب میں غربت، تعلیم اور روزگار کے مسائل حل طلب ہیں۔

    حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پنجاب میں لاکھوں بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جب کہ سرکاری اسکول چلانے میں ناکامی کو آؤٹ سورسنگ کے ذریعے چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ سرکاری ملازمین، ڈاکٹرز اور اساتذہ احتجاج کر رہے ہیں جب کہ کسان ہر فصل کے بعد مزید مقروض ہو رہا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ بڑے جاگیرداروں اور کاروباری مافیا کو حکومتی پالیسیوں سے فائدہ پہنچ رہا ہے، جب کہ چینی، گندم اور دیگر اجناس کی درآمد و برآمد میں مخصوص مفاداتی گروہ فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

    حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ 40، 45 سال سے حکومتیں کرنے کے باوجود پنجاب کے بنیادی مسائل حل نہیں ہوسکے۔ مقامی حکومتوں کے انتخابات نہ کرانا جمہوری نظام پر سوالیہ نشان ہے۔

    انہوں نے کہا کہ موروثی سیاست نے جمہوریت کو یرغمال بنا رکھا ہے اور سیاسی جماعتیں اپنے مفادات کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ اتحاد کرتی رہی ہیں۔ ماضی میں حکومتیں گرانے اور بنانے کے لیے مختلف سیاسی جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر آتی رہی ہیں۔

    امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ لاہور کا دھرنا ’تختِ لاہور‘ کو عوام کے سامنے جوابدہ بنانے کے لیے ہے۔ حکومت مذاکرات کرنا چاہتی ہے تو دھرنا گاہ میں آکر عوام سے بات کرے۔

    انہوں نے کہا کہ عوام کو ’میجک شو‘ نہیں بلکہ حقیقی ریلیف چاہیے۔ پٹرول کی قیمت 225 روپے فی لیٹر تک لانے کا مطالبہ جائز ہے اور حکومت کو عوام کو پٹرول کی قیمتوں میں فوری ریلیف دینا چاہیے۔

    حافظ نعیم الرحمان نے واضح کیا کہ لاہور کا دھرنا جاری رہے گا اور مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو ملک گیر دھرنوں کی کال دی جاسکتی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال کا آپشن بھی موجود ہے، جب کہ جماعت اسلامی کے کارکن ملک بھر سے پیدل مارچ کے لیے تیار رہیں۔ اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا آپشن بھی موجود ہے۔

    حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ظلم کے نظام کے خلاف عوام کو متحد کرنا ہوگا اور نوجوانوں کو مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ حالات بدلنے کے لیے جدوجہد جاری رکھنا ہوگی۔

    انہوں نے کہا کہ حلال روزگار کے راستے مشکل اور حرام کے راستے آسان کیے جا رہے ہیں، جب کہ عوام کو دو وقت کی روٹی کے لیے دو دو، تین تین ملازمتیں کرنا پڑ رہی ہیں۔ تعلیم، صحت اور روزگار عام آدمی کے لیے سب سے بڑے مسائل بن چکے ہیں۔

    امیر جماعت اسلامی نے خبردار کیا کہ موجودہ حالات عوام کو بالآخر مزاحمت کی طرف لے جا سکتے ہیں، اس لیے حکومت کو عوامی مسائل حل کرنے کے لیے سنجیدہ مذاکرات کرنے چاہییں۔

    انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کسی مافیا یا مفاداتی گروہ کے سہارے نہیں بلکہ کارکنوں کے چندے سے چلتی ہے، جب کہ دھرنے کے اخراجات بھی کارکن اور عوام اپنی مدد آپ کے تحت پورے کر رہے ہیں۔ عوام سے اپیل ہے کہ حق اور انصاف کی جدوجہد میں جماعت اسلامی کا ساتھ دیں۔

  21. کوٹ لکھپت جیل میں قید پی ٹی آئی رہنماؤں کی جماعت اسلامی کے دھرنوں کی حمایت

    پاکستان تحریک انصاف کے کوٹ لکھپت جیل میں قید رہنماؤں شاہ محمود قریشی، ڈاکٹر یاسمین راشد، میاں محمود الرشید، عمر سرفراز چیمہ اور سینیٹر اعجاز چوہدری نے جماعت اسلامی کے مہنگائی، پٹرولیم مصنوعات پر لیوی اور بجلی کی بڑھتی قیمتوں کے خلاف ملک گیر دھرنوں کی حمایت کا اعلان کردیا۔

    اسیر پی ٹی آئی رہنماؤں نے اپنے مشترکہ بیان میں تحریک انصاف کی مرکزی قیادت سے بھی اپیل کی کہ وہ جماعت اسلامی کی اس عوامی جدوجہد کی حمایت کا اعلان کرے۔

