خواجہ محمد آصف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں پیپلز پارٹی کی پالیسی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ وہ اس جماعت کی دو رخی پالیسی کے پیچھے کچھ اور دیکھتے ہیں۔ اختیارات کی منتقلی کا معاملہ 18ویں ترمیم کے ذریعے طے کیا جاچکا ہے، تاہم اس پر مکمل طور پر عمل درآمد نہیں ہوسکا۔

وزیر دفاع نے کہا کہ موجودہ نظام اختیارات کے ارتکاز کے باعث متروک ہوچکا ہے اور اب اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنا ناگزیر ہے، صوبوں یا انتظامی یونٹس کو کوئی بھی نام یا لیبل دیا جائے، اصل مسئلہ اختیارات کی منصفانہ تقسیم اور نچلی سطح تک منتقلی کا ہے۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اگر سرائیکی صوبے کی بات کی جائے تو پیپلز پارٹی اس معاملے پر نرم گوشہ اختیار کرتی ہے، لیکن جب مزید انتظامی یونٹس یا نئے صوبوں کی بات سامنے آتی ہے تو سندھ کی تقسیم کے خدشات ظاہر کیے جاتے ہیں اور سندھو دیش کا ذکر شروع ہوجاتا ہے۔

وزیر دفاع کے بیان ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ملک میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کے حوالے سے سیاسی بحث دوبارہ شدت اختیار کر رہی ہے۔ سندھ اسمبلی کی جانب سے صوبے کی تقسیم کے خلاف قرارداد کی منظوری کے بعد مختلف سیاسی رہنماؤں کی جانب سے اس معاملے پر بیانات سامنے آ رہے ہیں۔

اس سے قبل وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے بھی نئے صوبوں کے معاملے پر مسلم لیگ ن کا مؤقف واضح کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی جماعت سمجھتی ہے کہ موجودہ حالات میں نئے صوبوں پر بات قبل از وقت ہے۔

خواجہ آصف نے اپنے بیان میں 18ویں ترمیم کے ذریعے اختیارات کی منتقلی کے معاملے کو بھی اہم قرار دیا ہے، صوبوں کو اختیارات کی منتقلی کا اصول پہلے ہی طے ہوچکا ہے، تاہم اس کے عملی نفاذ میں اب بھی کئی مسائل موجود ہیں۔

خواجہ آصف کے مطابق اختیارات کا ارتکاز کسی ایک سطح پر رکھنا مؤثر حکمرانی کے لیے مناسب نہیں، بلکہ عوام کو سہولیات کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ صوبوں یا انتظامی یونٹس کے نام اور تعداد سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ انتظامی نظام کو عوام کی ضروریات کے مطابق مؤثر بنایا جائے اور اختیارات کی تقسیم منصفانہ انداز میں کی جائے۔

دوسری جانب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے سندھ اسمبلی میں ہونے والی تقاریر کو غیر ضروری قرار دیا اور کہا کہ صوبوں کے معاملے پر جس طرح کی حدت اور شدت پیدا کی گئی، وہ مناسب نہیں تھی۔

رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ سندھ اسمبلی نے نئے صوبوں یا سندھ کی تقسیم کے خلاف جو قرارداد منظور کی ہے، اس نوعیت کی قراردادیں اس سے قبل بھی منظور ہوچکی ہیں، اس معاملے پر سندھ اسمبلی میں ہونے والی بحث میں غیر ضروری طور پر شدت پیدا کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی میں تقریر کے دوران قومی اسمبلی کو بھی غیر ضروری طور پر نشانہ بنایا گیا، حالانکہ صوبوں کے قیام یا انتظامی یونٹس کے معاملے پر سیاسی جماعتوں کو سنجیدگی اور تحمل کے ساتھ بات کرنی چاہیے۔

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور نے کہا کہ پیپلز پارٹی سیاست میں رہنے کے لیے یہ سب کچھ کر رہی ہے، تاہم یہ حقیقت بھی ہے کہ سندھ کی تقسیم کا معاملہ پیپلز پارٹی کی سیاست کے لیے انتہائی اہم ہے۔

رانا ثناء اللہ کے مطابق نئے صوبوں کا معاملہ محض انتظامی نوعیت کا نہیں بلکہ اس کے سیاسی اور آئینی پہلو بھی ہیں، اس لیے اس پر کسی بھی قسم کی پیش رفت کے لیے وسیع سیاسی اتفاق رائے ضروری ہوگا۔

یاد رہے کہ ملک میں نئے صوبوں کے قیام کی بحث ایک عرصے سے جاری ہے۔ جنوبی پنجاب اور سرائیکی صوبے کے قیام کا مطالبہ بھی مختلف سیاسی اور علاقائی حلقوں کی جانب سے وقتاً فوقتاً سامنے آتا رہا ہے، جبکہ سندھ میں صوبے کی تقسیم یا نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی بات پر پیپلز پارٹی کی جانب سے شدید مخالفت کی جاتی رہی ہے۔

حالیہ سیاسی بیانات کے بعد ایک مرتبہ پھر یہ بحث زور پکڑ گئی ہے کہ ملک میں انتظامی بنیادوں پر نئے یونٹس کے قیام، اختیارات کی تقسیم اور 18ویں ترمیم پر مکمل عمل درآمد کے معاملات کو کس انداز میں آگے بڑھایا جائے۔

سیاسی حلقوں میں اس معاملے پر مختلف آرا پائی جاتی ہیں، تاہم موجودہ صورتحال میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے بیانات سے واضح ہے کہ نئے صوبوں اور سندھ کی تقسیم کا معاملہ آنے والے دنوں میں بھی سیاسی بحث کا اہم موضوع بنا رہ سکتا ہے۔