حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی کی جانب سے عوامی مسائل کے حل کے لیے جاری دھرنے اور حکومت سے مذاکرات ساتھ ساتھ جاری رہیں گے۔ حکومت جتنی تاخیر کرے گی، عوامی دھرنوں اور احتجاج کا دائرہ اتنا ہی وسیع کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں درجنوں مقامات پر دھرنے جاری ہیں جبکہ بلوچستان میں 20 مقامات پر دھرنے دیے جا رہے ہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر دھرنے دینا اور لوگوں کو گھروں سے نکالنا آسان کام نہیں، تاہم عوام کا جماعت اسلامی کی کال پر ردعمل زبردست رہا ہے۔

امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ ہماری احتجاجی کال ہمیشہ پرامن ہوتی ہے، ہم کسی کو زبردستی نہیں کرتے بلکہ پرامن طریقے سے عوام کو اپنی آواز بلند کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پیٹرولیم لیوی اور بھتے کے حوالے سے عوام کو مکمل آگاہی ہوچکی ہے۔ اگر جماعت اسلامی عوام کی آواز نہ اٹھاتی تو پیٹرول کی قیمت 500 روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پالیسی ریٹ میں 3 فیصد کمی کی جائے، اس صورت میں پیٹرولیم لیوی لینے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر عالمی سطح پر تیل مہنگا ہے تو حکومت کو پیٹرولیم لیوی ختم کردینی چاہیے۔

حافظ نعیم الرحمان نے ریفائنریوں اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے مارجن کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کے مارجن بہت زیادہ ہیں، جبکہ حکومت عوام کو ریلیف دینے کے بجائے ان شعبوں کو فائدہ پہنچا رہی ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے الزام عائد کیا کہ بجلی، تیل اور گیس سمیت ہر شعبے پر ایک مافیا کا قبضہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایل این جی نہ آنے کے باوجود ری گیسفیکیشن پلانٹس کو پیسے ملتے رہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو بنیادی اشیائے ضروریہ میں بھی ریلیف دیا جائے اور روٹی کی قیمت 10 روپے مقرر کی جائے۔

انہوں نے شوگر مافیا کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اسے حکومت کی جانب سے فائدہ پہنچایا جا رہا ہے۔

جماعت اسلامی کے امیر نے ملک کے بڑھتے ہوئے قرضوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قرض پر ہر سال ہزاروں ارب روپے سود ادا کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق پالیسی ریٹ میں ایک فیصد اضافہ قرض کے بوجھ میں 594 ارب روپے کا اضافہ کرتا ہے جبکہ 7 ہزار ارب روپے مقامی بینکوں سے قرض لیا گیا ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے ایف بی آر کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ادارے کی نااہلی کے باعث 1300 ارب روپے کی براہ راست کرپشن ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں اور بیوروکریسی کی عیاشیوں کا بوجھ غریب عوام پر ٹیکسوں کی صورت میں ڈالا جا رہا ہے جبکہ حکومت بینکوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے عوام پر بوجھ بڑھا رہی ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے پنجاب میں تعلیمی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ نویں جماعت کے 50 فیصد طلبہ فیل ہوئے ہیں۔ انہوں نے پمز میں نومولود بچوں کی ہلاکت کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس سانحے نے سب کی آنکھیں کھول دی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عوام کو بنیادی سہولیات اور ریلیف فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے اور جماعت اسلامی عوام کے حقوق کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ حکومت بالآخر پیچھے ہٹے گی، تاہم اگر حکومت نے عوام کو ریلیف نہ دیا تو جماعت اسلامی عوامی دباؤ مزید بڑھائے گی۔

انہوں نے پیپلز پارٹی کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ مفاہمت اور سودے بازی کے ذریعے جمہوریت کو نقصان پہنچایا ہے۔