    انہوں نے کہا کہ ملک بھر کے نوجوان جماعت اسلامی کی اس مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور حکومت پر دباؤ ڈالیں کہ پٹرولیم لیوی کے نظام کو ختم اور مہنگائی میں کمی کی جائے۔

    بیان میں کہا گیا کہ مہنگائی اور بڑھتی ہوئی بجلی و پٹرول کی قیمتوں نے عوام کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے، اس لیے حکومت کو عوام کو ریلیف دینے کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔

    مشترکہ بیان جاری کرنے والے رہنماؤں میں شاہ محمود قریشی، ڈاکٹر یاسمین راشد، میاں محمود الرشید، سینیٹر اعجاز چوہدری اور عمر سرفراز چیمہ شامل ہیں۔

  22. پیٹرول کی قیمت 225 روپے کرنا ہوگی، حکومتی کمیٹی کو نہیں مانتے: حافظ نعیم الرحمان

    امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے پیٹرولیم لیوی اور مہنگائی کے خلاف لاہور میں وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہر دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے بنائی گئی وزرا کی کمیٹی کو مسترد کرتے ہیں، بات کرنی ہے تو دھرنے کے شرکا سے آکر بات کی جائے۔

    حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ کراچی میں گورنر ہاؤس، پشاور اور لاہور میں احتجاجی دھرنے جاری ہیں، عوام گرمی میں شوق سے نہیں بلکہ اپنے حقوق کے لیے بیٹھے ہیں۔ جن لوگوں کو پیٹرول مفت ملتا ہے وہ عام آدمی کے دکھ کو نہیں سمجھ سکتے کہ گھر کا کرایہ اور روزمرہ اخراجات کیسے پورے کرنے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ حکومت صرف پیٹرول کی قیمت نہیں بڑھاتی بلکہ عوام پر مزید ٹیکسز بھی عائد کیے جاتے ہیں۔ شہباز شریف اور مریم نواز سے کہتا ہوں کہ اپنے وزرا کو پڑھنا لکھنا سکھائیں اور انہیں کم از کم یہ بتائیں کہ عوام کن مشکلات سے گزر رہے ہیں۔

    امیر جماعت اسلامی نے جاگیردارانہ نظام کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ن لیگ کے جاگیرداروں سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے کتنا ٹیکس ادا کیا۔ ٹیکس طلبہ اور عام عوام سے وصول کیا جاتا ہے، جاگیرداری کا یہ نظام نہیں چلے گا۔

    حافظ نعیم الرحمان نے دعویٰ کیا کہ بڑے جاگیردار اور بااثر طبقات ٹیکس ادا نہیں کرتے جبکہ عام عوام اور مڈل کلاس پر ٹیکسوں کا بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔ عوام کے حقوق کے لیے جدوجہد کا آغاز کردیا ہے اور حکومت کے گھٹنے ٹیکنے تک دھرنا جاری رہے گا۔

    انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ مایوس نہ ہوں اور کسی سیاسی جماعت کے خلاف نہیں بلکہ حکومتی پالیسیوں کے خلاف جدوجہد میں اپنا کردار ادا کریں۔

    حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ملک میں گورننس نام کی کوئی چیز نہیں، فارم 47 والا نظام عوام کو قبول نہیں۔ جب تک اس نظام کو جڑ سے نہیں اکھاڑیں گے جدوجہد جاری رکھیں گے۔

    انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کی کمیٹی سے کوئی بریفنگ نہیں لیں گے، اگر حکومت نے بات کرنی ہے تو دھرنے کے شرکا کے پاس آکر بات کرے۔ پیٹرول کی قیمت ہر صورت 225 روپے فی لیٹر کرنا ہوگی۔

  23. پیٹرولیم لیوی بھتہ ٹیکس ہے، ہر صورت واپس لینا ہوگا: امیر جماعتِ اسلامی کراچی

    امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے پیٹرولیم لیوی کے خلاف گورنر ہاؤس کے باہر دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیٹرولیم لیوی کے نام پر عائد بھاری ٹیکس ہر صورت واپس لینا ہوگا، جب کہ حکمرانوں کے خلاف جماعت اسلامی کی جدوجہد جاری رہے گی۔

    منعم ظفر خان نے کہا کہ گورنر ہاؤس کے باہر ہزاروں شہری موجود ہیں اور ان شاء اللہ جماعت اسلامی گورنر ہاؤس کے دروازے تک پہنچے گی۔ پورے پاکستان کے گورنر ہاؤسز اور پنجاب کے وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہر دھرنوں کا آغاز ہوگیا ہے۔

    امیر جماعت اسلامی کراچی نے کہا کہ جو لوگ سمجھتے تھے کہ جماعت اسلامی صرف دعوے کرسکتی ہے وہ دھرنے میں آکر دیکھ لیں۔ پیٹرولیم لیوی کے نام پر عوام سے بھاری رقم وصول کی جارہی ہے، جسے ہر صورت ختم کرنا ہوگا۔

