انہوں نے کہا کہ پنجاب اسمبلی کی جانب سے منظور کیا گیا بل ایک کالا قانون ہے کیونکہ آئین کے آرٹیکل 140 اے میں واضح طور پر درج ہے کہ اختیارات نچلی سطح پر عوام کو منتقل کیے جائیں۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ تمام صوبائی حکومتیں عوامی اختیارات اپنے پاس رکھنا چاہتی ہیں اور بلدیاتی انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاہور جیسے بڑے شہر کو میٹروپولیٹن کا درجہ تک نہیں دیا جا رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ اسمبلیوں میں ہارس ٹریڈنگ کرتے ہیں، اب وہ چاہتے ہیں کہ چار ہزار یونین کونسلوں میں انسانوں کی منڈیاں لگائی جائیں، جو کسی صورت قبول نہیں۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی عدالت سے درخواست کر رہی ہے کہ آئین اور قانون کے مطابق فیصلہ کیا جائے، تاہم ساتھ ہی عوامی عدالت کا بھی دروازہ کھٹکھٹایا جائے گا۔ حافظ نعیم الرحمان نے اعلان کیا کہ 15 جنوری سے عوامی ریفرنڈم کا آغاز کیا جائے گا جو گلی گلی اور گاؤں گاؤں تک پھیلے گا۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی بلدیاتی انتخابات کو جمہوریت کی نرسری سمجھتی ہے اور اسی بنیاد پر صوبائی سطح پر ریفرنڈم کمیشن بھی بنایا جائے گا جس میں بااثر اور معتبر افراد کو شامل کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ جس اسمبلی نے یہ کالا قانون منظور کیا، اس کا بہت جلد گھیراؤ کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ن لیگ کی حکومت نے جو کچھ کیا، وہی پی ٹی آئی نے بھی کیا اور دونوں نے چھ چھ سات سات بار آئین میں ترامیم کیں۔ انہوں نے الیکشن کمیشن سے سوال کیا کہ اس کا اصل کام انتخابات کرانا ہے مگر جہاں عمل ہونا چاہیے وہاں صرف نوٹیفکیشن جاری کر دیے جاتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ الیکشن کمیشن فوری طور پر بلدیاتی انتخابات کروائے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ سرمایہ دار پورا کا پورا الیکشن چرا لیتے ہیں، اب اس نظام کا خاتمہ ضروری ہو چکا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سرکار کا کام نجی شعبے کو کیسے دیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کو ایک جہاز کی قیمت پر بیچ دیا گیا اور اب توقع کی جا رہی ہے کہ عوام سوال بھی نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری ایئرلائن بیچ دینا اور جواب دہی سے بچنا کسی صورت درست نہیں۔

انہوں نے کہا کہ جو طرزِ عمل سندھ کی حکومت نے اپنایا، اب وہی طرزِ عمل پنجاب کی حکومت بھی اپنا رہی ہے۔ خارجہ امور پر بات کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پاکستان کا وقار اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ ہم ڈونلڈ ٹرمپ کی خوشامدیں کریں۔ انہوں نے سوال کیا کہ جب اسرائیل سے لڑنے کی ہمت نہیں تو کیا امن قائم کرنے کے لیے اسرائیلی فوج سے لڑا جائے گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی فوج کا کام اپنے ملک کا دفاع کرنا اور کشمیر کے محاذ کی حفاظت کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اپنی فوج غزہ نہیں بھیجنی چاہیے بلکہ مسئلہ فلسطین اور غزہ کے حوالے سے واضح، خوددار اور اصولی مؤقف اپنانا ہوگا۔