اوپن اے آئی کے مطابق GPT-6 Astra میں کمپیوٹر استعمال، ویب براؤزنگ، سافٹ ویئر انجینئرنگ، سائبر سیکیورٹی، سائنس اور پیشہ ورانہ کاموں کے حوالے سے نمایاں بہتری لائی گئی ہے۔ ماڈل پیچیدہ کاموں کو متعدد مراحل میں تقسیم کرکے انہیں مختلف ڈیجیٹل ٹولز کے ذریعے مکمل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
صرف جواب نہیں، پورا کام مکمل کرنے کی صلاحیت
GPT-6 Astra کی اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ صرف سوال کا جواب دے کر رکنے کے بجائے پیچیدہ درخواست کو مختلف مراحل میں تقسیم کرکے کمپیوٹر ماحول میں عملی طور پر انجام دے سکتا ہے۔
اوپن اے آئی کے مطابق یہ ماڈل آن لائن فارمز پُر کرنے، کسٹمر ریکارڈز اپ ڈیٹ کرنے، کیلنڈرز منظم کرنے، ویب پر تحقیق کرنے اور حاصل شدہ معلومات کی بنیاد پر خلاصے تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اس کے علاوہ GPT-6 Astra دستاویزات، اسپریڈ شیٹس اور پریزنٹیشنز تیار کرسکتا ہے، ویب سائٹس بنا سکتا ہے، ڈیٹا کا تجزیہ کرسکتا ہے، سافٹ ویئر انسٹال اور ٹیسٹ کرسکتا ہے جبکہ ویب سائٹس کے فرنٹ اینڈ کی جانچ بھی کرسکتا ہے۔
صارف ہدایات تبدیل کرے تو ماڈل بھی راستہ بدل سکتا ہے
کمپنی کے مطابق GPT-6 Astra طویل اور پیچیدہ کام کے دوران صارف کی جانب سے نئی ہدایات دیے جانے پر اپنا طریقہ کار تبدیل کرسکتا ہے اور نئی ضروریات کے مطابق کام جاری رکھ سکتا ہے۔
اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ یہ ماڈل خاص طور پر ایسے معیاری دستاویزات، اسپریڈ شیٹس اور پریزنٹیشنز تیار کرنے میں بہتر ہے جو صارف کے پہلے سے موجود ٹیمپلیٹس، ہدایات اور کام کے انداز کے مطابق ہوں۔
GPT-6 Astra نے رفتار میں بھی نمایاں بہتری دکھائی
اوپن اے آئی کے مطابق OSWorld 2.0 کی latency simulations میں GPT-6 Astra نے GPT-5.6 Sol کے مقابلے میں کمپیوٹر استعمال کرنے والے کام تقریباً 47 فیصد کم وقت میں مکمل کیے۔ کمپنی کے مطابق Astra نے تقریباً 40 منٹ فی کام کے حساب سے 72.6 فیصد اسکور حاصل کیا، جبکہ GPT-5.6 Sol نے تقریباً 75 منٹ فی کام کے حساب سے 65.7 فیصد اسکور حاصل کیا۔
ایک لاکھ سے زائد GPUs پر تربیت
GPT-6 Astra کی تیاری میں استعمال ہونے والی کمپیوٹنگ طاقت بھی توجہ کا مرکز ہے۔ اوپن اے آئی کے مطابق کمپنی نے ٹیکساس میں قائم اپنی Stargate تنصیب پر پہلی مرتبہ کسی ماڈل کی پری ٹریننگ کے لیے ایک لاکھ سے زائد GPUs استعمال کیے۔
کمپنی کے مطابق بڑے پیمانے پر ہونے والی یہ تربیتی کارروائی جدید مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی بڑھتی ہوئی کمپیوٹنگ ضروریات کو ظاہر کرتی ہے۔
سائنس اور کوڈنگ میں بھی بڑی پیش رفت
اوپن اے آئی کے مطابق GPT-6 Astra سافٹ ویئر انجینئرنگ کے لیے کمپنی کا اب تک کا بہترین ماڈل ہے، جبکہ سائنسی تحقیق، ریاضی اور ڈیٹا کے تجزیے میں بھی اس کی صلاحیتوں کو بہتر بنایا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق Astra سائنسی سافٹ ویئر کے ساتھ براہِ راست کام کرتے ہوئے ڈیٹا کا جائزہ لے سکتا ہے، نتائج کا تجزیہ کرسکتا ہے اور محققین کو آئندہ تحقیق کے لیے اہم نکات کی نشاندہی میں مدد دے سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی میں خطرناک حد تک طاقتور صلاحیتیں
GPT-6 Astra کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کے ساتھ اس کے حفاظتی پہلو بھی اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔ اوپن اے آئی کے مطابق Astra سائبر سیکیورٹی میں Critical سطح تک پہنچنے والا کمپنی کا پہلا ماڈل ہے۔
کمپنی کے مطابق مناسب ٹولز اور رسائی فراہم کیے جانے کی صورت میں ماڈل پہلے سے نامعلوم سیکیورٹی کمزوریوں کی نشاندہی اور ان کے استحصال کے طریقے تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس کے باعث ماڈل کی نگرانی اور حفاظتی اقدامات کو مزید مضبوط کیا گیا ہے۔
صارفین کے لیے کب دستیاب ہوگا؟
اوپن اے آئی کے مطابق GPT-6 Astra کی رسائی ابتدائی طور پر محدود اداروں کو دی جارہی ہے، جبکہ آنے والے دنوں میں ChatGPT Plus، Pro، Business اور Enterprise صارفین کے ساتھ ساتھ API کے ذریعے ڈویلپرز کے لیے بھی دستیابی بڑھائی جائے گی۔ ماڈل Microsoft Azure اور AWS Bedrock کے ذریعے بھی فراہم کیا جائے گا۔
اوپن اے آئی کے مطابق GPT-6 Astra محض ایک چیٹ بوٹ اپ گریڈ نہیں بلکہ ایسے مصنوعی ذہانت کے نظام کی جانب پیش رفت ہے جو پیچیدہ استدلال کے ساتھ کمپیوٹر، ویب اور مختلف سافٹ ویئر ٹولز استعمال کرتے ہوئے مکمل ورک فلو انجام دے سکتے ہیں۔