    انہوں نے آئی پی پیز کے معاہدوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آئی پی پیز کے نام پر کیا جانے والا دھندا بھی ہر صورت ختم کرنا ہوگا۔ جماعت اسلامی نے آئی پی پیز کے حوالے سے پورے پاکستان میں آواز بلند کی ہے جب کہ کے الیکٹرک کے ظلم کے بارے میں بھی کراچی کے عوام کو آگاہ کیا گیا۔

    منعم ظفر خان نے کہا کہ یہ وہ ادارے ہیں جن کے ذریعے عوام کی جیبوں پر ڈاکا ڈالا جاتا ہے، جب کہ ایف بی آر کو بھی جواب دینا ہوگا کہ وہ اس تمام صورتحال میں کیا کررہا ہے۔

    انہوں نے دعویٰ کیا کہ 2024 میں صرف لیوی کے نام پر عوام سے 1220 ارب روپے وصول کیے گئے، جب کہ عوام سے ٹیکس کی مد میں 1438 ارب روپے وصول کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا اور حکمران اپنے ہدف سے بھی زیادہ 100 ارب روپے وصول کرچکے ہیں۔

    امیر جماعت اسلامی کراچی نے کہا کہ حکمرانوں کے ٹھاٹھ باٹھ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے جبکہ عوام پر ٹیکس پر ٹیکس عائد کیا جارہا ہے۔

    انہوں نے سیاسی جماعتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایک حمام میں سارے ہی ننگے ہیں اور فارم 47 کی پیداوار اسمبلیوں میں بیٹھ کر ایک دوسرے کے مفادات کا تحفظ کررہے ہیں۔

    انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جب وہ وزیراعظم نہیں تھے تو کراچی کو پیرس بنانے اور پانی کا مسئلہ حل کرنے کے دعوے کرتے تھے، لیکن وزیراعظم بننے کے بعد کراچی آئے تو 24 سے زائد گاڑیوں کے پروٹوکول میں آئے اور چلے گئے۔

    منعم ظفر خان نے کہا کہ فارم 47 کی پیداوار کا موضوع عوامی مسائل نہیں بلکہ آپس میں فرینڈلی اپوزیشن ہے، جب کہ جماعت اسلامی فرسودہ نظام کے خلاف جدوجہد کررہی ہے۔

    انہوں نے صوبائی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا کہ بتایا جائے میر رضا کے قاتلوں کو کون تحفظ فراہم کررہا ہے۔

    امیر جماعت اسلامی کراچی نے کہا کہ جماعت اسلامی کراچی کے ساڑھے تین کروڑ عوام کے بنیادی حقوق کے حصول کے لیے ان کے ساتھ کھڑی ہے اور گورنر ہاؤس کے کونے تک محدود نہیں رہے گی بلکہ دروازے تک جائے گی۔

    انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی تحریک اہل پاکستان کو ظلم کے نظام سے نکالنے کی تحریک ہے، جب کہ پورے ملک میں جاری دھرنے حکمرانوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیں گے۔

  24. جماعت اسلامی کا کوئی ذاتی ایجنڈا نہیں، ہمارا مقصد عوام کو ریلیف دلانا ہے : حافظ نعیم الرحمان

    لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے حکومت کو پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی ختم کرنے سمیت دیگر مطالبات تسلیم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کے اگلے مرحلے کا اعلان آج رات کرنے کا عندیہ دے دیا۔

    حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ عوام مہنگائی، بجلی اور پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں کے باعث شدید مشکلات سے دوچار ہیں، جبکہ حکمران طبقہ عوام پر معاشی بوجھ کم کرنے کے بجائے اپنے اخراجات میں اضافہ کر رہا ہے۔

    امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کا کوئی ذاتی ایجنڈا نہیں، ہمارا مقصد عوام کو ریلیف دلانا ہے۔ نااہل طبقے کے فیصلوں کا بوجھ عوام اٹھا رہے ہیں اور عام آدمی کے لیے مہنگائی کے موجودہ حالات میں زندگی گزارنا مشکل ہوگیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ حکومت پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی فوری ختم کرے اور جماعت اسلامی کے مطالبات تسلیم کیے جائیں۔ اگر حکومت نے لیوی ختم نہ کی تو جماعت اسلامی سڑکوں پر بیٹھنے سمیت احتجاج کے مزید اقدامات کرے گی۔

    حافظ نعیم الرحمان نے دعویٰ کیا کہ حکومت فی لیٹر پٹرول پر عوام کی جیب پر 33 فیصد بوجھ ڈال رہی ہے، جب کہ طالب علم بھی پٹرول کی ہر لیٹر خریداری پر اضافی رقم ادا کر رہے ہیں۔ پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی عوام پر اضافی مالی بوجھ ہے جسے ختم کیا جانا چاہیے۔

