خانیوال میں جے یو آئی (ف) کے رہنما علامہ اکرام القادری کی عیادت کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ملک پہلے ہی سیاسی اور انتظامی مشکلات سے دوچار ہے، ایسے میں نئے صوبوں کی بحث چھیڑنا مسائل کا حل نہیں، پاکستان کے دو صوبے اس وقت مختلف بحرانوں اور مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، لیکن حکومت ان مسائل کو حل کرنے کے بجائے نئے صوبے بنانے کی بات کر رہی ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ حکومت عوام کا اعتماد مکمل طور پر کھو چکی ہے، اس لیے ایسے اقدامات جن کے دور رس سیاسی اور انتظامی اثرات ہوں، ان پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے، 15 صوبے بنانے کا حکومتی فیصلہ درست نہیں اور اس کے نتیجے میں ملک کے انتظامی مسائل حل ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہوسکتے ہیں۔
جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے سابق فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے فیصلے پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ فاٹا انضمام کا فیصلہ بھی بدترین ثابت ہوچکا ہے، ماضی میں کیے گئے فیصلوں کے نتائج کو سامنے رکھے بغیر مزید انتظامی تبدیلیوں کی طرف بڑھنا مناسب نہیں ہوگا۔
مولانا فضل الرحمان نے ملک میں جاری سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جے یو آئی (ف) مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ رابطے میں ہے اور پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف سے بھی بات چیت جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکرات کے ذریعے اسمبلی میں مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ سیاسی حالات میں اپوزیشن جماعتوں کے درمیان رابطہ اور باہمی مشاورت ضروری ہے تاکہ اہم قومی اور آئینی معاملات پر مشترکہ مؤقف اختیار کیا جاسکے۔ مولانا فضل الرحمان کے مطابق سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن ملک کے وسیع تر مفاد میں اہم معاملات پر سیاسی قوتوں کو ایک دوسرے سے بات کرنی چاہیے۔
جے یو آئی (ف) کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ملک میں عوام کو درپیش مسائل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے اور حکومت کو ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جن سے سیاسی بے یقینی میں اضافہ ہو۔ انہوں نے ایک بار پھر 15 صوبے بنانے کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ نئے صوبوں کا فیصلہ ملک کی موجودہ صورتحال میں مناسب نہیں۔