    انہوں نے آئی پی پیز کے معاہدوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ناجائز معاہدے ختم کیے جائیں، آئی پی پیز مافیا عوام کا خون چوس رہا ہے، جب کہ جماعت اسلامی کے احتجاج کے نتیجے میں بجلی کے نرخوں میں کمی کی راہ ہموار ہوئی۔

    امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت نے خود تسلیم کیا کہ جماعت اسلامی کے دھرنے کے نتیجے میں قومی خزانے کو اربوں روپے کا فائدہ ہوا، جماعت اسلامی کا مقصد کسی فرد یا حکومت کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ عوام کے مسائل حل کرانا ہے۔

    حافظ نعیم الرحمان نے گندم کی قیمتوں اور درآمد و برآمد کی پالیسی پر بھی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا، پہلے گندم درآمد کی گئی اور بعد میں اسے سستے داموں برآمد کرنے کی اجازت دی گئی، جس کے نتیجے میں مقامی مارکیٹ میں قیمتوں پر دباؤ بڑھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ نگراں حکومت کے دور میں درآمد کی گئی گندم کا تاحال مکمل حساب سامنے نہیں آسکا۔ حکومت کی جانب سے گندم کی ایکسپورٹ کی اجازت دینے کے فیصلے نے بھی عوامی مشکلات میں اضافہ کیا۔

    حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ڈیزل کی قیمت میں کمی کا فائدہ بھی عوام تک نہیں پہنچا۔ کمپنیاں مقامی تیل کے باوجود صارفین سے درآمد شدہ تیل کے حساب سے قیمتیں وصول کر رہی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے معاملے میں عوام سے اضافی وصولیاں بند کی جائیں اور حکومت فوری طور پر عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کرے۔

    حافظ نعیم الرحمان نے اعلان کیا کہ عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر جماعت اسلامی کے دھرنوں کے دوران سیرت کانفرنسز بھی منعقد کی جائیں گی۔

    انہوں نے کہا کہ 13 ربیع الاول کو ملک گیر ہڑتال کی کال دی جائے گی، جبکہ یہ ہڑتال ستمبر کے پہلے ہفتے میں کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ احتجاج کے اگلے اور اہم لائحہ عمل کا اعلان آج رات کیا جائے گا

    امیر جماعت اسلامی نے فلسطین میں جاری اسرائیلی کارروائیوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ فلسطینی عوام پر اسرائیلی مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔

    حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان ہونے والے معاہدے کو بیت المقدس کے تحفظ کے لیے استعمال کیا جانا ضروری ہے، ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو واضح پیغام دینا چاہیے۔

    انہوں نے الزام عائد کیا کہ اسرائیل شام پر بھی حملے کر رہا ہے اور کہا کہ صہیونی قوتیں کسی قانون یا معاہدے کو تسلیم نہیں کرتیں۔

    حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ایسے معاملات کو نہیں چھیڑا جانا چاہیے جن سے قوم میں مزید تقسیم پیدا ہو، موجودہ حالات میں قومی یکجہتی اور اتفاقِ رائے کی ضرورت ہے۔

    حافظ نعیم الرحمان نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشتگردی کے واقعات پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں صوبوں میں دہشتگردی کی کارروائیاں ہو رہی ہیں اور ایسی صورتحال میں قوم کو یکجا کرنے اور قومی اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی ضرورت ہے

    انہوں نے کہا کہ کشمیر میں بھی دھرنا جاری ہے، تاہم مسائل کا حل بات چیت کے ذریعے ہی نکالا جاسکتا ہے، حکومت اور متعلقہ فریقین کو مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔

    امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ سبزیوں سمیت روزمرہ استعمال کی تقریباً ہر چیز مہنگی ہوچکی ہے اور عام شہری کے لیے گھریلو اخراجات پورے کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی عوام کے مسائل کے حل اور حقیقی ریلیف کے لیے اپنا احتجاج جاری رکھے گی۔ انہوں نے ایک بار پھر حکومت سے مطالبہ کیا کہ پٹرولیم لیوی ختم کی جائے، آئی پی پیز کے غیر منصفانہ معاہدوں پر نظرثانی کی جائے اور عوام کو مہنگائی سے نجات دلانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

    حافظ نعیم الرحمان نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی کے لیے یہ انا کا مسئلہ نہیں بلکہ عوام کو ریلیف دلانے کا معاملہ ہے۔ اگر حکومت نے عوامی مطالبات تسلیم نہ کیے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔

  25. عوامی غم و غصہ بڑھ رہا ہے، حکومت نے پٹرولیم لیوی ختم نہ کی تو حالات بدل سکتے ہیں: حافظ نعیم الرحمان

    امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ فوری واپس نہ لیا گیا تو احتجاج کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے ملک گیر ہڑتال کی کال دی جاسکتی ہے۔

    سی ایم ہاؤس کے باہر پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پٹرول کی قیمت میں 5 روپے سے زائد اضافہ عوام کے ساتھ زیادتی ہے۔ حکومت پٹرولیم مصنوعات پر عائد اضافی ٹیکسز اور لیوی ختم کرے تاکہ عوام کو حقیقی ریلیف مل سکے۔

    امیر جماعت اسلامی نے دعویٰ کیا کہ پٹرول کی قیمت 225 روپے فی لیٹر تک لائی جاسکتی ہے، تاہم اس کے لیے حکومت کو اضافی ٹیکسز اور پٹرولیم لیوی میں کمی کرنا ہوگی

    حافظ نعیم الرحمان نے حکومت کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ عوام کے غصے کو نظر انداز نہ کیا جائے، کیونکہ معاملات حکومت کے ہاتھ سے نکل سکتے ہیں، اگر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ واپس نہ لیا گیا تو جماعت اسلامی احتجاج کو مزید وسعت دے گی اور ضرورت پڑنے پر پورے ملک میں ہڑتال کی کال بھی دی جاسکتی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ملک کے 510 مقامات پر شاہراہوں کی بندش جماعت اسلامی کی احتجاجی طاقت اور عوامی حمایت کا ثبوت ہے، جماعت اسلامی کے دھرنے کسی سیاسی مفاد کے لیے نہیں بلکہ عوام کو مہنگائی سے ریلیف دلانے کے لیے جاری ہیں

    حافظ نعیم الرحمان نے بجلی کے شعبے اور آئی پی پیز کے معاہدوں کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بعض معاہدوں پر دوبارہ مذاکرات کے نتیجے میں قومی خزانے کو 360 ارب روپے کا فائدہ ہوا ہے۔

    انہوں نے مطالبہ کیا کہ مزید آئی پی پیز کے معاہدوں کا بھی ازسرنو جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ کیپیسٹی پیمنٹس کے نام پر عوام سے رقم وصول کی گئی، جس کا بوجھ بالآخر بجلی کے بلوں کی صورت میں صارفین کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔

    امیر جماعت اسلامی نے ایف بی آر کی ٹیکس وصولی پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ ادارہ ٹیکس وصولی کے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ہے اور حکومت اپنی انتظامی کمزوریوں کا بوجھ عوام پر نئے ٹیکسز کی صورت میں ڈال رہی ہے

    ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر کے موجودہ نظام کے بجائے براہ راست ٹیکس وصولی کا مؤثر اور شفاف نظام تشکیل دیا جائے۔ پٹرول، بجلی اور گیس کے بلوں پر مختلف ٹیکسز عائد کرکے عوام کو مسلسل مالی دباؤ میں رکھا جا رہا ہے

    حافظ نعیم الرحمان نے ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی نے غریب طبقے، مزدوروں، کسانوں اور نوجوانوں کو شدید متاثر کیا ہے

    ان کے مطابق آٹے کی قیمت 160 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے جبکہ بعض علاقوں میں روٹی بھی 20 سے 25 روپے میں فروخت ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عام آدمی کے لیے روزمرہ اخراجات پورے کرنا مشکل ہوتا جارہا ہے

    جماعت اسلامی کے امیر نے حکومت کی زرعی پالیسیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ کسان ہر فصل کے بعد مزید قرضوں میں جکڑتا جارہا ہے، حکومت نے زراعت کے شعبے کو بھی مشکلات سے دوچار کردیا ہے

    پنجاب میں سرکاری اسکولوں کی آؤٹ سورسنگ کے معاملے پر حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومت تعلیم کی ذمہ داری سے دستبردار ہونے کے بجائے سرکاری تعلیمی اداروں کو بہتر بنائے اور بچوں کو معیاری تعلیم کی فراہمی یقینی بنائے

    انہوں نے الزام عائد کیا کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی حکومتیں نااہلی اور کرپشن کا امتزاج ہیں، جبکہ موجودہ حکومت نے عوام پر قرضوں کا بوجھ مزید بڑھا دیا ہے

    حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی کا مطالبہ واضح ہے کہ حکومت عوام کی آواز سنے، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ واپس لے اور فوری ریلیف فراہم کرے

    انہوں نے لاہور کے نوجوانوں اور شہریوں سے جماعت اسلامی کے دھرنے میں بھرپور شرکت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی کے دھرنے تینوں مقامات پر جاری ہیں اور بلوچستان میں بھی احتجاجی سلسلہ شروع کیا جائے گا

    ان کا کہنا تھا کہ پٹرولیم لیوی ختم کیے بغیر عوام کو حقیقی ریلیف فراہم نہیں کیا جاسکتا۔ جماعت اسلامی عوام کے لیے ریلیف چاہتی ہے اور اسے کسی ذاتی یا سیاسی فائدے کی ضرورت نہیں

    حافظ نعیم الرحمان نے ایک بار پھر حکومت پر زور دیا کہ وہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ فوری واپس لے، بصورت دیگر جماعت اسلامی احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کرنے سمیت ملک گیر ہڑتال کی جانب بھی جاسکتی ہے۔

  26. لاہور میں شرکا کی بڑی تعداد دھرنا گاہ پہنچ گئی، قافلوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔

    امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری سمیت دیگر قائدین کی قیادت میں ہزاروں افراد پر مشتمل قافلہ اجتماعی ریلی کی صورت میں دھرنا گاہ کی جانب رواں دواں ہے۔ مختلف علاقوں سے کارکنوں اور شرکا کی آمد کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ دھرنا گاہ میں بھی لوگوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

  27. حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے لیے متحرک

    جماعت اسلامی کے دھرنوں نے اپنا اثر دکھانا شروع کردیا ہے۔ حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کیلئے کوششیں تیز کردی ہیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے ایندھن کی قیمتوں کے حوالے سے عوامی ریلیف کیلئے فوری اقدامات کی ہدایت کردی۔

    وزیراعظم شہباز شریف سے وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے ملاقات کی۔ جس میں عوام کو ایندھن کی قیمتوں میں ممکنہ ریلیف فراہم کرنے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک اور رکن قومی اسمبلی حمزہ شہباز بھی شریک تھے۔

    وزیراعظم نے ایندھن قیمتوں کے حوالے سے عوامی ریلیف کیلئے فوری اقدامات کی ہدایت کردی۔ شہباز شریف نے وزیرِ پیٹرولیم کو فوری کراچی پہنچن کر آئل ریفائینریز سے مذاکرات کرنے کی ہدایت کی، کہا وزیرپیٹرولیم مقامی طور پر تیار ڈیزل قیمتوں میں کمی کیلئے اقدامات یقینی بنائیں۔

    شہباز شریف نے کہا کہ ڈیزل کی مقدار کا زیادہ ترحصہ مقامی ریفائینریز میں تیار ہوتا ہے، قیمتوں میں کمی کیلئے وزیرپیٹرولیم بذات خود ریفائینریز سے مذاکرات جلد ازجلد مکمل کریں، جس قدر ممکن ہو عوام تک فوری ریلیف پہنچایا جائے۔

    شہباز شریف نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ عوام کو زیادہ سے زیادہ فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ایندھن کی قیمتوں میں کمی کے امکانات کو عوام تک منتقل کیا جائے۔


  28. دھمکیوں یا سڑکیں بلاک کرنے سے ملاقاتیں نہیں ہوں گی، طلال چوہدری

    وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے واضح کیا ہے کہ دھمکیوں، ڈکٹیٹ کرنے، سڑکیں بلاک کرنے یا حملوں کے ذریعے ملاقات نہیں ہوگی۔

    انہوں نے کہا کہ حکومت کا موقف بالکل کلیئر تھا اور جیل مینوئل کے تحت صرف عدالت ہی ملاقات کا حکم دے سکتی ہے۔

    طلال چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ حکومت نے کبھی کسی کی صحت پر سیاست نہیں کی، اس لیے مخالفین بانی پی ٹی آئی کی صحت کو اپنے سیاسی ایجنڈے کے لیے استعمال نہ کریں۔

  29. حکمرانوں نے معیشت، تعلیم اور ترقی کی شاہراہیں روک رکھی ہیں، اب عوام کی زندگی کی شاہراہیں کھلوانی ہیں: حافظ نعیم الرحمان

    لاہور: امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ لاہور کے دھرنے میں عوام کی بڑی تعداد میں شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ جماعت اسلامی کا لاہور میں دوبارہ احیا ہوچکا ہے، ہم اپنے دھرنوں کے ذریعے حکمرانوں کو پیچھے دھکیلیں گے۔

    دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ آج کے دھرنے کا پنڈال صرف لاہوریوں نے بھر دیا ہے، اب دیگر اضلاع کے ساتھ لاہور سے بھی عوام کی شرکت روزانہ کی بنیاد پر ہوگی۔

    انہوں نے کسان بورڈ، پیما، وکلا اور دیگر تنظیموں سے دھرنے میں شرکت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی نچلی سطح تک اپنا نیٹ ورک رکھتی ہے اور پاکستان کو ایسی ہی جماعت کی ضرورت ہے۔

    حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ عوام خاندانوں اور شخصیات کی سیاست سے بیزار ہوچکے ہیں، جبکہ ظالم ٹولہ اقتدار میں آنے کے بعد عوام کو بھول جاتا ہے۔ ان کے بقول گندم مافیا، شوگر مافیا اور آئی پی پیز مافیا تمام سیاسی جماعتوں میں موجود ہیں اور حکمران ان مافیاز کے خلاف نہیں اٹھیں گے، یہ کام جماعت اسلامی کو کرنا ہوگا۔

    انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پٹرولیم لیوی ریفائنریوں کی بہتری اور اسٹوریج کے لیے بنائی گئی تھی، لیکن حکومت اب تک پٹرولیم لیوی کی مد میں 8 ہزار ارب روپے سے زائد وصول کرچکی ہے۔

    حافظ نعیم الرحمان نے دعویٰ کیا کہ رواں سال حکومت نے آئی ایم ایف اور اپنے مقررہ ہدف سے بھی زیادہ لیوی جمع کی ہے۔ ان کے مطابق جن لوگوں پر ٹیکس لاگو نہیں ہوتا، ان سے بھی لیوی کے نام پر رقم وصول کی جارہی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ حکومت نے ڈیزل کی قیمت میں 32 روپے کمی کی، لیکن اس معاملے میں بھی عوام کے ساتھ دو نمبری کی گئی۔ ان کے بقول مقامی اور درآمد شدہ تیل کی قیمتیں یکساں رکھ کر عوام کو نقصان پہنچایا گیا جبکہ اس وقت چند لوگوں کو فائدہ اور پوری قوم کو بوجھ اٹھانا پڑ رہا ہے۔

    امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ پٹرولیم لیوی کی صورت میں عوام پر عائد یہ بوجھ کسی صورت قابل قبول نہیں اور حکومت کو بتانا ہوگا کہ لیوی کے نام پر ہونے والی مبینہ لوٹ مار کیوں جاری ہے۔

    آئی پی پیز کے معاملے پر حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ حکومت پہلے کہتی تھی کہ آئی پی پیز سے بات نہیں ہوسکتی، لیکن اب خود کہہ رہی ہے کہ آئی پی پیز سے مذاکرات کے نتیجے میں قومی خزانے کو 4300 ارب روپے کا فائدہ ہوا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ حکومت کے اپنے اخراجات ایک ہزار ارب روپے سے تجاوز کرچکے ہیں، اس لیے حکمران اور افسران اپنی شاہانہ مراعات اور اخراجات کم کریں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بڑی سرکاری گاڑیاں ختم کرکے حکمران اور افسران 1300 سی سی گاڑیوں میں سفر کریں۔

    حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکمرانوں کو مفت بجلی اور مفت پٹرول سمیت دیگر مراعات ختم کرنا ہوں گی، جبکہ آئی پی پیز کیپسٹی پیمنٹ کے نام پر عوام کو لوٹ رہے ہیں۔

    ان کے مطابق جو بجلی پیدا ہی نہیں ہوتی، اس کی قیمت بھی عوام سے وصول کی جارہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آئی پی پیز کیپسٹی پیمنٹ لینے کے باوجود انکم ٹیکس بھی ادا نہیں کرتے، جبکہ ری گیسیفکیشن پلانٹس اور مٹیاری سے لاہور تک ٹرانسمیشن لائن کے لیے بھی کیپسٹی پیمنٹ وصول کی جارہی ہے۔

    شوگر مافیا پر تنقید کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ شوگر ملز کسانوں کو پوری قیمت ادا نہیں کرتیں، پھر قلت کا دعویٰ کرکے چینی مہنگی کی جاتی ہے اور بعد ازاں چینی درآمد کی جاتی ہے۔

    انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے 6 لاکھ 65 ہزار ٹن چینی درآمد کی اور اس پر ٹیکس بھی ادا نہیں کیا گیا، تاہم چینی درآمد کرنے کے باوجود اس کی قیمت کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ گئی۔ اب حکمران کہہ رہے ہیں کہ چینی زائد ہوگئی ہے اور اسے برآمد کرنا پڑے گا۔

    حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پہلے چینی درآمد اور پھر برآمد کرکے عوام کو نقصان پہنچایا گیا، جبکہ حکومت ان معاملات پر مافیاز کے خلاف کارروائی نہیں کرتی۔

    انہوں نے کہا کہ عوام کو روٹی نہیں مل رہی جبکہ طاقتور طبقہ مزید طاقتور ہوتا جارہا ہے۔ حکمرانوں نے معیشت، تعلیم، ترقی اور علاج کا راستہ روک رکھا ہے اور عوام کی جمہوری رائے پر بھی پابندیاں عائد کی جاتی ہیں۔

    امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ دھرنے کے باعث راستے بند ہونے پر بعض لوگ پریشان ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ جماعت اسلامی عوام کی زندگی کی شاہراہیں کھلوانا چاہتی ہے۔ ہم عزت کے ساتھ اس ملک میں جینا اور آگے بڑھنا چاہتے ہیں اور اپنا جمہوری و آئینی حق استعمال کررہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کا احتجاج پرامن ہے، حکومت اگر اپنا شوق پورا کرنا چاہتی ہے تو کرکے دیکھ لے، ہم ڈٹے رہیں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ حکومت تصادم کی طرف نہ آئے، ورنہ پورا لاہور بند کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    حافظ نعیم الرحمان نے حکومت کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ بات کرنی ہے تو آکر بتائیں کہ پٹرولیم لیوی کا بوجھ کیسے ختم کرنا ہے، آئی پی پیز اور چینی مافیا کو کیسے لگام ڈالنی ہے اور عوام کو حقیقی ریلیف کیسے دینا ہے۔

    انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ مایوس ہوکر گھروں میں بیٹھنے کے بجائے جماعت اسلامی کا ساتھ دیں۔ ان کے بقول جماعت اسلامی عوام کا ہاتھ تھامے گی اور انہیں عزت دے گی۔

    حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ حکمرانوں کی نااہلی، کرپشن اور مراعات کا بوجھ عوام پر ڈالا جارہا ہے، تاہم جماعت اسلامی اس نظام کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔

  30. 13 ربیع الاول کو ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کیا جائے گا، حافظ نعیم الرحمان

    امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی اسلام آباد کی جانب پیدل مارچ کرے گی اور راستے میں عوام کو ساتھ ملاتے ہوئے آگے بڑھے گی، جبکہ ملک بھر میں جاری دھرنوں کو مزید طویل کیا جائے گا۔

    دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی گراس روٹ لیول کی جماعت ہے اور کارکن اسلام آباد پہنچ کر دکھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے سمندر کے اسلام آباد پہنچنے کے وقت سے حکمرانوں کو ڈرنا چاہیے۔

    انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پٹرولیم لیوی ختم، پٹرول کی قیمت کم اور آئی پی پیز کو لگام دی جائے جبکہ روٹی کی قیمت 10 روپے مقرر کی جائے۔

    حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی جس مسئلے کے پیچھے پڑ جائے اس کا پیچھا نہیں چھوڑتی۔ مسئلہ کسی ایک سیاسی جماعت کا نہیں بلکہ پورے نظام کا ہے اور اس نظام کو جڑ سے تبدیل کرنا ہوگا۔

    انہوں نے کہا کہ اقتدار میں بیٹھے افراد عوام کا حق مارتے اور ظلم کرتے ہیں، تاہم جماعت اسلامی عوام کی طاقت سے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔

    امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ جماعت اسلامی دیگر سیاسی جماعتوں سے مختلف ہے، انتخابات پر یقین رکھتی ہے اور کسی کے لیے انتخابی میدان خالی نہیں چھوڑے گی۔ ان کے مطابق جماعت اسلامی عوام کو متناسب نمائندگی کے نظام کے بارے میں بھی آگاہ کرے گی۔

    حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکا مارنے والے ملک کو ڈیلیور نہیں کر سکتے، جماعت اسلامی چور دروازے یا فارم 47 کے ذریعے اقتدار میں نہیں آئے گی بلکہ برسرِزمین جدوجہد کرے گی۔

    انہوں نے کہا کہ انتخابات جماعت اسلامی کے لیے راستہ ہوسکتے ہیں لیکن منزل نہیں، اصل مقصد ظالمانہ نظام کو تبدیل کرکے عدل و انصاف پر مبنی نظام قائم کرنا ہے۔

    حافظ نعیم الرحمن نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی دھرنا ختم نہیں کرے گی بلکہ اسے مزید طویل کیا جائے گا۔ ان کے مطابق قافلہ مسلسل بڑھ رہا ہے اور لوگ دھرنے میں شریک ہو رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ انقلاب صرف منظم جدوجہد کے ذریعے لایا جاسکتا ہے اور عوام دھرنے کو مزید طویل کرنے کے لیے تیار رہیں۔

    حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ اسلام آباد میں آٹھ مقامات پر لوگ دھرنا دیکھ رہے اور تقریریں سن رہے ہیں، جبکہ پورے پاکستان میں بڑی اسکرینیں لگا کر عوام کو جمع کیا جائے گا۔

    انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کسی کو زبردستی دھرنے میں نہیں لاتی بلکہ عوام حق اور سچ کا ساتھ دیتے ہوئے خود شریک ہوتے ہیں۔

    امیر جماعت اسلامی نے آئندہ کے احتجاجی پروگرام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ 28 اگست کو فیصل آباد اور 30 اگست کو راولپنڈی میں بڑے جلسے کیے جائیں گے، جبکہ 4 ستمبر کو سوات اور 11 ستمبر کو ہزارہ میں جلسہ عام ہوگا۔

    ان کے مطابق لاہور، کراچی اور پشاور میں جاری دھرنے بھی جاری رہیں گے جبکہ 13 ربیع الاول کو ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کیا جائے گا۔

مزید خبریں